شہدا بابڑہ کی یاد میں:12  اگست 1948 کی دلخراش داستانعلاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا

شہدا بابڑہ کی یاد میں:12  اگست 1948 کی دلخراش داستانعلاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا

                                                                 گلزار پختونخوا
آج کا مضمون  ان سرفروشوں، شہدائے بابڑہ کے نام جن کی چورہترویں برسی انتہائی احترام اور عقیدت کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جنہیں بارہ اگست کو چارسدہ شہر کے میونسپل ایریا بابڑہ کے مقام پر بے گناہ ہزاروں کی تعداد میں شہید کیا گیا تھا۔ شہدائے بابڑہ چارسدہ کی یاد رہتی دنیا تک حساس دلوں کو تڑپاتی رہے گی اور حق پرست لوگوں کے ذہنوں میں تروتازہ رہے گی اور کبھی نہیں دھندلائے گی۔ جنہیں محض چند جمہوری مطالبات اور جمہوری احتجاج کے جرم میں گولیوں سے چھلنی کر کے مارا گیا تھا جوکہ بلاشک و شبہ لاقانونیت اور دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ بارہ اگست 1948 کے دن سرخپوش خدائی خدمت گاروں اور عوام کے جلوس پر فائرنگ بلا کسی قانونی وجہ یا جواز کے تھی۔ اس سفاک ایکشن کو اس وقت کی صوبائی حکومت اور انتظامیہ کے سیاسی انتقام کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔


بابڑہ فائرنگ بارہ اگست 1948 کا واقعہ ہے یعنی پاکستان کی پہلی سالگرہ سے صرف دو دن قبل، جس دن نوازئیدہ وطن کے شہری اور مذکورہ واقعہ سے بے خبر پاکستان کے عوام پاکستان کی پہلی سالگرہ تزک و اہتشام کے ساتھ منا رہے تھے اسی دن شہدائے بابڑہ کے گھرانوں میں شہدا کا سوئم تھا۔ 


بارہ اگست 1948 کے شہدائے بابڑہ کی روداد پر برسوں خوف، دہشت اور گمنامی کا سایہ مردہ چھایا رہا کہ بابڑہ میں دراصل کیا ہوا تھا اور صوبہ سرحد کی سیکورٹی فورسز نے جلوس پر جو فائر کا منہ کھولا تھا اس کی اصل وجوہات اور محرکات کیا تھے؟ شہدائے بابڑہ کی داستان سے جس عظیم شخصیت اور قلم کار نے پہلی دفعہ گمنامی کا پردہ اٹھایا، اس سچائی کو انگریزی تحریر کی شکل میں سب سے پہلے خان یحی جان خان نے صوبہ سرحد اور پاکستان کے عوام کے سامنے پیش کیا تھا اور اس طرح فقیدالمثال جرات و دلہری کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس سے قبل کوئی ایسی جرات کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ بابڑہ کا نام جرم ہی نہ تھا بلکہ صوبہ سرحد کی بااختیار اور برسراقتدار حکومت نے عوام کا ڈراؤنا خواب بنا دیا تھا۔ یحی جان خان کی مذکورہ تحریر روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ پشاور میں شائع ہوئی تھی۔


کیونکہ بارہ اگست 1948 کے بعد بیرسٹر عبدالقیوم خان کی صوبائی حکومت نے صوبہ سرحد کے چپہ چپہ پر وہ دہشت خوف اور جبر کا ماحول طاری کیا تھا کہ کوئی شحص بابڑہ کا نام لیتے ہوئے بھی کانپتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ حکومت کے کسی خفیہ ہاتھ یا مخبر کو اس کا پتہ لگ جائے اور وہ گرفتار ہو کر گھر پہنچنے کے بجائے جیل یا موت کی وادی میں نہ پہنچ جائے۔ واقعہ کے تازہ دنوں اور مہینوں میں بابڑہ فائرنگ کا نام لینا جرم بن چکا تھا۔ قیوم خان کی حکومت نے بابڑہ فائرنگ کے اصل واقعات و تناظر کو چھپانے کا پورا پورا بندوبست کیا ہوا تھا۔ متاثرہ خاندان کے افراد انتہائی رازداری اور پردہ داری اور دس کونوں کے اندر بیٹھ کر ایک دورسرے کو اپنے واقعات سناتے تھے، رو رو کر ایک دوسرے پر ڈھائے گئے صوبائی فورسز کے شرمناک مظالم، پردہ دار خواتین کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی کہانیاں بیان کرتے تھے۔


چارسدہ سے باہر مشرقی اور مغربی پاکستان کے لوگوں کو اخبار و جرائد کی وساطت سے بابڑہ فائرنگ کے بارے میں جو خبر پہنچی تھی وہ مختصر سی تھی کہ بارہ اگست 1948 کو چارسدہ کے گاؤں بابڑہ کی طرف ایک جلوس دفعہ 144سی آو پی سی کی خلاف ورزی کر کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ چارسدہ اور ان کے ساتھ موجود پولیس کے سپاہیوں کی طرف بڑھ رہا تھا جلوس میں کچھ لوگ مسلح تھے خدشہ تھا کہ وہ انتظامیہ کے افسران پر حملہ آور ہو جاتے اس لئے انتظامیہ نے اپنے دفاع میں جلوس پر فائرنگ کا حکم دیا، پہلے ہوائی فائرنگ کی گئی لیکن جلوس کے آؤٹ آف کنٹرول ہونے کی بنا پر ڈائریکٹ فائر کی گئی جس میں24  لوگ مارے گئے اور35  زخمی ہوئے، فائرنگ کا حکم سب ڈویژنل مجسٹریٹ گل محمد نے دیا تھا لیکن یہ خودساختہ اور مبالغہ آمیز خبر تھی۔ حقیقت پر مبنی نہ تھی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شہدائے بابڑہ کے اصل حقائق اور ننگ انسانیت مناظر کو منظر عام پر لانے کا  پہلا اعزاز فخر افغان خان عبدالغفار خان کے داماد یحی جان خان نے حاصل کیا تھا۔ یحی جان خان عام سوجھ بوجھ کا انسان نہیں تھا وہ اعلی تعلیم یافتہ اور پشتو، اردو اور انگریزی کا ماہر مقالہ نگار اور صحافی تھا۔ قدرت نے انہیں حقائق نویسی اور تحریروں میں سچی منظرنگاری لا زبردست ملکہ عطا کیا تھا ۔ وہ خدائی خدمتگار پارٹی کے 1946-1947 کے دور میں صوبہ سرحد کا وزیر تعلیم رہ چکا تھا۔ خان یحی جان خان تسلیم شدہ ماہر تعلیم تھا اور بھٹو کے دور حکومت میں ڈائریکٹر فاٹا، فرنٹیئر ریجن صوبہ سرحد کا ڈائریکٹر ایجوکیشن بھی رہ چکا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مرحوم و مغفور بارہ اگست 1948 کے بابڑہ سانحہ کا عینی شاہد اور چشم دید گواہ بھی رہ رچکا تھا۔

 

خان یحی جان خان مرحوم کا بارہ اگست 1948 شہدائے بابڑہ پر جو پہلا انگریزی مقالہ (بابڑہ قتل عام) روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوا تھا، اس حقیقت افروز مقالہ میں بابڑہ میں شھدا کی تعداد تھری فگرز یعنی سیکڑوں میں بتائی گئی لہذا اگست 1948کے اخبارات و جرائد میں حکومتی پریس نوٹ کے مطابق مذکورہ فائرنگ میں چوبیس مرنے والوں اور پینتیس زخمیوں کی خبر اور خبریں غلط اور عوام کی نگاہوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھیں۔ مانتا ہوں 1956 میں خان عبدالغفار خان کے خلاف اینٹی فرنٹ پارٹی قائم کرنے اور صوبہ مغربی پاکستان یعنی ون یونٹ مخالف تقریریں کرنے اور اسے ختم کرنے کے جرم میں جو تین فوجداری مقدمات سرکار کی طرف سے دائر کئے گئے ہیں ان میں بھی عدالت عالیہ مغربی پاکستان کے سنگل بنچ کے روبرو سرکار کے گواہوں اور سی آئی ڈی کی مرتب کردہ رپورٹوں کے مطابق جو شہادتیں قلمبند کرائی گئیں ان میں بابڑہ کے جلوس پر فائرنگ سے مرنے والوں کی تعداد24  اور زخمیوں کی35  بتائی گئی لیکن ہر منصف مزاج آدمی بذات خود اندازہ لگا سکتا ہے کہ سرکار کی شہادت جھوٹی اور یحی جان خان کی شہادت سچی اور نوے فیصد درست شہادت ہے اور صوبہ سرحد کے اس دور کے وزیراعلی قیوم خان سرکار کی شہادت جھوٹی اور مظلوم و بے گناہ شہدائے بابڑہ کا مذاق اڑانے کے مترادف گواہی ہے جس کا بھرم یحی جان خان کے انگریزی مقالہ نے مارچ1988  میں کھول دیا تھا۔ یہ مقالہ14  مارچ1988  کے روز نامہ شہباز پشاور اور فرنٹیئر پوسٹ پشاور میں نقل کیا گیا ہے۔


رقم الحروف کے خیال میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کے عدالت عالیہ ہائی کورٹ مغربی پاکستان لاہور کے آنریبل سنگل بنچ کے جج مسٹر جٹس شبیر احمد بابڑہ چارسدہ کے قتل عام کو پاکستان کی تاریخ کے ریکارڈ پر لانا چاہتے تھے اور انہوں نے اس کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ خان عبدالغفار خان پر ون یونٹ صوبہ مغربی پاکستان کے خلاف بغاوت اور باغیانہ سرگرمیوں کا جو غلط اور حقائق کے برعکس مقدمہ قائم کیا گیا تھا مسٹر جٹس شبیر احمد نے اسی مقدمہ میں چند اہم شخصیات کو بابڑہ کی فائرنگ پر شہادت کیلئے طلب کیا۔ ان گواہو ں میں اس وقت کے صوبہ سرحد کے وزیراعلی بیرسٹر عبدالقیوم (جنہوں نے بابڑہ فائرنگ کا حکم جاری کیا تھا) کے علاوہ دس کے قریب اس وقت کے خدائی خدمتگار پارٹی کے سرگرم کارکنوں کو عدالتی گواہوں کے طور پر بھی طلب کیا گیا تھا۔ ان گواہوں کی اصل تعداد اور تمام تفصیلات ہائی کوٹ کے فیصلے شائع کرنے والی قانونی مجموعے پی ایل ڈی1957  کے صحفہ ایک تا195  کے متن میں موجود ہیں۔ اس مجموعے کا پورا نام انگریزی میں حسب ذیل ہے۔


یعنی اردو میںاس طرح لکھا جا سکتا ہے۔ مجموعہ نمبر09  دی آل ڈیسیشنز ہائی کورٹ آف ویب پاکستان لاہور، قانون سے وابستہ حضرات اسے سمجھتے ہیں۔ راقم الحروف محترم قارئین کیلئے اس کتاب کی وضاحت کر رہا ہے تاکہ مقالہ ہذا کے جن حقائق کے بارے میں ان کے ذہن میں شکوک ابھریں تو وہ مذکورہ کتاب کا مطالعہ فرما کر اپنی تسلی کر سکتے ہیں۔ ریکارڈ سے بیرسٹر عبدالقیوم کی صوبائی حکومت اور اس دور کی مرکزی حکومتوں نے بارہ اگست 1948 بابڑہ فائرنگ بلیک آؤٹ کیا ہوا ہے یعنی سرکار کی زبان میں اس مستند تاریخی کہانی کو رائٹ آف کیا گیا ہے لیکن مسٹر جسٹس شبیر احمد نے اسے ایک زندہ حقیقت کی حیثیت دے کر اسے ریکارڈ پر مخفوظ کیا ہوا ہے جس کیلئے ہم سرخپوش (باوجود کہ فیصلہ باچا خان کے خلاف لکھا گیا ہے) ان کے دلی طور پر مشکور ہیں۔ ہزاروں بے گناہ نفوس کے قتل عام پر مبنی اس خونی واقعہ کو تاریخ کے طالب علموں کیلئے عدالت کے ریکارڈ پر لا کر اور وہ بھی پورے ساڑھے آٹھ سال بعد محترم جج صاحب مذکور نے باچا خان اور ان سرخپوش ساتھیوں پر احسان فرمایا ہے کیونکہ بارہ اگست 1948 کی خونریز فائرنگ پر پاکستان کی کسی حکومت نے تحقیقاتی ٹریبونل نہیں بٹھایا۔ فخرافغان باچا خان اور ان کے داماد خان یحی جان خان اور اس نوع کے کئی لیڈر صاحبان بار بار اس وقت کے مرکزی حکومتوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ بابڑہ کے قتل عام کی عدالتی تحقیققات فرمائی جائیں لیکن اس کے باوجود کسی مرکزی حکومت یا صوبائی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔


چونکہ فرنگی سامراج جو برصغیر پاک و ہند کا بلا شرکت غیرے مالک حکمران تھا، اس نے ایک مشہور قانونی اصول وضع کیا ہے جو زید، بکر اور عمرو بنام کراؤن کے کئی مقدمات میں زیر بحث لایا جاتا رہا ہے اور کراؤن کا وکیل ہمیشہ سلطنت انگلسیہ ہند کے حکمرانوں کے دفاع میں عدالت عالیہ کے روبرو پیش کرتا ہے کہ ایک خودمختار کے خلاف اس کی اپنی عدالتوں میں مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا۔


بارہ اگست 1948 کے بابڑہ کے قتل عام پر جو آج تک کوئی تحقیقاتی ٹربیونل نہیں بٹھایا گیا اس کی کوئی عدالتی یا انتظامیہ کے وساطت سے تحقیقات نہیں کی گئیں تو اس کی بھی کوئی نہ کوئی خاص وجہ تو ہو گی کیونکہ اس دل دہلا دینے والے ایکشن سے کئی اپنوں اور پردہ نشینوں کے نام ظاہر ہوں گے۔ تو ان کے خلاف دنیا کی کون سی بے وقوف سامراجی حکومت کاروائی کرے گی۔ بابڑہ کا حکم اس وقت کے صوبہ سرحد کے وزیراعلی بیرسٹر عبدالقیوم خان نے جاری کیا تھا اور اس پر عمل درآمد سب ڈویژنل مجسٹریٹ گل محمد نے کیا تھا، تو کیا اس وقت کے رائج الوقت قانون اور آئین کے تحت ہزاروں بے گناہ  انسانوں کو گولیوں سے لقمہ اجل بنانے والوں کے خلاف تحقیقات یا انکوائری نہیں کی جا سکتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب 1956 کا آئین نفاذ العمل ہوگیا تو بھی ان کی تحقیات نہیں ہو سکتی تھیں، یقیناً ہو سکتی تھیں لیکن دیدہ دانستہ نہیں کی گئیں اور آج تک نہیں ہوئی ہیں۔


جب خان عبدالغفار خان کے خلاف ون یونٹ صوبہ مغربی پاکستان کے قیام کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے الزام میں جو تین مقدمات دائر کئے گئے تھے جس میں بغاوت اور باغیانہ سرگرمیوں کا جھوٹا مقدمہ بھی شامل تھا اس وقت ون یونٹ صوبہ مغربی پاکستان کا وزیراعلی خان عبدالجبار خان المعروف ڈاکٹر خان تھے۔ یہ مقدمات ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت کی اجازت و ہدایت کے بغیر قائم نہیں کئے جا سکتے تھے کیونکہ مغربی پاکستان کے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک بیروکیٹ شیر افضل خان ایڈشنل کمشنر پشاور کو ون یونٹ کے خلاف تقریروں کرنے والوں اور لائے عامہ ہموار کرنے والوں کے خلاف بغاوت اور اس سے ملتے جلتے کیسوں کے سماعت کیلئے بطور سپیشل مجسٹریٹ مقرر کیا گیا تھا۔ مذکورہ مقدمات کے سلسلے میں باچا خان کی گرفتاری کا حکم نامہ شیر افضل خان ایڈیشنل کمشنر پشاور نے ہی صادر کیا تھا۔ انہی مقدمات میں سے ایک مقدمہ کریمینل اور جرنل نمبر دس آف1956  کی سماعت کے دوران  مسٹر جسٹس شبیر احمد نے اس وقت کے وزیراعلی عبدالقیوم کو بابڑہ کے قتل عام پر بیان ریکارڈ کرنے کیلئے عدالت عالیہ کے روبرو پیش ہونے کا حکم صادر کیا تھا۔ عدالت میں حاضری کا یہی حکم آج بھی عدالتی ریکارڈ پر موجود ہے جو28  نومبر 1956 ہے اور عبدالقیوم خان وزیراعلی صوبہ سرحد19  دسمبر 1956 کو بابڑہ فائرنگ پر اپنی شہادت ریکارڈ کرانے کیلئے عدالت عالیہ ہائی کورٹ لاہور کے روبرو پیش ہوئے تھے۔


عبدالقیوم خان کے بیان کے مطابق باچا خان کو جون 1948 میں کوہاٹ کے مقام پر بہادرخیل سے دفعہ چالیس کرائمز ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے اپنی رہائی کیلئے ضمانت داخل کرنے سے انکار کر دیا تو میجر اللہ داد ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے حکم سے انہیں تین سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا قید بامشقت کے سزا کے ساتھ، چند ماہ بعد مرکزی حکومت کی ہدایت پر انہیں بنگال ریگولیشن تین1948  کے تحت نظربند کر دیا گیا تھا۔ ان دنوں باچا خان صوبہ سرحد کا نام پختونستان رکھنے اور اس کے ساتھ قبائلی علاقے ملا کر سرحد کو پاکستان کا وسیع تر صوبہ بنانے کیلئے رائے عامہ کو ہموار کر رہے تھے اور مختلف دیہاتوں اور شہروں میں چالیس چالیس جلسوں سے خطاب فرمایا کرتے تھے۔ بارہ اگست 1948 باچا خان کی اسی گرفتاری کے خلاف جلسہ عام منعقد کیا جا رہا تھا اور صوبائی اور مرکزی حکومت سے باچا خان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کیلئے مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اس دوران جلسہ پر گولیوں کی بارش شروع کر دی گئی اور بابڑہ میں جلسہ کے بجائے خدائی خدمتگاروں کی خون کی ندیاں بہنے لگیں تو قیوم انتظامیہ نے خدائی خدمتگاروں کے خلاف جو سب سے بڑا وسیع تر مشکوک اور غلط پروپیگندہ کیا اور توڑ موڑ بنا کر خدائی خدمتگار تحریک و تنظیم پر پابندی لگائی اور یہ الزام لگایا کہ 12 اگست1948  کو جلسہ و جلوس کے شرکا خدائی خدمتگاروں نے دفعہ144  کو توڑا تھا حالانکہ مذکورہ مقدمہ اگر وزیراعلی سرحد قیوم کے ریکارڈ شدہ بیان کا باربار غور سے مطالعہ کیا جائے تو اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بارہ اگست1948  کو چارسدہ اور پوری تحصیل میں کوئی دفعہ 144 (جی پی سی) نافذ نہیں تھی۔ جلسہ کے شرکا اور خدائی خدمتگاروں کو دیدہ دانستہ دھوکہ میں رکھ کر اپنے خفیہ عزائم کا شکار بنایا گیا اور بقول یحی جان خان کے فائرنگ کا منصوبہ قیام پاکستان سے بہت پہلے انگریز حکومت کا تیار کردہ تھا یعنی راقم کے خیال میں اسی منصوبہ کو قیوم خان کی انتظامیہ کے علاوہ صوبہ سرحد کی کوئی سیاسی اور غیرسیاسی انتظامیہ اس پر عمل درآمد کو تیار نہیں ہوئی شاید یہی وجہ تھی کہ قیوم خان کی انتظامیہ22  اگست 1947 سے17  اپریل1953  تک برسراقتدار رہی۔ چونکہ بابڑہ فائرنگ کے بعد یعنی بارہ اگست 1948 کے بعد خدائی خدمتگار تحریک اور پارٹی کے خلاف قانون قرار دے کر اسے منتشر کردیا گیا اور قیوم خان کی صوبائی حکومت نے سرخپوشوں کی جمہوری اپوزیشن کا خاتمہ کر دیا۔ آنے والے دنوں میں انشاء اللہ آزاد تاریخ کا طالب علم اور ریسرچ اس بات کی گواہی دے گا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کی بنیاد پر ایسی انتظامیہ اور اس کی پارٹی رکھی تھی جس نے بعد میں پھیل کر پورے ملک کو اپنے نرغے میں لے لیا اور انجام کار دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست پاکستان کو توڑ کر اس کے عظیم تر سیاسی افرادی اور فوجی قوت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اگرچہ دونوں حصوں کا یعنی روخانی اور سیاسی سٹرکچر اسلامی نظریہ پر استوار اور مستحکم ہے لیکن ان کی دفاعی ترکیب اور دفاعی ڈھانچہ دو حصوں میں بٹ گیا، آج دوسرے حصے کا نام بنگلہ دیش ہے۔


کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بارہ اگست 1948 کو بابڑہ اور چارسدہ میں دفعہ 144 (جی پی سی) نافذ العمل نہیں تھا۔ عدالت عالیہ ہائی کورٹ مغربی پاکستان لاہور کے مقدمہ مذکورہ ریکارڈ پر وزیراعلی سرحد قیوم خان کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ گل محمد خان سب ڈویژنل مجسٹریٹ چارسدہ سے رپورٹ بھیجی تھی کہ پانچ اگست 1948 سے چارسدہ میں سات دنوں کیلئے دفعہ 144 (جی پی سی) نافذ کر دی گئی تھی جس سے صاف ظاہر ہوا کہ اس کی معیاد گیارہ اگست کو پوری ہو چکی تھی۔ آخری تجزیہ میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ پرامن اور قانون پسند خدائی خدمتگار جب ہفتہ بھر میں خفیہ منصوبہ کا شکار ہونے کو تیار نہ ہوئے دفعہ144  کی خلاف ورزی نہ کی تو بارہ اگست 1948 کو خدائی خدمتگاروں پر گولیوں اور بندوقوں کا منہ کھول دیا گیا۔ راقم الحروف کو آج تک کسی ذمہ وار شخص نے یہ نہیں بتایا کہ12  اگست 1948 سے قبل چارسدہ میں دفعہ 144 (جی پی سی) نافذ کی گئی تھی۔


اور ہاں چارسدہ میں یہ سات دنوں کی دفعہ 144 (جی پی سی) پاکستان کی باون52  سالہ تاریخ میں سب سے کم مدت کا دفعہ 144 (جی پی سی) ہے شاید اس سے پہلے یا بعد میں پاکستان کے کسی حصہ میں اتنے مختصر عرصے کی دفعہ144  نافذ ہوئی ہے۔ اس آرڈر کو سب ڈویژنل مجسٹرٹ چارسدہ مسٹر گل محمد خان نے پاس یعنی حکم صادر کیا تھا اور پانچ اگست 1948 کو نافذ کیا گیا، اس دفعہ کے تحت سات اگست 1948 کا دن پابندی کی معیاد میں شامل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگست 1948 میں چارسدہ تحصیل میں کسی بڑے نقص امن کا خطرہ یا خدشہ موجود نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو انتظامیہ سات دنوں کے بجائے مہینہ دو مہینہ یا تین مہینے کیلئے دفعہ144  نافذ کرتی۔


اگر سات اگست 1948 سے واقعی سات دنوں کیلئے دفعہ 144 جی پی سی نافذ العمل تھی تو اس کا کامل یقین ہو گیا ہو گا کہ سات دنوں بعد انہیں سرخپوش سے کسی ڈر یا خوف کا خطرہ موجود نہیں تھا اس لئے سات دنوں کے بعد دفعہ144  اٹھایا گیا تھا اور اس میں توسیع نہیں کی گئی تھی یعنی بارہ اگست 1948 کے روز چارسدہ میں جلسہ جلوس کے انعقاد و اہتمام پر کوئی پابندی نہیں تھی اور یہ جلسہ منعقد کر کے سرخپوشوں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا تھا اور نہ ہی دفعہ144  کی خلاف ورزی کی تھی لہذا بارہ اگست 1948 کے دن جلسہ جلوس پر ہوئی فائرنگ غیرمنصفانہ اور غیرقانونی تھی۔


اگر سابق وزیر تعلیم اور دیگر سرخپوش رہنماؤں کے بار بار کے منصفانہ مطالبہ پر اس خونی ایکشن یا آپریشن کی عدالتی تحقیقات کر لی جاتیں تو اصل حقیقت سامنے آ جاتی لیکن اس میں حکومت صوبہ سرحد براہ راست ملوث تھی۔ اس ظالمانہ واقعہ کی سرے سے کوئی عدالتی یا انتظامی تحقیقات نہیں کی گئیں اور الٹا پروپیگنڈہ کیا گیا کہ چونکہ بابڑہ کے جلوس میں کچھ لوگ مسلح تھے اس لئے سب ڈویژنل مجسٹریٹ چارسدہ اور ان کے ہمراہ قلیل  تعداد کی پولیس کو خدشہ تھا کہ وہ ان پر فائرنگ کریں گے اس لئے جلسہ اور جلوس  پر فائرنگ کا حکم دے دیا گیا۔ حالانکہ  یہ ایک ناقابل تسلیم نتیجہ تھا جسے عدالت نے استغاثہ کی شہادتوں سے اخذ کیا تھا۔ استغاثہ کی شہادتیں پولیس، سی آئی ڈی کے افراد اور رپورٹیں تھیں۔


فخر افغان خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کے خلاف غلط اور جھوٹے الزام بغاوت اور باغیانہ تقریروں اور سرگرمیوں کے تحت دائر ایک فوجداری مقدمہ نمبر دس سال 1956 جس کا فیصلہ24  جنوری 1957 مغربی پاکستان لاہور کے صحفہ142  تا195  پر محیط ہے یعنی باؤن صحفات پر مشتمل ہے، اس فیصلہ میں مقدمہ کی سماعت کرنے والے ہائی کورٹ لاہور کے سنگل بنچ کے آنریبل جج مسٹر جسٹس بشیر احمد نے ریمارکس پاس کئے ہیں افسوسناک اور یعنی ناواقفیت کی وجہ سے پاس گئے ہیں کہ چونکہ ملزم باچا خان قیام پاکستان کا مخالف تھا اور بارہ اگست 1948 کی فائرنگ جلوس بمقام بابڑہ چارسدہ کے کچھ لوگ مسلح تھے اس سے  سرحد کی اتھارٹیز کا یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ وہ سب مجسٹریٹ گل محمد اور ان کے پاس قلیل پولیس پارٹی پر فائرنگ کر لیتے اس لئے بارہ اگست کی فائرنگ منصفانہ (تلاش حق) سے لبریز ہے۔


آنریبل مسٹر جسٹس بشیر احمد کے ریمارکس سے بھی یہ کھلم کھلا ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ جلوس کے کچھ شرکا اگر مسلح تھے بھی جو کہ نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو انتظامیہ کے خفیہ والے ہوں گے تو بھی انہوں نے کوئی فائرنگ نہیں کی تھی نہ تو شادی بیاہ والی خوشیوں کی طرح ہوائی فائرنگ کی تھی اور نہ بابڑہ جلوس کے مقام پر موجود گل محمد اور پولیس پر فائرنگ کی تھی۔ جب جلوس کے کسی کونے سے بھی مذکورہ انتظامیہ پر ایک ہوائی گولی اور پٹاخہ تک بھی نہیں چلایا گیا تو محض ایک بھونڈے ناقابل تسلیم خودساختہ شک کی بنیاد پر ہزاروں بے گناہ انسانوں کو لقمہ اجل بنانے والی بابڑہ فائرنگ کو کس انصاف اور قانون کے تحت منصفانہ اور جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ بارہ اگست 1948 کی بابڑہ فائرنگ سراسر غیرقانونی، من مانی، سازش اور منصوبہ بندی تھی۔ راقم الحروف آج بھی اسے کسی بھی فورم پر ثابت کرنے کو تیار ہے۔


اور سب سے بڑھ کر حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ چارسدہ کے اس وقت کے عوام اور بزرگوں میں سے کسی کو معلوم نہ تھا بارہ اگست یا اس سے قبل چارسدہ میں دفعہ144  نافذ تھی۔ راقم الحروف نے کئی سالوں تک ہشت نگر کے چیدہ چیدہ بابڑہ کے جلسہ عام کے چشم دید شواہد اور شرکا سے بار بار معلوم کیا اور ان سے پوچھا کہ وہ ذہن پر زور ڈالیں کہ بارہ اگست کو یا اس سے قبل چارسدہ میں دفعہ144  نافذ کی گئی تھی۔ راقم کو نفی میں جواب ملا اور اعلی تعلیم یافتہ حضرات اور بزرگوں تک نے لاعلمی ظاہر کی تھی۔ مطلب یہ کہ مغربی پاکستان ہائی کورٹ لاہور میں فوجداری مقدمہ دس سال1956  کے دوران سماعت سب ڈویژنل مجسٹریٹ چارسدہ گل محمد کے دستخطوں سے چارسدہ میں دفعہ144  کے نفاذ کی جو شہادتیں پیش کی گئی تھیں ان کے مطابق ہو سکتا ہے کہ چارسدہ انتظامیہ کے ریکارڈ پر دفعہ144  کا نفاذ موجود ہو لیکن اسے چارسدہ شہر اور چارسدہ کی تحصیل ہیڈکوراٹر میں حسب ضابطہ نمایاں طور پر اناؤنس نہ کیا گیا ہو۔ سرخپوشوں کو دھوکے میں رکھا گیا ہو تاکہ انہیں جلسہ گاہ میں کثیر تعداد میں جمع کر کے پھر انہیں فرنگی سازش کا ہدف بنایا جائے اور خدائی خدمتگار تحریک کا صفایا کیا جائے اور بیرسٹر عبدالقیوم اور اس کی پارٹی کو دائمی اقتدار کا انعام مل جائے لیکن ایسا بھی نہ ہوا چونکہ یہ حکومت بھی تقریباً چھ سال بعد ختم ہو کر سردار عبدالرشید کی حکومت قائم کر لی گئی تھی۔ اس دور زمانہ کے ایڈیٹر روزنامہ شھباز پشاور جناب سید اقتدارعلی مظہر نے14  مارچ 1988 کے شمارہ میں مقالہ نگار خان یحی جان خان کا جو انگریزی مالہ شائع کیا تھا اس کے آغاز میں صاف لفظوں میں تحریر کیا ہے کہ خدائی خدمتگاروں کو سزا دینے کی سازش قیام پاکستان سے بہت پہلے تیار کی گئی تھی۔ یہ مقالہ ناکردہ گناہ کے ملزم یا مظلوم آج کے نوجوان عوامی مقالہ نگار اور آزاد صحافی اور اسیر زنداں چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی کے انگریزی روز نامہ فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوا تھا اس کے انگریزی الفاظ اس طرح تحریر کئے گئے۔


ترجمہ: ''فرنگی سامراج کے خلاف لڑنے کی پاداش میں خدائی خدمتگاروں کو سزا دینے کی سازش تقسیم ہند سے پہلے تیار کی گئی تھی۔''


باربار اس حقیقت کا اعادہ کئے بغیر نہیں رہا جاتا کیونکہ دل سے جو آواز، اور وہ بھی سچی آواز، نکلتی ہے کہ بارہ اگست کے بابڑہ کے قتل عام کے اصل حقائق پر سے جہاں پہلی دفعہ پردہ اٹھانے کے جرات رندانہ کا باچا خان کے داماد خان یحی جان خان مرحوم نے مظاہرہ کیا تھا وہاں انگریزی روزنامہ فرنٹیئر پوسٹ  کے اس وقت کے پرشباب چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی نے بحیثیت چیف ایڈیٹر اپنے آپ اور اپنے پورے اخبار کو داؤ پر لگایا تھا۔ کون باخبر پختون نہیں جانتا کہ جن دنوں مذکورہ انگریزی مقالہ فرنٹیئر پوسٹ میں شائع ہوا اس وقت بابڑہ فائرنگ کے ذمہ دار سامراج نواز لوگ سرزمین پشاور پر موجود تھے لیکن دوسری طرف آفریدی صاحب بھی اس دور کی ایک طاقت تھے، ان کے اخبار فرنٹیئر پوسٹ پشاور کے اجرا کی رسم افتتاح سرحد کے وزیراعلی ارباب جہانگیر خان نے کی تھی، تہکال بالا کی سرخپوش اور ترنگے جھنڈے کی ارباب خیلی رحمت شاہ کا بازو تھی، پاکستان اور پختونوں کی اعلی تعلیم یافتہ اشرافیہ اور قارئین ان کا دوسرا بازو تھے۔


بال بچے دار رحمت شاہ آفریدی کیمپ جیل لاہور میں اسیر زندان رہے اور اس اسیری میں بھی اپنے وطن اور قوم قبیلے کی خدمت سرانجام دی۔ آنربیل عدالت ثبوت مانگتی رہی، جرم بے گناہی  کی تاریخ سماعت پیشیاں باربار بدلتی رہی۔ بابڑہ فائرنگ پر خان یحی جان خان کے مراسلہ کی اشاعت پر ہم باچا خان اور خان عبدالولی خان کے ساتھی سرخپوش چیف ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی  اور ان کی گرانقدر نشانی فرنٹیئر پوسٹ کے صحافیانہ احسانات کو کھی نہیں بھول سکتے اور نہ کبھی بھولیں گے۔ راقم ان کے ناکردہ گناہ اور جرم بے گناہی کو معاف کرنے کیلئے اللہ کے حضور یہی دعا کہ اے نہ جھکنے اور نہ بکنے والے نوجوان اور عزیزالقدر صحافی رحمت شاہ آفریدی، خدا معاف کرے تیری بے گناہی کو!