مہنگائی کا طوفان اور بہتی گنگا

مہنگائی کا طوفان اور بہتی گنگا

عوام کو ساتھ اڑا لے جانے والے مہنگائی کے طوفان کی بہتی گنگا میں سرکاری یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے بھی ہاتھ دھو تے ہوئے اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے جس نے مختلف برانڈ کے گھی کی قیمتوں میں96  سے97  فیصد اضافے کے ساتھ ساتھ کوکنگ آئل کی قیمتیں بھی بڑھانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ حالیہ ہونے والے اضافے کے مطابق کوکنگ آئل370  روپے فی لیٹر مہنگا ہو گیا اور اب اس کی قیمت500  سے870  روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، ٹی وائٹنر، کسٹرڈ کھیر سمیت سوئٹ ڈشز کے مختلف برانڈز کی قیمتوں کو بھی پر لگا دیے گئے ہیں۔ جب عام دکاندار قیمتیں بڑھا سکتے ہیں تو یہ بھی اقدام اٹھا سکتے ہیں، اب عوام یہ خیال دل سے نکال بیٹھیں گے کہ کبھی سستی اشیاء ملنے کیلئے لوگ یوٹیلیٹی سٹور بھی جایا کرتے تھے، ایسے میں سرکاری سطح پر کوششیں بھی کی جاتی رہی ہیں کہ کسی طرح قیمتوں کا بے قابو جن قابو کیا جا سکے۔ اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی محمود خان نے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مزید موثر بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں ذخیرہ اندوزی کرنے والوں پر بھی کڑی نظر رکھی جائے اور مصنوعی گرانی پیدا کرنے والوںکے علاوہ ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں۔ اس سے یقینی طور پر ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کی بیخ کنی سمیت مصنوعی مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، جاری ہدایات میں بازاروں میں معائنہ کرنے کیلئے الگ الگ انسپیکشن کرنے کی بجائے ضلعی انتظامیہ، فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں تشکیل دینے کا کہا گیا تاکہ موثر کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ وزیراعلی کی جانب سے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات کا مقصد سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی بنانا اور مصنوعی مہنگائی کو کنٹرول کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ اگر اس پر حقیقی معنوں میں عمل در آمد کیا گیا تو ممکن ہے عوام سکھ کا سانس لے سکیں ورنہ تو حالت انتہائی مخدوش ہو چکی ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں قیمتوں کے بین الصوبائی فرق کا ایک تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں اشیائے خوردونوش کی ہول سیل اور ری ٹیل قیمتوں میں فرق سب سے کم ہے۔ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی گئی کہ یکم تا 9 ستمبر صوبہ بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی چیکنگ، نرخ ناموں کی عدم دستیابی، ملاوٹ، غیر معیاری اشیاء وغیرہ کے خلاف کارروائی کے دوران مجموعی طور پر18,000  سے زائد یونٹس کا معائنہ کیا گیا جس کے نتیجے میں خلاف ورزی کے مرتکب عناصر پر مجموعی طور پر38,32,000  روپے سے زائد جرمانے عائد کیے گئے۔ اس بڑی، طویل اور تفصیلی فہرست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے کہ حکومتی سطح پر کی جانے والی کوششیں بارآور ہو سکتی ہیں لیکن اگر انہیں صحیح معنوں میں عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس قسم کا تذکرہ ہونے کے ساتھ ہی اگر عوام یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی بڑھتی قیمتوں پر نظر دوڑائیں تو جو آسانی انہیں ان سرکاری سٹورز سے میسر تھی وہ بھی ساتھ چھوڑ گئی ہے۔ اب حالات کو درست نہج پر لانے کیلئے جامع کوششیں درکار ہیں، ایسے میں زبانی جمع خرچ پر تکیہ کرنے کی بجائے زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا کی جانب سے کی جانے والی کارروائی اور انہیں دی جانے والی بریفنگ اپنی جگہ درست لیکن ایک گلہ عوام کو بھی ہے کہ کیا انہیں یوٹیلٹی سٹورز اور مارکیٹ کے بارے میں کوئی علم نہیں، عوام بلک بلک کر کہہ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، حکومت کو بروقت اور علمی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
 

ٹیگس