ملک نہیں چل رہا تو بوریا بستر لپیٹ کر گھر جائیں، اسفندیار ولی خان

ملک نہیں چل رہا تو بوریا بستر لپیٹ کر گھر جائیں، اسفندیار ولی خان

پشاور(سٹاف رپورٹر) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ ایک طرف نااہلیوں کا اعتراف، دوسری جانب آئی ایم ایف سے معاہدے ہورہے ہیں،وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھا شخص دیوالیہ ہونے کا اعلان کررہا ہے کہ ملک چلانے کیلئے پیسہ نہیں۔ملک کو آئی ایم ایف کے ساتھ گروی رکھ کر بھی ملک نہیں چلایا جارہا تو بوریا بستر لپیٹنا چاہئیے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کو بھی آئی ایم ایف کے خواہشات پر چلایا جارہا ہے، پھر پالیسیاں بھی انکے حکم پر بنیں گی۔

 

ملکی قرضوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صرف رواں مالی سال کے ابتدائی 4ماہ میں 3ارب 90کروڑ ڈالر کے غیرملکی قرضے لیے۔ان کو جواب دینا ہوگا کہ گزشتہ مالی سال بھی 14ارب 28کروڑ ڈالر کے بیرونی قرضے لئے گئے تھے۔آئی ایم ایف کے حکم پر 400ارب کے لگ بھگ اضافی ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔آنیوالے مہینے میں مہنگائی کے بدترین طوفان کی تیاریاں ہورہی ہیں، عوام سے ٹیکسز اور بل وصول کئے جارہے ہیں لیکن سہولت کوئی نہیں۔

 

اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ گیس موجود نہیں، بجلی نہیں دی جارہی، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہیں اور ملک آئی ایم ایف کے حوالہ کردیا گیا ہے۔گیس کی قلت کی ذمہ دار وزیر کے خلاف کیا کوئی کارروائی ہوگی؟ بڑے بڑے دعوے اور چیلنج کرنیوالا کہاں ہے؟ مہنگی ایل این جی کے الزامات پر اپوزیشن کے خلاف کیسز بنائے گئے لیکن نیب حکومتی نااہلی پر کیوں چپ ہے؟مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے، نئے معاہدوں سے ٹیکسز کا بوجھ ایک بار پھر عوام پر ڈالا جائیگا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ 38ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا، اب عوام سے جینے کا حق بھی چھینا جارہا ہے جبکہ دوسری جانب پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کردیا لیکن حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہی نہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، اب دستیاب بھی نہیں ہوگی۔پٹرولیم لیوی بڑھانے کی خوشخبری پہلے ہی سنائی جاچکی ہے، یہ حکومت ناکام ترین معاشی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

 

اسفندیارلی ولی خان نے کہ ملک کو آئی ایم ایف کے اشاروں اور احکامات پر چلایا جارہا ہے اور بوجھ صرف عوام برداشت کررہے ہیں۔وزیراعظم کی جانب سے ریلیف پیکج کس کو دی گئی؟ عوام آج بھی ایک روپے ریلیف کا انتظار کررہی ہے۔اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیے کہ وہ 120ارب روپے کن کی جیبوں میں گئے ہیں؟