کیا واقعی لاہور اب بڑے بھائی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟        

کیا واقعی لاہور اب بڑے بھائی کا کردار ادا کرنے جا رہا ہے؟        

تحریر: ماخام خٹک

آج کل سوشل میڈیا پر خان عبدالولی خان کی ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ  کسی کچہری میں پولیس کے پہرے میں جا رہے ہیں اور شاید یہ حیدر آباد جیل یا کیس کی تصویر معلوم ہوتی ہے۔ اور اس کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف آخری جنگ یا معرکہ پنجاب سے ہو گا۔ اب اگر ہم اس بات کو ذرہ تفصیل سے جانچیں تو ان کا یہ عکس نواز شریف کی ''مجھے کیوں نکالا'' کے نعرے سے لے کر عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن کے حالیہ منعقدہ سیمینار سے بالکل کھل کر اسٹبلشمنٹ کے سامنے نبردآزما نظر آنے لگا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ اس سیمینار میں پورے پاکستان کے ان سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق سے وابستہ لوگوں کو مدعو کیا گیا تھا جن کو اسٹبلشمنٹ سے سخت ناراضگی، سیاسی بالادستی یا زیردستی، حاکمیت اور محکومیت کے گلے شکوے ہیں یا رہے ہیں۔ اس سیمینار میں افراسیاب خٹک، ایاز پلیجو، عبدالمالک بلوچ، محسن داوڑ، منظور پشتین، وڑانگہ ارمان لونڑی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نوز شریف کو بھی لندن سے تقریر کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ ان سب میں سے سب سے زیادہ تنقید نواز شریف کی تقریر پر ہوئی، تاریں کاٹی گئیں تاکہ ان کو کوئی لائیو سن نہ پائے۔ اس سیمینار میں پنجاب کے پایہ تخت اور پاکستان کے دل شہر لاہور میں تقریروں میں وہ، وہ باتیں ہوئیں جو مندجہ بالا شرکاء میں سے ہر ایک اپنے اپنے علاقوں، اپنے حلقہ احباب یا پھر نجی پروگراموں، جلسوں جلوسوں یا اخبارات یا ٹی وی ٹاک شوز وغیرہ میں تو کرتے رہتے تھے لیکن ایسے سیمینار یا پھر ایسے پلیٹ فورم سے پہلی مرتبہ سنائی گئیں اور وہ بھی لاہور میں! سیمینار پر حکومت کا مو قف سامنے آیا ہے اور فواد چوہدری کا موقف یہ رہا کہ حکومت اس لئے اس سیمینار میں نہیں گئی کہ ان کو بتایا گیا کہ اس سیمینار کی اختتامی تقریر نواز شریف کریں گے۔ اور ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایسشن کے صدر احسن بھون سے یہ سوال بھی کیا گیا کہ کیا چیف جسٹس یا دیگر ججز کو پروگرام میں آنے سے پہلے یہ بتا دیا گیا تھا کہ اس پروگرام میں اختتامی تقریر نواز شریف کریں گے جس پر انہوں نے بولا کہ اس بات کی ان کو بتانے کی انہوں نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔ جس طرح عاصمہ جہانگیر کو آئرن لیڈی کا خطاب دیا گیا تھا وہ بعد از مرگ بھی آئرن لیڈی ثابت ہوئیں اور ان کی برسی پر منعقدہ سیمینار نے فرحت اللہ بابر کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا یا ان کو ببانگ دہل کہنا پڑا کہ عاصمہ جہانگیر بے زبان لوگوں کی زبان یا بے آواز لوگوں کی آواز تھیں اور آج ہم ان کی زندگی کو منا رہے ہیں نہ کہ ان کی موت پر ماتم کر رہے ہیں۔ اور ان کی بات میں سو فی صد درستگی بھی پائی جاتی ہے کیونکہ اس کانفرنس کے بعد عاصمہ جہانگیر پھر سے زندہ ہو گئی ہیں اور لاہور کو ایک سیاسی مرکز یا بڑے بھائی کے درجے پر فائز کر دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں واقعی لاہور کا دل بہت بڑا دکھائی دیا گیا کیونکہ اس دوران ایسی بھی باتیں کی گئیں جو لاہور میں بیٹھ کر یا لاہور میں سٹیج پر کھڑے ہو کر پنجاب کے خلاف بولی گئیں لیکن اب کی بار پنجاب کا دل بہت بڑا، بہت گہرا اور بہت وسیع تھا اور اپنے آپ پر ہونے والی تنقید کو تالیوں کے ساتھ خوش آمدید کہا گیا،  اسٹبلشمنٹ، آئین اور آئین شکنی کے خلاف کھل کر اظہار خیال کیا گیا اور نہ صرف یہ سب کچھ بڑے تحمل کے ساتھ  سنا گیا بلکہ اس کو سراہا بھی گیا۔ اور اس کانفرنس کے بعد اب سیاسی جغادری یا سیاسی پنڈت یہ کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ اب نواز شریف کی قیادت میں لاہور سیاسی طور پر چھوٹے صوبوں کے لئے ایک حقیقی بڑے بھائی کی طرح کردار ادا کرنے جا رہا ہے لیکن اس تمام صورت حال کو دوسری سمت سے دیکھنے والے اسے ایک وقتی مشق سے تعبیر کر رہے ہیں اور اس بات کو قطعاً ماننے کو تیار نہیں کہ لاہور یا نواز شریف چھوٹے صوبوں کے لئے بڑے بھائی کا کردار نبھانے جا رہے ہیں۔ بلکہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق یہ ان کی سیاسی مجبوری ہے اور آج وہ ہر طرف سے جکڑے ہوئے ہیں اس لئے  وہ اس سیاسی مجبوری  سے نکلنے کے لئے چھوٹے صوبوں کے لئے ایک بڑے بھائی کا روپ دھار چکے ہیں۔ اس طرح وہ ان سیاسی چالوں سے اسٹبلشمنٹ پر اصل میں دباؤ بڑھانا چاہتے ہیں اور اس دباؤ کے نتیجے میں سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں جن میں اپنے یا بیٹی کے لئے آنے والے وقتوں میں وزیراعظم بننے کا راستہ کھلوانا، سزائیں ختم کرانا اور منجمد جائیداد اور پیسے ریلیز کروانا شامل ہیں۔ اور یہ تمام فوائد حاصل ہونے کے بعد وہ پھر سے اپنا پرانا رنگ اپنے چہرے پر سجا دیں گے جس کے لے وہ مشہور ہیں یا پھر ان کے دیرینہ دوست جس طرح اور جس انداز سے ان کو جانتے ہیں۔ جس کے لئے ان کا ماضی ان کی بہترین مثال ہے۔