کورونا اخراجات میں بے ضابطگیاں، یہ کرپشن اب کیوں؟

کورونا اخراجات میں بے ضابطگیاں، یہ کرپشن اب کیوں؟

ایک طرف موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا  ہے تو دوسری جانب ملک کے طول و عرض میں گیس نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، اپوزیشن یکجا نا سہی، اسی طرح زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق مگر موجودہ حکومت سے نالاں افراد کا بھی متحدہ محاذ نا سہی، لیکن سب کے سب وقتاً فوقتاً حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک طرف حکومتی حلقے پارسائی، ملک و قوم کے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے اور نجانے کون کون سے بلند و بانگ دعوے کر رہے ہیں تو دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر سنگین قسم کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ بہرصورت بات اپوزیشن کے الزامات تک محدود رہتی تو بھی اسے سیاسی کھیل کا حصہ سمجھ کر اس سے صرف نظر کیا جا سکتا تھا مگر موجودہ حکومت کے دوغلے پن، اس حکومت کے دوران مچی لوٹ مار اور اس حکومت میں شامل ارکان کی جانب سے بولے جا رہے مسلسل جھوٹ پر سے خود حکومت اور ملک ہی کے نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح کے ادارے بھی پردہ اٹھاتے رہے ہیں۔ جیسے حال ہی میں  کورونا وباء کے دوران اخراجات سے متعلق آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات کئے گئے ہیں، رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کورونا وباء کے دوران بارہ سو ارب روپے کے مالیاتی پیکج کے باوجود وینٹی لیٹرز کی خریداری میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی اور قومی خزانے کو تقریباً ایک ملین ڈالر کا ٹیکہ لگایا گیا۔ اسی طرح احساس کیس پروگرام اور ریسورس منیجمنٹ سسٹم کی خریداری میں بے ضابطگیاں کی گئیں، احساس کیش پروگرام میں تیرہ لاکھ سے زائد لوگوں کو فنڈز سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوٹیلٹی سٹوروں کے لئے پچاس ارب میں سے صرف دس ارب ہی جاری کئے گئے جبکہ زرعی شعبے کے لئے اعلان کردہ سبسڈی سرے سے جاری ہی نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اداروں کی جانب سے نیب کو تمام معاہدوں کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔ اسی طرح کچھ ہی روز قبل یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ ضم شدہ اضلاع کے گذشتہ تین سالوں کے مالی بجٹ کا ریکارڈ بھی غائب ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ ضم اضلاع کے غریب و طرح طرح کے مسائل سے دوچار عوام کے لئے جاری فنڈز کو بھی ماں کا دودھ سمجھ کر بغیر ڈکار لئے ہضم کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل بیس ملین ماسک کی غیرقانونی طور پر بیرون ملک برآمدگی کے بھی الزامات عائد کئے گئے تھے، یہ الزامات کسی اور پر نہیں وزیر اعظم کے تب کے مشیر برائے صحت پر لگائے گئے تھے لیکن اس کے بعد یہ معاملہ بھی سردخانے کی نذر ہو گیا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ سندیافتہ صادق و امین حکومت میں اس طرح کی بدعنوانیوں کے چرچے مسلسل کیوں ہو رہے ہیں؟ بلکہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب تبدیلی سرکار کے دور حکومت میں کوئی نا کوئی نیا سکینڈل سامنے نہیں آتا، ان سکینڈلوں میں ملوث ناموں میں سے بیشتر کپتان کی اپنی ٹیم کے کھلاڑی، یعنی ملک کے صادق و امین وزیر اعظم کی کابینہ میں شامل ہیں۔ آج حکومت کا سربراہ بقول شخصے ایماندار و دیانتدار ہے لیکن اس ایماندار و دیانتدار حکمران کے جلو میں بیٹھے لوگوں کے دامن پر داغدار کیوں نظر آ رہے ہیں؟ بات سیدھی سادی ہے، حکمرانوں کا موجودہ ٹولہ جس طرح کی ''خدمات'' سرانجام دینے کی حامی بھر چکا ہے اسے دیکھتے ہوئے کرپشن و بدعنوانی تو معمولی بات، ان لوگوں کے لئے سات خون بھی معاف کئے جا سکتے ہیں جبکہ دیگر آہ بھی کریں گے تو اس کی انہیں بہت بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ حال ہی میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں علی احمد کرد کی تقریر پوری قوم کو سننی چاہیے اور پھر انہیں یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ انہیں اوپر آنا ہے یا وہ مزید پستیوں میں جانے اور ذلتوں کا شکار ہونے پر بھی تیار ہیں۔