عمران خان کی مقبولیت کیوں اور کیسے؟

عمران خان کی مقبولیت کیوں اور کیسے؟



ڈاکٹرخادم حسین 

بعض لوگ ایک عارضی اور مصنوعی سیاسی لہر اور ڈرامہ مارچ کی مقبولیت کو مستقل سمجھنے لگے ہیں۔ مفروضہ انکا یہ ہے کہ اس مقبول سیاسی شخصیت کے پاس وہ تمام گر موجود ہیں جو لوگوں کو اپنی طرف راغب کئے رکھتے ہیں۔ یہ دوست سمجھتے ہیں کہ عمران خان اپنا سواد بیچنے کی قابلیت رکھتا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کرسکتا ہے، روایت شکن ہے، اور ایسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کرسکتا ہے۔انہوں نے فرض کرلیا ہے کہ باقی سیاسی جماعتیں روایتی ہیں اور ان میں کشش باقی نہیں رہی۔ یہ دوست بھول جاتے ہیں کہ عمران خان کی شخصیت اور اسکی پی ٹی آئی کو تراشنے میں محکمے نے کتنی سرمایہ کاری کی۔ محکمے کی نگرانی میں سوشل میڈیا کیلئے ہزاروں کارکنان کی تربیت کی گئی، میڈیا میں درجنوں صحافیوں کو اس کام کیلئے تیار کیا گیا۔ اس کیلئے  بیانیہ تراشا گیا، سمندر پار پاکستانیوں میں اس کیلئے زوردار مہم چلائی گئی، غیر محدود میڈیا کوریج کا راستہ ہموار کیا گیا، بڑے بڑے اندرونی اور بیرونی ٹائکونز سے اربوں کی سرمایہ کاری کروائی گئی۔ ایک طرف اسکی شخصیت تراشی گئی اور دوسری طرف سیاسی جماعتوں اور انکی قیادت کی کردار کشی کی مہم چلائی گئی اور انکو میڈیا سے نکال باہر کیا گیا۔ مذہب اور شدت پسندی کو بھی استعمال کیا گیا۔ یہاں تک کہ ٹی ٹی پی، منہاج القرآن اور ٹی ایل پی نے بھی اس کام میں ہاتھ بٹایا۔ تبدیلی، کرپشن سے آزاد پاکستان اور مدینے کی ریاست جیسے نعرے ایجاد کرکے شہری مڈل کلاس کو عمران خان کے گرد جمع کیا گیا۔ بندہ ایماندار ہے جیسے محاوروں کو زبان زد عام کیا گیا۔ ایک جماعتی آمرانہ ہائبرڈ رجیم کو کھڑا کرنے، پختونخوا اور بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، دہشت گردی، قبضہ گری، اغوا گردی اور بھتہ خوری سے عوامی توجہ ہٹانے کیلئے، صوبائی خودمختاری کو ختم کرنے کیلئے، افغانستان میں اپنی پسند کی حکومت لانے کیلئے اور سیاست و جمہوریت کو بدنام کرنے کیلئے عمران خان کی شکل میں ایک مسیحا کا جعلی کردار تراشا گیا۔ اس غیر آئینی پراجیکٹ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے محکمے نے میڈیا، تشہیر اور سوشل میڈیا کے ہر موجود فورم کے ساتھ ساتھ اپنی وسیع کاروباری سلطنت کا ابھی استعمال کیا۔ دولت مند شہری مڈل کلاس کے ایک وسیع حلقے کو غیر سیاسی بنانے کے اس پراجیکٹ میں اس بات کا خیال رکھا گیا کہ پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت کھڑی نہ ہونے پائے۔ اسلئے اس جماعت کا نہ کوئی تنظیمی ڈھانچہ بن پایا اور نہ ہی اسکا کوئی واضح منشور اور اہداف کا تعین کیا گیا۔ اضلاع تو چھوڑئیے پی ٹی آئی ابھی تک صوبائی سطح پر بھی کسی واضح تنظیمی ڈھانچے سے محروم ہے۔ یہ شاید واحد سیاسی جماعت ہے جس میں کسی کارپوریٹ کمپنی کی طرح تعیناتی ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندر شاید صرف ایک دفعہ تنظیمی انتخابات ہوئے جسکے بعد پارٹی کے الیکشن کمشنر جسٹس وجیہ الدین کو بھی پارٹی سے فارغ کیا گیا۔ یہ بات واضح ہے کہ ایک شخصیت کیلئے ایک مصنوعی پارٹی کا سوانگ رچایا گیا۔ پی ٹی آئی ایک شخصیت کے گرد گھومنے والے لوگوں کا جمگھٹا بن کر رہ گیا ہے۔ چونکہ بحیثیت سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے کوئی واضح معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی تبدیلی کے اہداف اور منشور نہیں اسلئے یہ عمران خان کے باہم متضاد بیانات پر تکیہ کئے رکھتی ہے۔ عمران خان کی صورتحال یہ ہے کہ یہ ایک سانس میں چین کے معاشی نظام کی تعریف کرتا ہے اور دوسری سانس میں کینیڈا کی مثال دیتا ہے۔ ایک میں کنٹرولڈ سوشلسٹ معاشی نظام ہے اور دوسرے میں آزاد مارکیٹ کی معیشت ہے۔ ایک سانس میں وہ مدینہ کی ریاست بات کرتا ہے اور دوسری سانس میں وہ ڈنمارک کی تعریف کرتا ہے۔ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک سانس میں وہ افغان طالبان کی امارت اسلامی کے قیام کو غلامی کی زنجیریں توڑنا کہتا ہے اور دوسری سانس میں وہ مغربی جمہوریت کی مدح سرائی کرتا ہے۔ عمران خان کبھی بھی عوام کے بنیادی مسائل پر بات نہیں کرے گا۔ خارجہ پالیسی میں انتہا پسند پرائیوٹ ملیشاں کا ذکر نہیں چھیڑے گا جنکی وجہ سے خطے میں پاکستان تنہا ہوگیا ہے اور تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ وہ شدت پسندی کی مذمت سے کتراتا ہے جسکی وجہ سے پاکستانی معاشرے کے تاروپود بکھر کر رہ گئے ہیں۔ وہ پختونوں اور طالبان کو ایک سمجھتا ہے جو ایک تاریخی دروغ گوئی ہے۔ عمران خان پارلیمانی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے خلاف کھڑا ہے۔ جبکہ پارلیمانی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے بغیر پاکستان کا سیاسی نظام ہمیشہ غیر مستحکم رہے گا۔ عمران خان پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات، دفاعی بجٹ اور خارجہ پالیسی کی بات کبھی نہیں کرے گا جبکہ اسکے بغیر پاکستان کی معیشت ہمیشہ کمزور رہے گی۔ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف نہ کھڑا ہوتا ہے اور نہ ہی کبھی اسکی مذمت کرتا ہے۔ وہ بلوچ اور پختون وسائل پر انکے اختیار کیلئے کبھی آواز نہیں اٹھائے گا۔ اتنے متضاد بیانئے اور اتنے کمزور تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ کوئی سیاست زیادہ عرصے تک کیسے زندہ رہ سکتی ہے؟ یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور حلقوں کی مدد کے بغیر عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی بالخصوص اس صورت میں جبکہ اسکے دائیں بائیں ایسے لوگ ہیں جو کسی بھی حوالے سے اصول پسند سیاست کی شہرت نہیں رکھتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو طاقتور حلقوں کے اشارہ ابرو پر ادھر ادھر لڑھک جاتے ہیں۔ اس بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ اب عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ کا سپورٹ چلا گیا ہے کہ ایک منتخب ایم این اے کو تو ایک تقریر پر مستقل پس زنداں رکھا جاتا ہے جبکہ دوسرا شخص نام لے کے کر برا بھلا کہہ رہا ہے لیکن اسکی میڈیا کوریج سے ایک منٹ کا فرق بھی نہیں آتا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر سپورٹ چلا گیا ہے تو اشاروں پر وفاداریاں تبدیل کرنے والے ابھی تک پی ٹی آئی کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟  اس بات پر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ اب عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ کا سپورٹ چلا گیا ہے کہ ایک منتخب ایم این اے کو تو ایک تقریر پر مستقل پس زنداں رکھا جاتا ہے جبکہ دوسرا شخص نام لے کے کر برا بھلا کہہ رہا ہے لیکن اسکے میڈیا کوریج ایک منٹ کا فرق بھی نہیں آتا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر سپورٹ چلا گیا ہے تو اشاروں پر وفاداریاں تبدیل کرنے والے ابھی تک پی ٹی آئی کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟