قومی شہدا کی توہین ایک سنگین جرم

قومی شہدا کی توہین ایک سنگین جرم

                                                              مظہر علی
چند روز قبل یکم اگست کی شام5  بج کر10  منٹ پر پاک فوج کا ایک ریلیف اور ریسکیو ہیلی کاپٹر ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا جن میں پاک فوج کے سینیئر افسران؛ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی، ڈی جی کوسٹ گارڈ میجر جنرل امجد حنیف، بریگیڈیئر محمد خالد سمیت کل پانچ افسران اور ہیلی کریو کے نائیک مدثر سوار تھے۔ آئی ایس پی آر نے چند گھنٹے بعد اپنی ایک پریس ریلیز کے ذریعے قوم کے سامنے اس دل دہلا دینے والی خبر کا انکشاف کیا جس میں پاک فوج کے تمام افسران و عملے کی حفاظت کے لیے پوری قوم کو اللہ تعالی سے دعا کی درخواست کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ہیلی کاپٹر نے شام5  بج کر10  منٹ پر اتھل سے ٹیک آف کیا جس نے شام6:05  پر کراچی میں اترنا تھا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہیلی کاپٹر خراب موسم کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا اور اس میں اعلی فوجی افسران سمیت تمام6  اہلکار جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔ بلاشبہ یہ پوری قوم کے لئے ایک انتہائی افسوسناک اور غمگین کر دینے والی خبر تھی اور پوری قوم اس سانحے پر شدید سوگوار رہی لیکن اس افسوسناک واقعے کے فوراً بعد کچھ سنگدل، بدتمیز اور بد اخلاق لوگوں کی جانب سے پاک فوج کے ان بہادر افسران اور سپوتوں اور ان کے لواحقین کی دل آزاری کرنے کی ایک بے بنیاد پروپیگنڈہ مہم شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ جب آرمی ہیلی کاپٹر کے لاپتہ ہونے کی خبر آئی تو سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے تضحیک آمیز تبصرے شروع کر دیے۔ ان میں سے کچھ تو لاپتہ ہیلی کاپٹر پر اعلی عسکری قیادت کی موجودگی کی خواہش کی حد تک چلے گئے۔ اس طرح کے تبصرے کرنے والوں میں سے زیادہ تر کا تعلق بظاہر ایک مخصوص سیاسی جماعت سے بتایا جا رہا ہے، جس نے فقط اپنی غلط فہمی کی بنیاد پر یہ فرض کر لیا ہے کہ پچھلی حکومت کو ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے غیرقانونی طور پر نکالا تھا۔ اس طرح سے ایک مخصوص سیاسی ذہنیت کے حامل لوگوں نے سوشل میڈیا پر یہ طوفان بدتمیزی شروع کیا۔ ایسے پست قد و قامت اور سیاہ کردار و اخلاق کے لوگ ہر جگہ اور ہر قوم میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن ایسے تمام لوگوں کے ساتھ ان کی صحیح اور فوری علاج کے لیے آہنی ہاتھ سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ تب ہی وہ اپنے برے کردار اور طرز عمل سے توبہ تائب ہو کر سدھر سکتے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر پاک فوج کے میڈیا ونگ یعنی آئی ایس پی آر نے سوشل میڈیا پر مہم کا سخت نوٹس لیا۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست کو ہونے والے بدقسمت ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والی افسوسناک مہم شہدا کے خاندانوں اور مسلح افواج کے رینک اور فائل میں گہرے غم اور پریشانی کا باعث بنا ہے۔ جبکہ پوری قوم اس مشکل وقت میں ادارے کے ساتھ کھڑی ہے تو بعض بے حس حلقوں نے سوشل میڈیا پر تکلیف دہ اور تضحیک آمیز تبصروں کا سہارا لیا جو ناقابل قبول اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے وضاحت کی کہ لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کی جانب سے فوج اور اس کی قیادت کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کرنے کے بعد وہ یہ بیان جاری کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ان عناصر کو مسترد کرنا چاہیے، اعلی فوجی ترجمان نے ایک نجی نیوز چینل کو بتایا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ یہ ناقابل قبول ہے اور اس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے۔ اگر ہم قومی مسلح افواج کے خلاف بعض غلط سیاسی عناصر کے ذہنوں میں بالعموم اور اس افسوسناک ہیلی کاپٹر حادثے کے واقعے کے بارے میں بالخصوص اس طرح کی منفی پیش رفت کا تنقیدی طور پر جائزہ لیں تو اس سے ملک کے اندر سیاسی اور عوامی معاملات کی انتہائی سطحی اور جزوی فہم کا پتہ چلتا ہے۔ ملک کے تمام اعلی سیکورٹی اداروں، سپریم کورٹ، انٹیلی جنس ایجنسیوں وغیرہ کو صرف اور صرف ایک بولی اور بیانیے کی قیمت پر جھٹلایا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ اس قسم کے مطلق العنان رویے نے سیاسی عدم برداشت حتی کہ دشمنی کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ہماری قوم کے کچھ ناسمجھ لوگ فوج و ریاست مخالف رویے میں بے عقلی اور پاگل پن کا شکار ہوئے ہیں اور بالخصوص ایسے گھٹیا اور سستے عناصر اپنے سیاسی حریفوں کے لیے ملنساری، تہذیب، شرافت اور اخلاقی اقدار کو بھول چکے ہیں۔ اختلاف رائے رکھنے والے اور یہاں تک کہ اب قابل احترام قومی سلامتی کے ادارے بھی ان کی شیطانیت اور زہر افشانی سے محفوظ نہیں۔ ایسے تمام شقی القلب اور بدتہذیب عناصر کا یہ مزاج اور طرز عمل بلاشبہ یزیدیت اور خارجیت پر مبنی ہے۔ پاکستان میں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے حادثات کی ایک طویل تاریخ ہے۔1949  کا ڈکوٹا طیارہ حادثہ جس میں پاک فوج کے مستقبل کے C-in-C میجر جنرل افتخار خان سوار تھے، جو جھنگ شاہی ٹھٹہ سندھ کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ جنرل ضیا الحق کا طیارہ حادثہ 1988، بھارتی فضائیہ کی جانب سے1999  میں نیول اٹلانٹک طیارے کی بلا وجہ تباہی،MI-17  ہیلی کاپٹر کا حادثہ2015  جس میں غیرملکی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو گلگت بلتستان میں ایک تقریب کے لئے لے جایا جا رہا تھا،2016  میں شہید جنید جمشید کو لے جانے والی ایک ملکی پرواز کا حادثہ وغیرہ کچھ ایسے المناک ہوائی حادثے ہیں جنہوں نے پوری قوم کو شدید سوگوار کر دیا اور پورے ملک میں مسلمان ارواح کی اموات پر سوگ کا سماں رہا۔ تاہم فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے حالیہ تناظر میں، کور کمانڈر کوئٹہ اور دیگر سینئر افسران کو لے جانے والے ہیلی کاپٹر پر ان شہدا اور پاک فوج کے خلاف جس بری طرح سے بدتمیزی کی گئی اور بدتہذیبی پر مبنی سوشل میڈیا مہم چلائی گئی وہ نہ صرف شدید قابل مذمت ہے بلکہ فوری قابل گرفت اور قابل مواخذہ بھی ہے۔ پاکستان میں ہر وہ شخص جو فوج کے خلاف بطور ادارہ بات کرتا ہے، خود ساختہ اور نام نہاد ثبوتوں یا شواہد سے اپنی بحث اور انفرادی بیانیے کی حمایت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر عام آدمی جو پاکستانی سیاست، بین الاقوامی سیاسی افق اور طویل المدتی قومی مفادات کے الف ب سے بھی واقف نہں ہوتا، سیاست کی گہری بحث میں کود پڑتا ہے اور جان بوجھ کر اپنی ساری توانائی اور بحث کا رخ عسکری اداروں کے خلاف موڑ دیتا ہے۔ ایسے عناصر نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے فقرے کو بلاوجہ بدنامی کے مترادف قرار دیا ہے اور یہ صرف ان کی اپنی سیاہ کاری، بدتمیزی، بد اخلاقی اور نیچ سیاسی قد کی وجہ سے ہے۔ بلاشبہ یہ ایک انتہائی سستا، غیرذمہ دارانہ اور جنونی رویہ ہے۔ یہ ایک نئی اور غیرمہذبانہ روایت کو رائج کرنے والی بات ہے جو قومی سلامتی کے اداروں اور مجموعی طور پر طویل المدتی قومی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ اور بہتان طرازی پر مبنی ہے۔ سیاسی رقابت اور اقتدار کی دوڑ نے عام لوگوں کے منہ کو جلتی بھٹی بنا دیا ہے جہاں ہر وقت اپنے مخالفین یعنی سیاسی، مذہبی اور ذاتی مخالفین حتی کہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بدتہذیبی کی آگ بھڑکتی رہتی ہے۔ بدتمیزی اور پاگل پن کے اس عمل کو یا تو روکا جائے یا ایسے عناصر کی کڑی نگرانی کرکے ان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ دیگر ایسے عناصر کے لئے عبرت ہو۔ ایسے عناصر سخت قانونی اقدام کے بغیر سدھرنے والے نہیں جیسا کہ انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ you cannot catch a hare with a tabret، یعنی لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ ایسے ہی ان بدتمیز لوگوں کا معاملہ بھی ہے۔ انہیں اخلاقیات، شائستگی، شرافت اور ایک ذمہ دار شہری بننے کا سبق سکھاتے ہوئے ان سے آہنی ہاتھ کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی وہ اپنے منہ کے اس سستے پن کو لگام دے سکتے ہیں۔ فوج مخالف ایسا پست اور گھٹیا طرز عمل کسی ملک و معاشرے میں روا نہیں۔ فوج کون ہے؟ فوج ہم اور آپ ہیں۔ مملکت پاکستان کے ہر گھر سے ہمارے ہی اپنے اسی فوج کا حصہ ہیں۔ جو کوئی غیر نہیں بلکہ اس وطن اور مٹی کے بیٹے ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک سے لے کر ترقی یافتہ قوموں مثلاً امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین یہاں تک کہ ہمارے پڑوسی ممالک کے افواج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی پراپیگنڈے کے لئے قانون و آئین میں سخت سزائیں مقرر ہیں کیونکہ یہی فوج قومی آزادی و خودمختاری کی ضمانت ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی ان عناصر کا قبلہ درست کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ ہمارے تمام فوجی شہدا ہمارے حقیقی اور اصل ہیروز ہیں۔ وہ ہمارے قومی ہیروز کی فہرست میں سرفہرست ہیں کیونکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اپنا قیمتی اور انمول خون بہاتے ہیں۔ ایک سمجھدار اور مہذب شہری کی حیثیت سے ہمیں اپنی دفاعی افواج اور تمام اداروں کا احترام اور قدر کرنی چاہیے کیونکہ وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ فوج مخالف اور ریاست مخالف زہریلے پروپیگنڈے کا آسان اور کمزور شکار نہ بنیں۔ ہمارے ملک کی دفاعی افواج اس پاک سرزمین کی سلامتی، سالمیت، یکجہتی اور آزادی کی یقینی اور مستقل ضامن ہیں۔ کھلی آنکھوں کے ساتھ ذہنوں کو کھول کر رکھنا بھی ضروری ہے۔ تب ہی ہم سب اپنے محدود اور ذاتی مفادات کے لیے سیکیورٹی اداروں کے خلاف ہمارے کچھ نام نہاد سیاستدانوں کی شرپسندانہ پروپیگنڈہ مہم اور سیاسی بدزبانی کے پیچھے کی حقیقت اور اصلیت سمجھ سکتے ہیں۔