مہنگائی، پی ٹی آئی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل

مہنگائی، پی ٹی آئی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل

اس پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف پاکستان تحریک انصاف کو مرکز میں برسراقتدار آئے تین سال سے زائد جبکہ خیبر پختونخوا میں حکومت کرتے آٹھ برس سے زائد کا عرصہ ہو گیا  ہے لیکن تبدیلی کے نام پر عوام کو جو جو خواب دکھائے گئے تھے، ان کے ساتھ جو جو وعدے کئے گئے تھے، خصوصاً نوجوان نسل کو جس ''نیا پاکستان'' کی تصویر دکھائی گئی تھی، وہ سب ایک سراب ثابت ہوا، وہ ہر خواب ایک ڈراؤنا خواب جبکہ ہر وعدہ جھوٹا ثابت ہوا۔ دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کے الزامات سے قطع نظر اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان ہی نہیں معاشرے کے تقریباً ہر طبقے اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ''تبدیلی'' کا یہ ''خواب'' دیکھا تھا، جو انتہائی بے رحمی کے ساتھ چکنا چور کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں قوم نے ہی نہیں پوری دنیا نے دیکھا کہ معاشرے کے ان تمام طبقات اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے افراد، یہاں تک کہ سرکار کے اپنے ملازمین بھی احتجاج کر چکے ہیں، ملک کے کونے کونے میں حکومت مخالف مظاہرے ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں لیکن افسوس کہ اگر ایک طرف دیگر تمام دعوؤں اور نعروں کی طرح انہیں ازبر کرایا گیا یہ نعرہ بھی ان کے لئے بے سود ثابت ہوا کہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کرو تو دوسری جانب یہ وعدہ بھی جھوٹا نکلا کہ لوگوں کے احتجاج پر کرسی چھوڑ دی جائے گی۔ آج بھی کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب صوبے یا ملک کے کسی نا کسی کونے میں شہری سراپا احتجاج نا ہوں، لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس تب ہوتا ہے جب اس سب کے باوجود ہر گزرتے دن کے ساتھ یوٹیلٹی بلز اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے، کیونکہ حکومت کے اس اقدام سے عوام، محنت کش اور مزدور طبقات ہی نہیں متوسط طبقہ بھی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، جو متاثر ہوا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بھی داخلی و خارجی محاذ پر ہمیں متعدد مگر نہایت سنگین قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن افسوس کہ اندرون ملک اگر ایک طرف اقتدار پر گرفت مزید مضبوط کرنے کے لئے جتن کئے جا رہے ہیں تو دوسری جانب آج بھی پی ٹی آئی حکمران، محولہ بالا تمام حالات کے باوجود، اس طرح کے اعلانات اور بیانات جاری کرتے ہیں جو غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہوتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے گزارش ہے کہ حکومت آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنانے سے قبل ملک  کی موجودہ نسلوں اور مستقبل کے معماروں کی حالت زار سے خود کو آگاہ کریں، ان کے مسائل کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں اور پھر ان کے حل کے لئے ضروری اقدامات کریں کیونکہ یہی موجودہ حکومت کی اصل ذمہ داری ہے۔ جب موجودہ نسلیں محفوظ ہوں گی تو ہی آنے والی نسلوں کے تحفظ کے بارے میں سوچا جا سکے گا۔ دوسرے عرض ہے کہ سیاحت کو فروغ بجا طور پر ایک احسن اقدام ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ملک میں معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سیاسی استحکام بھی ہے، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ بورڈز کے افسوس ناک اقدام سے ہمیں سبق سیکھ لینا چاہیے، آج بھی وقت ہے کہ ملک کے اصل مسائل پر توجہ دے اور ان کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کر کے ہم اپنا یا اپنے ملک کا مستقبل محفوظ بنا سکتے ہیں، اور ان مسائل میں سرفہرست سیاسی و معاشی عدم استحکام ہی ہے۔