پاکستان بہتر مستقبل کی جانب گامزن؟ 

پاکستان بہتر مستقبل کی جانب گامزن؟ 

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے تیسرے پارلیمانی سال کی تکمیل اور چوتھے سال کے آغاز پر تمام معزز اراکین پارلیمان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک نئی سمت اور بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہے، گزشتہ تین سالوں میں ہمارے ملک اور قوم میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں جنہیں ہر جگہ دیکھا گیا ہے اور میری آج کی یہ تقریر اِن تبدیلیوں اور کامیابیوں کا احاطہ کرنے کی ایک کوشش ہوگی، گزرے ہوئے تین سالوں میں کئی مراحل سے گزرے اور ہمیں کئی مشکلات بھی درپیش رہیں لیکن اب ہم بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہیں، وزیراعظم عمران خان نے ہر مسئلے کا حل مذاکرات ہی قرار دیا ہے جس کی واضح مثال افغانستان ہے جہاں کھربوں ڈالر خرچ ہوئے، لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں لیکن ہاتھ کچھ نہ آ سکا اور بالآخر20  سال کی طویل جنگ کے بعد حالات اسی نہج پر آئے جس کی عمران خان بار بار تلقین کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان میں قیام امن کا خواہاں رہا ہے اور اس میں پاکستان کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، اب ہماری یہ خواہش ہے کہ افغانستان کی نئی حکومت افغان عوام کو متحد کرے، انہیں تحفظ کا یقین دلائے اور کسی بھی موقع پر حالات نہ بگڑنے دے، سب سے بڑی بات یہ ہو گی کہ نئی افغان حکومت کی کوشش ہونی چاہئے کہ افغان سرزمین سے کسی بھی پڑوسی ملک کو کوئی خطرہ نہ ہو اور اس سلسلے میں طالبان کے بیانات ہمارے لئے اور پوری دنیا کیلئے حوصلہ افزا ہیں، اب دنیا بھر کے ممالک کو کوشش کرنا ہو گی کہ وہ افغانستان کو تنہا نہ چھوڑیں، ان کی بھرپور مدد کریں اور افغانستان کی تعمیر اور بحالی میں اپنا پورا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت بھی افغانستان کو میڈیکل اور انسانی ہمدردی کے تحت مدد فراہم کر رہا ہے اور شاید یہی وجوہات ہیں کہ پوری دنیا میں پاکستان کے کردار کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کو تسلیم کرنا ہو گا کہ افغانستان کے بارے میں عمران خان اور پاکستان کا مشورہ درست ثابت ہوا امن ہی تمام مسائل کا حل ہے اور مذاکرات سے ہی تمام مسائل کا تصفیہ ممکن ہے، یہی اصول اپنا کر افغانستان میں امن قائم ہوا، نہ خون خرابہ اور نہ دباؤ اور دھونس سے کسی بھی میدان میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر بڑی مثال اس سلسلے میں انہوں نے فتح مکہ کی دی اور کہا کہ دنیا کو بلاجواز پاکستان پر تنقید کی بجائے ہمارے مثبت کردار کو سراہنا چاہئے۔ معاشی ترقی کے فروغ کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کے بارے میں صدر پاکستان عارف علوی نے کہا کہ پاکستان معاشی ترقی کیلئے جیو اکنامکس اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے، اس سلسلے میں شنگھائی اور اقتصادی تعاون تنظیموں کے ساتھ ساتھ دیگر فورمز پر علاقائی روابط کے فروغ کی کوششیں پہلی کڑی ہو گی، جو آگے چل کسی مضبوط حصار میں تبدیل ہو سکتی ہے، خطے میں امن کیلئے افغانستان میں پہلے امن کا قیام لازمی ہے کیونکہ اس سے پورے خطے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، پڑوسی ممالک میں چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کو پاکستان ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اس سے بڑھ کر چین نے بھی ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن چند دشمن عناصر جیسے بھارت پاک چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ اس سلسلے میں صدر مملکت نے جہاں تبدیلیوں کی جانب اشارے کئے وہیں انہوں نے دعا کی کہ ہمارے ہاں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا عمل بھی پروان چڑھے جس سے اندرونی طور پر بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ انتخابی اصلاحات اور آئی ووٹنگ کے بارے میں بھی صدر مملکت نے کہا کہ عوام کو اسے تسلیم کرنا چاہئے نہ کہ انتخابی اصلاحات کو ٹھوکر پر رکھا جائے اور اس میں ترمیم یا اسے ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا جائے، اس سے اجتناب برتتے ہوئے عوام کو آئی ووٹنگ کی بھی حمایت کرنا ہو گی۔ کرپشن، کورونا اور ماضی کی غلط ترجیحات کی وجہ سے ہماری معیشت سکڑ کر رہ گئی اب کوشش ہے کہ اسے بحال کیا جائے اور وقت آ گیا ہے کہ سب متحد ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان تمام باتوں میں کہیں بھی موجودہ اندرونی حالات اور مہنگائی کا تذکرہ نہیں کیا گیا، اگر عوام رل رہے ہیں تو صدر کو کیوں اس بارے میں بریفنگ نہیں دی گئی، ان سب سے بالاتر ہو کر عوام کی فلاح کیلئے ہونے والے اقدامات کا اس تقریر میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا، عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں اس بارے بھی حکومت کو ضروری اعلانات کرنے چاہئیں تھے کیونکہ حاکم وقت سے عوام ریلیف بارے کچھ سننے کیلئے کان لگائے بیٹھے ہوتے ہیں لیکن ان گزشتہ تین سالوں میں عوام کے حقوق جس طرح سے سلب کئے گئے ان میں بہتری یا عوام کو ان حقوق تک رسائی اس سال بھی ملنا مشکل دکھائی دیتی ہے، ہسپتال، اشیائے خوردونوش سمیت لاتعداد مسائل ہیں جن پر بحث ہونی چاہئے تھی، اب بھی عوام منتظر ہیں کہ شاید ان کے بہتر مستقبل کیلئے فیصلے کئے جائیں جن کے ثمرات سے عوام مستفید ہو سکیں۔