سیاسی کشیدگی بڑھانے کی بجائے افہام وتفہیم سے کام لیا جائے 

سیاسی کشیدگی بڑھانے کی بجائے افہام وتفہیم سے کام لیا جائے 

پنجاب میں تحریک انصاف کے رہنماوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا اور اس سلسلے میں ٹیسٹ کیس کے طور پر پہلی گرفتاری تحریک انصاف کے لیڈر فواد چوہدری کو گرفتار کرلیا گیا ان کی گرفتاری ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ اس گرفتاری سے ملک کے سنسنی خیز سیاسی ماحول میں کوئی بہتری پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اگرچہ وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ فواد چوہدری کو حکومت کے ایما پر گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کی شکایت پر اداروں کو دھمکانے اور ان کی توہین کرنے کے الزام میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ لیکن ملک میں سیاسی مسابقت اور دشمنی کا جو ماحول موجود ہے، اس میں بلاشبہ اس گرفتاری کی ذمہ داری بہر حال وفاقی حکومت کو ہی قبول کرنا پڑے گی۔یہ امر بھی اپنی جگہ شدید تشویش کا سبب ہے کہ ملک کے ایک آئینی ادارے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس قدر دباو محسوس کیا اور اس کے ارکان اور اہلکاروں کو اتنا خوفزدہ کیا گیا کہ، فواد چوہدری کے ایک انٹرویو کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کروانا ضروری سمجھا گیا۔ یہ صورت حال ملک کی ایک اہم سیاسی پارٹی اور الیکشن کمیشن کے درمیان جاری چپقلش اور بداعتمادی میں اضافہ کا باعث بنے گی۔ خاص طور جب تین ماہ کے اندر پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات ہونے والے ہیں اور پی ٹی آئی کے درجنوں ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہونے کے بعد ضمنی انتخابات کا مرحلہ بھی سر پر کھڑا ہے، تصادم اور تنازعہ کی کیفیت کو بڑھانے کی بجائے اسے کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ان حالات میں بہتر تو یہی ہوتا کہ الیکشن کمیشن ایک پارٹی لیڈر کے خلاف پولیس میں مقدمہ درج کروانے کا انتہائی اقدام کرنے سے گریز کرتا۔ تاہم اب تیر کمان سے نکل چکا ہے اور تمام متعلقہ اداروں اور لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ باہمی کشیدگی کے ماحول پر کیسے قابو پایا جاسکتا ہے۔عمران خان نے فواد چوہدری کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کے علاوہ اداروں پر ہر طرح کے الزامات عائد کیے ہیں اور اعلی عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ اب وہی معاملات کو درست کرنے کا فریضہ ادا کر سکتی ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے تمام امیدیں فوجی قیادت سے باندھی ہوئی تھیں تاہم اس طرف سے کوئی مثبت اشارے نہ ملنے کی وجہ سے اب تحریک انصاف کے چیئرمین تمام تر دباو سپریم کورٹ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔افراد اور اداروں پر تنقید کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے، اس سے نفرت اور کشیدگی میں تو اضافہ ہوتا ہے لیکن اس طریقے سے نہ تو قانون کی بالادستی کا مقصد حاصل ہو سکے گا اور نہ ہی ایسا صحت مند سیاسی ماحول پیدا ہو سکے گا جس کے نتیجے میں شفاف انتخابات کا مقصد حاصل ہو سکے اور ان کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومتیں ملکی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کے ساتھ اقتدار میں آ سکیں یہ بات ناقابل فہم ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کیوں کر عمران خان کے ایک بیان پر سو موٹو لے کر تمام معاملات ان کی خواہش و ضرورت کے مطابق طے کرنا شروع کر دیں گے۔ عمران خان خود مساوات اور قانون کی بالا دستی کا دعوی کرتے رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں انہیں خود سوچنا چاہیے کہ اگرچہ وہ ایک بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں لیکن قانون اور عدالت کی نگاہ میں ان کی حیثیت محض ایک شہری کی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری ملک میں سیاسی ہم آہنگی، کشیدگی پر قابو پانے اور متوازن ماحول میں انتخابات منعقد کروانے کے مقصد کو نقصان پہنچائے گی۔ لیکن اگر اس پہلو پر وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اور دیگر عناصر کو غور کرنے کی ضرورت ہے تو عمران خان اور ان کی پارٹی پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ عمران خان نے حال ہی میں حکومت پر دباو ڈالنے کے لئے جو سیاسی فیصلے کیے ہیں، ان کا نتیجہ ان کی خواہش کے مطابق برآمد نہیں ہوسکا۔اس ناکامی پر الیکشن کمیشن پر غصہ نکالنے کی بجائے انہیں خود اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا چاہیے اور تحریک انصاف کو فرد واحد کی مرضی کا پابند بنانے کی بجائے، ایک جمہوری پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی تنظیم سازی کرتے اور اسے ایک فعال سیاسی ادارے کے طور پر سامنے لاتے۔ اس کا سب سے بڑا یہ فائدہ ہوتا کہ تحریک انصاف محض پرویز الہی کا محتاج ہونے کی بجائے، میرٹ اور منشور کی بنیاد پر امیدوار تلاش کرتی اور عوام سے اپنے سیاسی پروگرام پر ووٹ لینے کی کوشش کرتی۔ عمران خان نے یہ وقت ناکام احتجاج کرنے، عوام میں اشتعال پھیلانے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کے لئے صرف کیا۔ اب بھی وہ اسی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں۔حیرت انگیز طور پر فواد چوہدری کی حمایت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے اس بات پر اصرار ضروری سمجھا ہے کہ فواد چوہدری نے اگر چیف الیکشن کمشنر کو منشی کہا ہے تو اس میں کیا غلط بات ہے۔ گویا وہ اپنے نقطہ نظر کو ایک مانی ہوئی حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں اور سب کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اسے تسلیم بھی کریں۔ کچھ ایسی ہی صورت حال پنجاب میں محسن نقوی کو نگران وزیر اعلی بنانے کے حوالے سے بھی دیکھنے میں آئی ہے۔عمران خان کو خود غور کرنا چاہیے کہ اگر خیبر پختون خوا میں یہ معاملہ خوش اسلوبی اور باہمی اتفاق رائے سے طے ہو سکتا تھا تو کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر پنجاب کے وزیر اعلی کے نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ تحریک انصاف نگران وزیر اعلی کے طور پر اپنا ہمدرد شخص لانا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ایسے شخص کا نام بھی اس کے امیدواروں میں شامل کر لیا گیا جو ابھی سرکاری نوکری سے بھی فارغ نہیں ہوئے۔ الیکشن کمیشن پر اس حوالے سے الزام تراشی سے پہلے عمران خان کو خود اپنی سیاسی کمزوری کا اعتراف کرنا چاہیے کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں وہ اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔الیکشن کمیشن ان چار ناموں میں سے ہی ایک شخص کو یہ عہدہ تفویض کرنے کا پابند تھا جو سابقہ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔ یہ درست ہے کہ محسن نقوی کا نام حمزہ شہباز نے پیش کیا تھا لیکن کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف کوئی ایسا نام سامنے لانے میں ناکام رہی کہ الیکشن کمیشن کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آتی۔ عمران خان اور پرویز الہی نے محسن نقوی کے خلاف بہت شور مچایا ہے اور اس معاملہ پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان بھی کیا ہے لیکن تین روز گزرنے کے باوجود اس اعلان پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ شاید اس کی نوبت بھی نہ آئے کیوں کہ عدالت کس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلہ کو مسترد کرے گی؟تحریک انصاف فوری انتخابات کی ضد پر تو قائم ہے لیکن اسی شدت سے وہ الیکشن کمیشن کے خلاف پروپیگنڈا مہم میں بھی مصروف ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک ہی مقصد ہے کہ اگر انتخابات میں حسب خواہش اکثریت حاصل نہ ہوئی تو اسے دھاندلی زدہ قرار دے کر مسترد کر دیا جائے۔ امید کرنی چاہیے کہ فواد چوہدری مناسب قانونی کارروائی کے بعد عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن حکومت اور تحریک انصاف کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایسے واقعات دہرائے نہ جائیں۔ ملک میں انتخاب ہونے والے ہیں اور اس دوران الزام تراشی کی بجائے اگر پارٹی منشور اور پروگرام کی بنیاد پر عوام سے رجوع کیا جائے تو سب کو اس کا فائدہ ہو گا۔