موبائل کا بڑھتا استعمال اور ذہنی مسائل 

موبائل کا بڑھتا استعمال اور ذہنی مسائل 

ڈاکٹر اعزاز جمال اخونزادہ
گزشتہ دنوں دو میاں بیوی اپنے چھ سالہ بچے کو میرے پاس لائے، جو ہر وقت بستر پر لیٹا رہتا یا پھر جہاں بٹھا دیا جاتا، وہیں بیٹھا رہ جاتا۔ بچے کی یہ کیفیت دیکھ کر میں نے انھیں مشورہ  دیا کہ وہ کسی ماہر امراضِ اطفال یا نیوروسرجن سے رابطہ کریں تاکہ وہ بچے کا پورا جسمانی اور دماغی معائنہ کرنے کے بعد کسی تشخیص کے قابل ہو۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ یہ کام کر چکے ہیں، تمام ٹیسٹ نارمل ہیں اور اب معالجین کا کہنا ہے کہ بچے کو کسی قسم کا کوئی جسمانی عارضہ لاحق ہے اور نہ اعصاب میں کوئی رکاوٹ ہے۔ بچے کو مناسب نفسیاتی اور ذہنی مشقوں کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ چھ برس کی عمر میں بچے کی نفسیاتی نمو جتنی ہونی چاہیے تھی، وہ اس کے مقابلے میں چوتھائی بھی نہیں ہے۔


چنانچہ میں نے بچے کا مشاہدہ کر کے والدین سے چند سوالات کیے، جن میں ایک سوال یہ تھا کہ کیا آپ نے اپنے بچے کو کھیل کود کے لیے موبائل فون تو بچپن سے نہیں دیا؟ اس سوال کے جواب میں وہی جواب ملا جو عموماً ننانوے اعشاریہ پانچ فیصد پاکستانی مائیں دیتی ہیں کہ جب ہم گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتے ہیں یا بچہ کسی طرح چپ ہونے کا نام نہیں لیتا تو بچے کو خاموش کرانے کے لیے اسے ہمیں مجبوراً موبائل فون تھمانا پڑتا ہے۔ میں نے عرض کیا، آپ کی وقتی مجبوری نے بچے کو زندگی کی معذوری میں بدل ڈالا ہے۔
موبائل فون کا استعمال اس وقت یقیناً بہت زیادہ ہو چکا ہے اور بڑی حد تک یہ لوگوں کی ضرورت بھی ہے۔ لیکن یہ واقعہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اکثر والدین اور عام پروفیشنلز بھی اپنے موبائل فون کی ضرورت کی حدود کا تعین نہیں کر پاتے اور پھر اس کے نقصانات ان کی اپنی زندگی میں اور بچوں کی صحت، نفسیات اور زندگی پر حد درجہ خطرناک مرتب ہوتے ہیں۔ بچے گھنٹوں موبائل پر کوئی گیم کھیلتے رہتے ہیں یا پھر کوئی تعلیمی ایپ دیکھتے ہیں۔ اور اب تو یوٹیوب پر اردو یا ہندی کے کارٹونوں کی بہتات ہے، کچھ نہیں تو بچے وہی دیکھتے ہوئے گھنٹوں گزار دیتے ہیں۔ یہاں ایک نکتہ ذہن میں رہے کہ اصل مسئلہ موبائل فون کا نہیں، اس کے استعمال کے طریقہ کار کا ہے۔ کسی شے کے استعمال کا غلط یا درست طریقہ ہی اسے مفید یا مضر بناتا ہے۔ اور موبائل فون کے ساتھ ایسا بہت زیادہ ہے۔


یوں تو بچوں میں موبائل فون کے استعمال سے بہت سے نفسیاتی، ذہنی، جسمانی اور سماجی نقصانات پیدا ہوتے ہیں، تاہم اس تحریر میں، آپ کو زیادہ تفصیل سے تو نہیں، مختصراً بچوں میں موبائل فون کے استعمال کے چند بنیادی نقصانات کا ذکر کر رہا ہوں۔
1۔ دماغی رسولی یا ٹیومر


موبائل فون سے مستقل طور پر، خطرناک شعاعیں (ریڈی ایشن) نکلتی رہتی ہیں۔ یہ شعاعیں بڑوں کے لیے بھی نقصان دہ ہیں، مگر بچوں خاص کر پانچ برس سے کم عمر کے بچوں پر بہت زیادہ منفی اثرات ڈالتی ہیں۔ کیوں کہ ان پانچ برسوں میں بچے کے اندر بہت سی تبدیلیاں تیزی کے ساتھ آ رہی ہوتی ہیں۔ چنانچہ بچہ ہر مثبت اور منفی شے کے اثرات بھی باآسانی قبول کر رہا ہوتا ہے۔


جو بچے دن میں کئی کئی گھنٹے موبائل فون لیے رہتے ہیں، وہ جب کان پر یہ موبائل لگاتے ہیں تو تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس عمل سے کان پر رسولی نمودار ہو سکتی ہے، خاص کر کان اور دماغ کے درمیانی حصے میں رسولی بننے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ بچوں میں ہڈیاں، ٹشوز اور دماغ سمیت دیگر اعضا کمزور ہوتے ہیں اور ان میں اتنی مضبوطی نہیں ہوتی۔ چنانچہ موبائل فون سے نکلنے والی ساٹھ فیصد سے زائد شعاعیں بچے کے جسم میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ شعاعیں جسم پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہیں، خاص کر ان سے انسانی دماغ براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت ان شعاعوں کو کینسر پیدا کرنے والے عوامل کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگا لیجیے کہ آپ جب اپنے بچے کو موبائل تھماتی ہیں تو گویا اسے کینسر کا مریض بنانے کا انتظام کرتی ہیں۔
2۔ دماغی سرگرمی میں گڑبڑ


موبائل فون میں الیکٹرو میگنیٹک ویوز یعنی برقناطیسی لہروں کا استعمال ہوتا ہے۔ انسانی دماغ کی بھی اپنی برقی رو ہوتی ہے جس کی مدد سے اعصابی نیٹ ورک ایک پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، چونکہ بچوں کے اعضا اور اندرونی نظام زیادہ پختہ اور قوی نہیں ہوتے، اس لیے جب بچہ موبائل فون استعمال کرتا ہے تو اس کا اعصابی ابلاغ فوراً اور شدید متاثر ہوتا ہے۔ ماہرین نے یہ مشاہدہ کیا کہ ایک بچہ اگر محض دو منٹ بھی فون پر بات کرے تو اس کے دماغ کی یہ سرگرمی بدل جاتی ہے۔ اس اعصابی تبدیلی کی وجہ سے بچے کے مزاج میں چڑچڑا پن آتا ہے، برتاؤ میں اتار چڑھاؤ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، اور توجہ کی اہلیت بہت کم ہو جاتی ہے۔
3۔ تعلیمی کارکردگی


چونکہ موبائل فون کے استعمال سے بچے کی توجہ کی صلاحیت کم ہوتی ہے، وہ نئی چیزیں سیکھنے اور خاص کر پڑھنے لکھنے میں بہت دقت محسوس کرتا ہے۔ یوں، وہ اپنی کلاس میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کا دل پڑھائی سے اکتانے لگتا ہے۔ جو بچے موبائل اپنے ساتھ اسکول بھی لے کر جاتے ہیں، وہ تو اور زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان کی توجہ کلاس لیکچر کے دوران موبائل چیٹنگ یا نوٹیفکیشن وغیرہ پر ہوتی ہے۔ وہ وقفوں کے دوران بھی کہ جب جسمانی حرکت ضروری ہے، موبائل میں گھسے رہتے ہیں۔ یوں، ان کی توجہ براہ راست خراب ہوتی ہے اور پھر ان کا امتحانی نتیجہ بھی متاثر ہوتا ہے۔


اپنی تعلیم کے لیے موبائل فون سے مدد لینے والے طلبا اپنے سبق یا موضوع کو بھی سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، کیوں کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعے آسان اور حل شدہ چیزیں تلاش کرنے کی لت میں پڑ جاتے ہیں۔ یوں، ان کی طبیعت میں بے چینی اور بے صبری آتی ہے۔ وہ محنت کر کے صبر سے انتظار نہیں کر پاتے۔ یہ مزاج ان کی زندگی کے دیگر ادوار میں بھی انھیں شدید گرفتارِ بلا کر سکتا ہے۔
4۔ مخربِ الاخلاق استعمال


بچے واٹس ایپ، میسنجر وغیرہ کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ آہستہ آہستہ وہ ایک دوسرے کو غلط اور مخرب الاخلاق ٹیکسٹ اور تصاویر بھیجنا شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ ان چیزوں تک رسائی بہت آسان ہے اور آگے بھیجنا بھی صرف ایک کلک کے ذریعے ممکن ہے، لہذا یہ چیزیں ان کے درمیان بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ پھر یہی چیز ان کے اندر پورنوگرافی کی لت کا باعث بنتی ہے، جو آج پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔
5۔ نفسیاتی مسائل


موبائل فون کے استعمال سے سب سے خطرناک مسائل، نفسیاتی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مسائل اس لیے بھی سب سے خطرناک ہیں کہ یہ ابتدا میں اتنے مدہم اور خفیف ہوتے ہیں کہ والدین ان پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ اکثر یہی سمجھ لیا جاتا ہے کہ بچے کی طبیعت ناساز ہے، کچھ دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن، جب یہ نمایاں ہو جاتے ہیں تو انھیں درست کرنے کیلیے بہت زیادہ وقت اور مشق درکار ہوتی ہے۔ موبائل فون کے استعمال سے عموماً درج ذیل نفسیاتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں:


 بچہ تیز تر نتیجہ کا عادی ہوتا ہے تو تیز فیصلے کرتا ہے۔ دماغ کو بعض کاموں کے لیے کچھ وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ وقفہ نہ دیا جائے تو دماغ کی کارکردگی کم ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایسے بچوں کی دماغی کارکردگی رفتہ رفتہ کم ہوتی جاتی ہے۔


موبائل فون پر کھیل کھیلنے سےperipheral vision  بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے اگرچہ ایک مخصوص جانب دیکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، مگرcentral vision  کمزور ہوتی ہے۔ اس وجہ سے آنکھوں کے کام کا توازن بگڑ جاتا ہے اور بینائی کے کئی مسائل کا خدشہ رہتا ہے۔


ایسے بچے سوشل میڈیا پر رہنے کی وجہ سے اپنے دوستوں اور رشتے داروں وغیرہ سے کم ملتے ہیں۔ لہذا، رفتہ رفتہ وہ پہلے سوشل اینزائٹی اور پھر تنہائی(loneliness)  کے مریض بن جاتے ہیں۔ تنہائی آدمی کو نہ صرف آگے بڑھنے سے روکتی ہے، بلکہ یہی اگر زیادہ بڑھ جائے تو شدید ڈپریشن اور پھر خودکشی کی محرک بن سکتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے؟ اس کے لیے درج ذیل تدابیر پر پختگی اور تسلسل کے ساتھ عمل کرنا ضروری ہے:


1۔ بچے کو تین برس کی عمر سے پہلے موبائل فون سمیت کسی قسم کے اسکرین (ٹی وی، ٹیب، کمپیوٹر وغیرہ) سے بالکل دور رکھیے۔


2: تین برس کے بعد دس برس کی عمر تک اسے چوبیس گھنٹے میں زیادہ سے زیادہ بیس منٹ موبائل فون کے استعمال کی اجازت ہو۔


3: دس سے پندرہ برس کی عمر تک اسے صرف ضروری فون کالز اور انٹرنیٹ سرفنگ کی اجازت ہو۔


4۔ اگر واقعی بچے کی ضرورت ہے (جو اکثر نہیں ہوتی) تو بچے کو پندرہ برس کی عمر میں جا کر موبائل فون دیا جا سکتا ہے۔


5۔ گھر میں سوشل میڈیا کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ سب سے بہتر ہو گا کہ دوپہر کو یا شام کو تیس منٹ کے اندر اندر اسے دیکھ لیا جائے۔


6: وائی فائی کھولنے اور بند کرنے کے اوقات متعین کیے جائیں۔
7: بچوں کے ساتھ آپس میں مل بیٹھ کر گپ شپ کرنے اور ان کی دلچسپی کی باتیں کرنے کے لیے وقت مختص کیا جائے۔ اس دوران والدین کے پاس بھی موبائل فون نہیں ہونا چاہیے۔

 

بچے کو کس عمر میں موبائل فون دیا جائے؟
یہ بہت اہم سوال ہے، کیوں کہ اگر اس سوال کا جواب واضح ہو جائے تو آپ اپنے بچوں کو موبائل فون کے خطرات سے بچاتے ہوئے انھیں موبائل فون کے فوائد سے مستفید کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں، ایک مغالطہ والدین میں یہ پایا جاتا ہے کہ اگر ہم ابتدائی عمر یعنی ایک سال یا اس سے پہلے کی عمر سے بچے کو موبائل فون دینا شروع کر دیں تو بچہ موبائل فون سے مانوس ہو گا۔ خاص کر، مائیں یہ کام بہت کرتی ہیں کہ اگر کسی کام میں مصروف ہیں یا پھر اپنی ماں یا بہن کو یکسوئی سے فون کرنا چاہتی ہیں تو اپنے اسمارٹ فون میں کوئی گیم یا تعلیمی ایپ لگا کر بچے کو تھما دیتی ہیں۔ لیکن یہ عمل بچے کے لیے انتہائی خطرناک ہے جس سے اجتناب برتنا چاہیے۔