بھارتی جمہوریت کا مکرہ چہرہ

بھارتی جمہوریت کا مکرہ چہرہ

تحریر: سلال زوار خان 
جمہوریت حقِ حکمرانی، قانون کی پاسداری و حکمرانی، آزادی اظہار رائے، حقِ تعلیم، حقِ  آزادانہ نقل و حرکت، اقتصادی ترقی و زندگی کے تحفظ کے اصولوں کا شاخسانہ ہے جو کہ انسانوں کے نظامِ حاکمیت کیلئے طویل جدوجہد کے بعد دنیائے سیاست کا وضع کردہ نظام ہے۔ بھارت کی انگریزوں سے آزادی کے بعد کئی سالوں پر مبنی ترامیم و حقیقی جمہوریت کی واقعیت کی جدوجہد اب انتہاپسندی اور تعصب کی چادر اوڑھ چکی ہے۔ بھارت جو کہ سیکولر و فراگیر نظامِ حاکمیت کا دنیا میں ایک روشن ستارہ گردانا جاتا تھا اب جمہوری قدروں سے نااشنا اور تکثیریت و اجتماعیت کے پیکر سے بیزار مودی کے فسطائی ہندوتوا کے نفرت آمیز نظریات کو پروان چڑھا چکا ہے۔ بھارتی جمہوریت کا اصل چہرہ جنتِ نظیر وادی کشمیر میں ظلم، بربریت و بہتے ناحق خون سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ جہاں انسان کی آزادی اور انسانی قدریں تو بڑی بات وہاں انسان کی انسانیت بھی معمولی تصور کی جاتی ہے۔ بھارتی جمہوریت کی اصلیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت نے اپنے ہی آئین کے آرٹیکل  کو مسخ کر کے کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام لانے کیلئے نہ صرف انضمام کیا بلکہ تمام جمہوری روایات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیر کے تاریخی و انتظامی نظام کو مسخ کیا ہے۔ بھارتی جمہوریت کا یہ حال ہے کہ تقریباً پانچ لاکھ غاصب بھارتی افواج نے جنت نظیر وادی میں کشت و خون کا بازار گرم کر رکھا ہے کہ جس کی مثال دنیا میں کسی اور جگہ نہیں ملتی ہے۔ اس جیل نما وادی میں کشمیری بنیادی انسانی حقوق کیلئے ترس رہے ہیں۔ حقِ حکمرانی کا یہ عالم ہے کہ کشمیر میں ریاستی سرپرستی میں سیاسی انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی بدترین دھاندلی سے کٹھ پتلی حکومت کو لایا جاتا ہے جو کہ کشمیری مسلمانوں کے حق کیلئے جدوجہد نہیں کر سکتی ہے۔ اِس مفلوج نظامِ حکمرانی سے دنیا کو براہ راست یہ تو دکھایا جاتا ہے کہ کشمیر میں کشمیریوں کی حکومت ہے مگر یہ مفلوج حکومت غاصب بھارتی فوج کے اشاروں پر چلتی ہے اور کشمیریوں کے حق کو مارتی ہے۔ جمہوری قدروں سے مزئین نظام میں قانون کی پاسداری و حکمرانی کو اولین ترجیح دی جاتی ہے مگر بھارتی سپریم کورٹ مودی کے کشمیر الحاق پر سے 23 زائد پٹیشن کی اب تک سنوائی نہ ہو پائی ہے۔ یہاں تک کہ 1980 دہائی کے قتل و غارت پر بالائی و ذیلی عدالتیں ایسی مبہوت تھیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھیں۔ علاوہ ازیں، آزادی اظہار رائے کا یہ حال ہے کہ پوری وادی میں صحافیوں کو صرف مخصوص علاقوں میں نشریات کی اجازت ہے۔ زرائع ابلاغ کے تمام زرائعوں کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے تاکہ دنیا پر کشمیریوں کے ساتھ کئے جانے والے ظلم و ستم کے بارے میں حقیقت آشکارہ نہ ہو جائے۔آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں سکول بند ہوئے تھے جو دو مارچ کو 32 مہینوں کے بعد کھول دیئے گئے ہیں، بھارتی میڈیا کی ہی گویائی ''ڈھائی سال سے زائد سکول بند ہونے کے بعد بچے ایک دوسرے کو پہچاننے سے ہی قاصر ہو چکے ہیں۔'' یہ کشمیری بچوں کے بنیادی حق پر ایک ڈاکہ تھا۔ مزید یہ کہ کشمیریوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر بھی قدغن لگا ہوا ہے۔ کشمیر کی وادی ایک قید خانے کی تمثیل ہے جس میں نام نہاد ''غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون''، ''عوامی سیکورٹی قانون'' یا ''افواج کا خصوصی زورآور قانون'' ہو، یہ تمام تقریباً ستر ہزار کشمیری نوجوانوں کے قتل اور ''انجمن والدین برائے جبری گمشدگیوں'' کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً دس ہزار کشمیری نوجوانوں کی جبری گمشدگی کا ذریعہ ہے۔ ان قوانین کے مطابق بھارتی افواج کسی کو بھی غائب کر کے تشدد کا نشانہ بنا سکتی ہیں اور 80 دن تک کسی بھی ''سلیپر سیل'' میں رکھ سکتے ہیں۔ اگر اس دوران ان کی موت واقع ہو جاتی ہے تو فوج کو اس جرم میں سزا سے استثنی حاصل ہو گا۔ مزید ظلم یہ کہ نوجوانوں کو دھڑا دھڑ نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے اور ان کی کمائی کے ذرائع سکڑ رہے ہیں۔ لوگوں کو گھروں میں محدود کر کے ان کے کاروبار خراب کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ضروریات کے محتاج بن کر مفلوج ہو جائیں اور حق خود ارادیت، حمیت و حریت سے دستبردار ہو جائیں۔ جمہوری اقدار کی اسی پامالی، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا اندازہ کشمیری حریت پسند رہنما یسین ملک کے خلاف حالیہ یکطرفہ ظالمانہ عدالتی کاروائی سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا کہ یسین ملک کا کوئی وکیل بھی نہیں تھا۔ مزید یہ کہ، امیکس کیور اے یا عدالتی دوست کے یکطرفہ بیانات اور جج کی جانبداری اس کیس کو نہایت مشکوک بناتی ہے۔ یسین ملک پر تمام کیسز جیسا کہ ''غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون'' کے سیکشن 18 کے تحت  یعنی دہشتگردی کی سازش، سیکشن 20 دہشتگرد تنظیم کا سرغنہ، سیکشن 120ب کے تحت کریمینل سازش، اور بدنام زمانہ انڈین پینل کوڈ 124 الف کے تحت اشتعال انگیزی کی دفعات پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس ضمن میں ان کو ناحق عمر قید سنائی گئی ہے۔ یس ملک کا یہ کیس اس خطے میں عدم توازن کا ایک سبب بنے گا کیونکہ اس طرح کے جھوٹے کیسز اور یکطرفہ فیصلوں سے دہشت گردی کے اصل مجرموں کی بچت ہو گی جو کہ کسی جمہوری نظام کا شاخسانہ بالکل نہیں ہو سکتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ظلم، بربریت اور نظامِ انصاف کی ابتر حالت پر اختلاف کی آوازیں باہر دنیا تک کیوں نہیں آتیں؟ اس درجہ بالا بحث سے یہ روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ بھارت کا جمہوری نظام اب ایک برائے نام جمہوری نظام ہے کہ جس میں حریت و اختلاف کی تمام آوازوں کو دبایا جاتا ہے۔ یہ اب ایک  ناقص نظامِ حکمرانی ہے کہ جس پر انتہاپسندی حاوی ہے اور اس میں سیکولر اور تمام مذاہب و نسل کے لوگوں کے اشتراکی نظام حکومت کا کچھ بھی پاس نہیں ہے۔