مہنگائی اپنی جگہ، شناخت کی فکر کریں

مہنگائی اپنی جگہ، شناخت کی فکر کریں

اگرچہ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ہی صوبہ گیر احتجاج کرتے ہوئے موجودہ حکومت کی ناکام انتظامی و معاشی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے اور عوام کی ایک واضح اکثریت کے موجودہ جذبات و احساسات کی حقیقی معنوں میں ترجمانی کی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ پارٹی قیادت نے ملک کے موجودہ حالات اور ان حالات کے باعث ملک خصوصاً خیبر پختونخوا کے عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کو اجاگر اور ان کے حل کے لئے آواز بلند کرتے ہوئے نا صرف قوم کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے بلکہ پارٹی کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنماؤں سے لے کر ایک ادنیٰ کارکن نے بھی پارٹی قیادت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جگہ جگہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور ایک بار پھر اس امر کا ثبوت بھی دیا ہے کہ اے این پی محض ایک سیاسی جماعت کا نام نہیں بلکہ صد سالہ تحریک کا تسلسل ہے جس کا نصب العین ظالم و جابر کے خلاف مظلوم و مجبور کی آواز بننا اور ملک میں حقیقی معنوں میں قانون کی حکمرانی، عدل و انصاف، مساوات، علم و ہنر اور شخصی آزادیوں سمیت دیگر تمام بنیادی حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد کرنا ہے۔ اپنی صد سالہ روایات اور خدائی خدمتگار تحریک اور اس کے بانی خان عبدالغفار خان کے نام کی لاج رکھنے پر گرچہ پارٹی قیادت اور ہر کارکن صد بار خراج تحسین کے مستحق ہیں لیکن، اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی ضرور کہیں گے کہ، موجودہ حالات کی نزاکت اور قوم کو درپیش چیلنجز کی نوعیت اور سنگینی کو دیکھتے ہوئے، ناصرف عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے کارکنوں کو بلکہ اس ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی، جمہوری نظام، انسانی حقوق اور شخصی آزادی پر یقین رکھنے والی ہر جماعت، ہر کارکن اور وطن عزیز کے ہر شہری کو آواز دے کر ساتھ ملانا اور ایک پرامن جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا، اپنے بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض کے حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی پھیلانے کے لئے بھی ایک طویل و صبرآزما مہم چلانا ہو گی بصورت دیگر مہنگائی و بے روزگاری تو ایک طرف، قوم عین اپنی شناخت سے محرومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور میں، جبکہ دنیا سمٹ کر ایک گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے، حالات و واقعات کو مقامی یا ملکی سطح کے ساتھ ساتھ بیرونی یا عالمی، بلکہ گلوبل تناظر میں دیکھنے، پرکھنے، سجھنے اور اس کے مطابق اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو اس گلوبل ویلج کے اکثریتی باسی خود ملاحظہ کرتے ہیں، لہٰذا اہم سوال حالات، واقعات یا بدقسمتی سے ہمارے ہاں مشکلات کو صرف اجاگر کرنا نہیں، نا ہی اس ایک عمل سے کبھی بات بنے گی بلکہ قوم کو، اس گلوبل ویلج کے باسیوں کو ایک راستہ دکھانا ہو گا، ان مسائل کا حل پیش کرنا ہو گا، اور سب سے اہم بات، ملک کے موجودہ ''کپتان'' کے برعکس اس راستے پر چل کر دکھانا ہو گا اور عملی طور سے عوام کی مشکلات اور شکایات کا ازالہ کرنا ہو گا، بصورت دیگر موجودہ دور میں مہنگائی اور بے روزگاری کے علاوہ بھی ایسے عوامل ہیں جو خدانخواستہ ہمارا، اس قوم کا جینا محال کر دیں گے۔