ادھوری خو شیاں

ادھوری خو شیاں

  عطاالسلام سحر

شاہدرہ گاؤں سے تقریباً چار پانچ میل دور ایک پرائمری سکول تھا۔ گاؤں کے اکثر بچوں کی تعلیم و تربیت کا واحد مرکز تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بچے سکول میں بیٹھنے کیلئے پٹ سن کی بوریاں، جنہیں زمین پر بچھا کر بیٹھا جا سکے، گھر سے اپنے ساتھ لایا کرتے۔ چونکہ حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ٹاٹ تو جاگیرداروں، زمینداروں کے بچوں کے قبضہ میں ہوا کرتے تھے۔
دوردراز کے اور گاؤں سے بھی کچھ غریب کی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے وہاں تک پیدا چل کر آتے تھے۔ جاگیرداروں اور زمینداروں کے بچوں کے لیے تو تانگے میسر تھے، مگر غربیوں کے پاس تھا ہی کیا؟
شاہدرہ گاؤں میں ایک کونے پر ایک چھوٹا سا کچا مکان فضل الہی کا تھا جو غربت کی چکی میں پستے ہوئے بے بسی کی زندگی گزار رہا تھا۔ گاؤں کے جاگیرداروں کو غریبوں کی حالت کا خیال شاید ہی آئے مگر یہ ممکن ہے۔ کون پو چھے ان دو ٹکے کے آدمیوں کو! یہ الفاظ ان جاگیرداروں کے ہیں۔ فضل الہی کا ایک ہی بیٹا تھا اشرف جسے وہ پیار سے شرفو کہہ کر بلاتا تھا۔ وقت بڑی تیزی کے ساتھ گز رہا تھا۔ فضل الہی محنت مزدوری کر کے بڑی مشکل سے گھر کا نظام چلا رہا تھا۔ شرفو بھی دن بہ دن بچپن کی عمر سے گزر رہا تھا۔ شرفو کی والدہ گلاب خاتون سارا دن اجرت پر فصلوں میں سے چارہ کاٹتی۔  فضل الہی گھر کے تمام اخراجات کے بعد بچی کھچی رقم جو ٹکا آنہ ہوتا، مشکل حالات کے لیے بچا کر رکھ دیا کرتا تھا۔

 

فضل الہی ایک دن محنت مزدوری کر کے گھر واپس لوٹ رہا تھا تو اس کے دل میں خیال آیا کہ گھر کے لیے کچھ سیب وغیرہ خریدے جن کی شرفو اکثر فرمائش کیا کرتا تھا۔ اس نے ریڑھی والے سے جا کر سیبوں کا نرخ پوچھا تو نرخ آسمان کو چھو رہا تھا۔ پھر اس نے آم سستے ہونے کی بنا پر دوکلو آم لیے اور گھر کی راہ لی۔ شرفو جو کب سے اپنے ابا جان کا بے تابی سے انتظار کر رہا تھا فضل الہی کے آتے ہی اس نے دوڑ کر اپنے ابا جان کو سینے سے لگایا۔ گلاب خاتون نے چند دنوں کے بعد فضل الہی سے کہا:  میں چاہتی ہوں کہ اب شرفو کا سکول میں داخلہ کرایا جائے۔ فضل الہی نے اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا: میں ماسٹر غلام نبی کے سکول میں اسے داخلہ دلوا دیتا ہوں۔ وہاں ہمارا شرفو پڑھے گا۔ 

 

فضل الہی اپنے بیٹے شرفو کے ساتھ ہفتہ کے دن چار پانچ میل کا فاصلہ پیدل طے کر کے ماسٹر غلام نبی کے سکول پہنچا۔ ماسٹر غلام نبی سے کہا: یہ میرا بیٹا ہے اشرف، شرفو، اِسے سکول میں داخل کیجیے تاکہ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل سنوار سکے۔ ماسٹر غلام نبی کے منھ سے بے رخی کے انداز میں ہونہہ نکلا۔ ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ اب چلے جاؤ، کل اتوار کی چھٹی ہو گی، سوموار کے دن سے یہ سکول آیا کرے گا۔ ماسٹر نے فضل الہی پر اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالتے ہوئے کہا۔ فضل الہی گھر واپس لوٹ آیا۔ سوموار والے دن شرفو کو سکول تک چھوڑ آیا اور خود کام پر چلا گیا۔ اس دن اس کی والدہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی۔ میرا بیٹا پڑھ لکھ کر فوج میں پائلٹ بنے گا۔ گلاب خاتون نے خوشی کے ملے جلے انداز میں کہا۔ 

 

دن ہفتوں میں ، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے۔ شرفو نے پرائمری تک کی تعلیم مکمل کر لی۔ اب اسے مڈل اور میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہائی سکول میں داخل ہونا پڑا جو کہ شہر کے قریب ہی تھا۔ شرفو وہاں دل لگا کر پڑھتا رہا، مڈل کے سالانہ امتحان میں اس نے اچھے نمبر حاصل کیے جس کی بنا پر اسے حکومت کی طرف سے ماہانہ پانچ روپے وظیفہ جاری ہوا۔ اکثراوقات گلاب خاتون کہتی رہتی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو پائلٹ بناؤں گی مگر ان کے گاؤں کی اکثر عورتیں اسے پاگل کہتیں۔ وہ اپنے طنزیہ انداز سے کہا کرتیں:  ٹکا، آنہ پلے نئیں تے خواب گلابو دے اچے اچے نے۔ یہ ان کا خاص علاقائی زبان کا طنز تھا۔ ان کی غربت و افلاس کو دیکھ کر طرح طرح کی باتیں ہوا کرتیں مگر اشرف بھی اِن باتوں سے بے خبر نہیں تھا۔ اس نے بھی دل میں ٹھان لی تھی کہ میں ضرور پائلٹ بنوں گا۔ 

 

میٹرک اب مکمل ہو چکی تھی۔ اس نے کالج کی نئی دنیا میں قدم رکھا۔ کالج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے فضل الہی نے دن رات ایک کر دیا۔ اپنی جمع کی ہوئی رقم سے وقتی طور پر گزارا چلایا گیا۔ لیکن کالج کی فیسوں وغیرہ کے اخراجات آمدن سے زیادہ ہونے کی بنا پر اب کئی کئی دنوں تک گھر میں فاقے پڑنے لگے تھے۔ رو دھو کے شرفو نے ایف اے مکمل کی۔ فضل الہی نے ایک دن شرفو سے کہا:  بیٹا! اب میں آگے آپ کے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میری عمر بھر کی جمع پونچی یہی تھی جو میں آپ پر نچھاور کر چکا ہوں۔ وہ اپنے والد کی حسرت بھری نگاہوں میں پوشیدہ درد کو خوب جانتا تھا۔ اس نے غربت دیکھی تھی۔ جنھوں نے فقط غربت کا نام سنا ہو انھیں کیا معلوم غربت ہوتی کیا ہے؟

 

ایک دن شرفو کی ملاقات اپنے ایک کالج کے دوست علی سے ہوئی۔ مختصر حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے شرفو سے کہا:  ایئر فورس میں ابھی کل ہی نئی آسامیاں آئی ہیں، درخواست دے دو شاید نصیب جاگ اٹھے۔ شرفو نے کہا: ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں۔ شرفو نے فوج میں بھرتی ہونے کے لیے درخواست دے دی، امتحان میں شریک ہوا، اس کے بعد نتیجے کا انتظار کرتے کر تے دو ماہ گزر گئے مگر کچھ حاصل وصول نہ ہوا۔ شرفو! تو نے فوج میں بھرتی ہونے کا امتحان دیا تھا۔ کیا بنا اس کا؟   گلاب خاتون نے اپنے لاڈلے بیٹے سے پوچھا۔ امی جان! آپ جانتی تو ہیں، ہم غریبوں کو بھلا کون پوچھتا ہے؟ بڑے بڑے جاگیرداروں اور افسروں کے بیٹے لگیں گے فوج میں۔ شرفو نے جواب دیا۔ بیٹا! تم ہمت نہ ہارنا، محنت کرتے رہنا، اللہ پاک کہیں سے ضرور کوئی نا کوئی سبب بنا دے گا۔ گلاب خاتون نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔

 

کوئی پانچ یا چھ دن گزرے ہوں گے فضل الہی محنت مزدوری کر کے گھر واپس لوٹ رہا تھا تو راستے میں ڈاکیا سے شرفو کا خط ملا۔ ڈاکیا قریبی گاؤں کا تھا اور فضل الہی کو جانتا تھا۔ فضل الی خط لینے کے بعد تیز تیز قدموں سے چلنے لگا۔ اور وہ جونہی گھر کے دروازے میں سے داخل ہوا تو اپنی ٹوٹی پھوٹی آواز میں کہا: گلابو ۔۔ او گلابو! میرا شرفو کہاں ہے؟ جلدی بلا اسے، یہ خط آیا ہے، مجھے ایسے لگتا ہے فوج کی طرف سے ہی آیا ہو گا۔ 

 

گلابو دوڑتی ہوئی آئی جیسے اس کے نحیف بدن میں طاقت کی لہر امڈ آئی ہو۔ اتنے میں شرفو بھی گھر آ گیا جو کہ باہر گیا ہوا تھا۔ آ جا میرے شیر، میرے گلے لگ جا، یہ دیکھ تیرا خط آیا ہے، میرا خیال ہے فوج کی طرف سے ہی آیا ہو گا۔ اب میرا بیٹا فوجی بنے گا فوجی!  فضل الہی خوشی میں بولے ہی جا رہا تھا۔ مجھے دکھائیں ابو جی! پہلے دیکھیں تو سہی، ہے کس کا؟ شرفو نے جونہی خط کھولا تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ خط واقعی ہی فوج کی طرف سے تھا۔ پھر تو شرفو کی بوڑھی ماں کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ شرفو! اب تم فوجی بنو گے نا، جہاز بھی اڑاؤ گے نا! میں ان عورتوں سے کہوں گی جو کل تک مجھے پاگل کہا کرتی تھیں، دیکھو! اب

 

میرا بیٹا فوجی بننے جا رہا ہے۔ گلاب خاتون خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ 
کال لیٹر آ جانے کے بعد شرفو ائیر فورس کی اکیڈمی میں مطلوبہ ٹر یننگ کے حصول کے لیے چلا گیا  بمشکل ایک سال ہی گزرا ہو گا، ایک قیامت برپا ہو گئی۔ شرفو کا والد فضل الہی اچانک حرکتِ قلب بند ہونے سے داغ مفارقت دے گیا۔ شرفو اور اس کی والدہ پر یہ لمحہ قیامت سے کم نہ تھا۔ گلاب خاتون نے یہ صدمہ دل پر لے لیا۔ شرفو بھی اکیڈمی میں اکثر اوقات اداس رہنے لگا۔ اکیڈمی کی طرف سے ملنے والا وظیفہ جو کہ بھرتی ہونے پر شروع ہوا تھا اس میں سے کچھ حصہ اپنے لیے اور باقی وہ اپنی ماں کی طرف بھیج دیا کرتا تھا۔

 

فضل الہی کو فوت ہوئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ تب سے لے کر اب تک گلاب خاتون کی جسمانی حالت آدھی رہ گئی تھی۔ اسے فضل الہی کا غم اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا تھا۔ اب وہ وقت قریب تھا جب اس نے اپنے خوابوں کو پورا ہوتے دیکھنا تھا۔ شرفو کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے ایک ہفتہ قبل گلاب خاتون بھی اِس دارِ فانی سے کوچ کرگئی۔ شرفو کو جب اطلاع ملی، ''ہاے اللہ! میں مر کیوں نہیں جاتا؟ مجھے بھی اپنی والدہ کے ساتھ اٹھا لیتے، میں لٹ گیا۔ شرفو زور زور سے دھاڑیں مار کر کہے جا رہا تھا۔

 

وہ دن بھی آ گیا جس دن شرفو کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب ہونی تھی۔ شرفو نے وہاں سے بطور پائلٹ سند حاصل کرنی تھی۔ صبح آٹھ بجے تقریب شروع ہوئی۔ شرفو کے چہرے سے ایسا لگ رہا تھا جیسا کہ خوشیاں اس سے کوسوں دور چلی گئی ہوں۔ وہ بجھے بجھے چہرے کے ساتھ تقریب میں موجود تھا۔ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے بعد انعامات کی تقسیم ہوئی۔ حسبِ معمول تمام بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔ بچوں کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اعزازی شیلڈ دیے جانے تھے۔ سیکرٹری کی طرف سے اعلان ہوا: کیڈٹ محمد اشرف بن فضل الہی سے ہماری درخواست ہے سورڈ آف آنر کے حصول کے لیے اپنے والدین کے ہمراہ اسٹیج پر تشریف لائیں۔ والدین کے ہمراہ ۔۔ یہ الفاظ اس کے دل پر بجلی بن کر گرے۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے اٹھا اور اسٹیج کی طرف چل دیا۔

 

سیکرٹری نے پوچھا۔ کیا آپ کے والدین نہیں آئے؟ شرفو پر تو لمحہ بھر کے لیے سکتہ طاری ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو موتی کی لڑیوں کی طرح چھلک پڑے۔ نن نن۔۔ نہیں! امی اور ابو دونوں یہ جہان چھوڑ گئے ہیں۔ شرفو نے بڑی مشکل سے جواب دیا۔ یہ سب سن کر وہاں موجود ہر آنکھ اشک بارتھی۔
شرفو نے منھ سے نکلنے والے آخری الفاظ یہی تھے:   کاش! میرے والدین زندہ ہوتے اور دیکھتے کہ ان کا بیٹا آج پائلٹ بن چکا ہے۔ اس کے بعد اس کی زبان رک گئی اور وہ آگے کچھ نہ کہہ سکا۔