ریاست ایسی ہوتی ہے کیا؟

ریاست ایسی ہوتی ہے کیا؟

تحریر: کڈوال ناصر

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اغوا ویسے تو نئی اور حیران کر دینے والی بات نہیں، اسی شہر میں ریاستی و حکومتی، قانونی اور سکیورٹی اداروں کے انتظامی مراکز جہاں ہیں اس کے باوجود اس شہر ایسے واقعات ایک معمول بنتے جا رہے ہیں ہیں، جنہیں دیکھ کر باقی ممالک اپنے شہری اور سفارتی عملہ پاکستان بھیجنے پر بھی کئی بار سوسچتے ہوں گے ۔ اس ملک خصوصاً اس شہر میں سب سے زیادہ صحافی اغوا ہوتے رہتے ہیں ، وہ بھی وہ صحافی حضرات جو سچ بولتے ہیں ، عوامی امنگوں اور عوامی خیالات کو جو اپنے قلم کی زبان بنا لیتے ہیں۔ صحافوں کے علاوہ اسی شہر سے ریٹائر فوجی آفیسرز اور سیاسی کارکنوں سمیت حاضر سروس پولیس آفیسر بھی دن دیہاڑے اغوا ہوئے، گرچہ اکثریت زندہ بچ کر گھروں کو لوٹ آئی مگر ان میں ایسے بھی لوگ تھے جو جان سے ہی ہاتھ دو بیٹھے، جن میں مجھے ایک صحافی سلیم شہزاد جبکہ دوسرا بہترین پشتو شاعر، لکھاری اور بہترین پولیس آفیسر طاہر داوڑ یاد ہیں۔ گرچہ ہمارے لیے تو یہ واقعات کوئی نئی یا انہونی بات نہیں مگر دنیا  کو تو کسی بھی ایسی ایٹمی قوت سے تعلقات رکھنا بہت مشکل ہوتے ہیں، اقوام عالم ایسی ریاست کو اپنے لیے خطرہ نہ سمجھیں تو کیا کریں؟ پاکستان کو باقی دنیا سے اس معاملے پر کسی خیر کی توقع کیسے ہو سکتی ہے ؟ آج ہی ایک خبر چلی ہے 16جولائی کو افغان سفیر کی چوبیس سالہ بیٹی پاکستان کے بلیو ایریا کی ایک مارکیٹ سے اغوا ہوئی ، چھ گھنٹے بعد اسلام آباد ہی کے ایک دوسرے علاقے میں اسے ہاتھ پاؤں باندھ کر پھینک دیا گیا ، نہ کسی کو کوئی خبر ہوئی نہ سکیورٹی حکام کے کانوں پر جوں رینگی۔ اور تو اور ریاستی اطلاعات کے محکمے سے بھی کوئی خبر تک نشر نہیں ہوئی بلکہ چوبیس گھنٹے بعد خود افغان وزارت خارجہ کی پریس ریلیز سے خود پاکستانی میڈیا کو معلوم ہوا۔ ہم تو عادی ہو چکے ہیں ایسے نادر اور ناممکنات سے مگر دنیا کو خوب شغل میلہ ملا ہوا ہے پاکستان کی شکل میں، ہم نے تو اپنی زندگیاں یہاں اللہ کے حوالے کی ہوئی ہیں، آنے والی نسلوں کا تو سوچ کر ہماری آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، نہ جانے ان بیچاروں پر کیا بیتے گی؟ ہر وقت اور ہر کسی کے منہ سے یہی ایک فقرہ سن سن کر اب کان بھی پک چکے ہیں۔ آسرا بس ایک اللہ ہی کا ہے۔ دارالحکومت میں اتنا بڑا سانحہ رونما ہونا اور ریاستی مشینری کا نہ کوئی ردعمل نہ کوئی بیان، عجیب بات ہے! شاید خود افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی حکومت کی جانب سے کوئی ردعمل نہ آنے کے سبب بیان جاری کیا ہو گا۔ افغان وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مطابق افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو کل دن ڈیڑھ بجے جناح سپر مارکیٹ سے اغوا کیا گیا اور ساڑھے پانچ گھنٹے کے بعد اغوا کنندگان تشدد کے بعد بے ہوشی کے عالم میں ہاتھ پاؤں باندھ کر بلیو ایریا میں تہذیب بیکری کے پاس چھوڑ گئے۔ افغان وزارت خارجہ نے مندرجہ ذیل اعلامیہ جاری کیا ہے: اسلامی جمہوریہ افغانستان کی وزارت برائے امور خارجہ کو گہرے افسوس کے ساتھ کہا گیا ہے کہ 16 جولائی2021  کو اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی محترمہ سلسلہ علیخیل کو گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور کئی گھنٹوں تک انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اغوا کاروں کی قید سے رہا ہونے کے بعد محترمہ علی خیل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ وزارت خارجہ اس گھناؤنے اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور پاکستان میں سفارتی عملے، ان کے اہل خانہ اور افغان سیاسی اور قونصلر مشنز کے عملے کے ممبروں کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ تو تھا صرف افغان حکومت کا ردعمل، مگر دنیا اسے ایک گھناؤنے اور ناقابل قبول عمل کے طور پر دیکھے گی اور اپنے سفیروں کو پاکستان پر یقین نہ کرنے کے سبب ہوشیار رہنے کی تلقین کم از کم ضرور کرے گی۔ دنیا میں جہاں بھی کوئی پاکستان کے شہری کے طور پر اپنا تعارف کروائے گا تو مدمقابل سے یقینی طور پر نفرت سے بھرا ردعمل ملے گا، اس کی تکلیف اور پشیمانی کاش ان مختارانِ پاکستان کو ملے۔