افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کو ایک سال پورا ہو گیا: ہو کیا رہا ہے؟

افغانستان میں طالبان کی دوبارہ آمد کو ایک سال پورا ہو گیا: ہو کیا رہا ہے؟


(تحریر۔عزیز بونیری )پچھلے سال15  اگست کے دن دنیا یہ سن کر چونک گئی کہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی ملک سے باہر چلے گئے اور طالبان نے افغان حکومت کی عنان سنبھال لی۔ یہ خبر دنیا کے لئے گرچہ حیران کن تھی لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے کیونکہ امریکی انخلا کے اعلان کے ساتھ ہی وہاں حالات تیزی کے ساتھ بدلنا شروع ہو گئے تھے۔ 

دو دہائیاں افغانستان میں جمہوری نظام چلتا رہا۔ پچھلی دفعہ نائن الیون واقعہ کے فوری بعد امریکی حملہ کے ساتھ طالبان کی پہلی حکومت ختم ہو گئی تھی جس کے بعد حامد کرزئی صدر بن گئے تھے اور ان کے بعد ڈاکٹر اشرف غنی2014  میں صدر منتخب ہوئے۔ افغانستان طویل المدتی جنگوں، روسی اور امریکی حملوں اور خانہ جنگیوں کی وجہ سے تباہ حال تھا۔ لیکن حامد کرزئی اور ڈاکٹر اشرف غنی کے ادوار میں رفتہ رفتہ تباہ حال افغانستان ترقی یا قرار کی طرف گرچہ بہت آہستہ لیکن گامزن ضرور تھا۔ لیکن جیسے ہی امریکہ نے انخلا کا اعلان کر دیا تو اس کے ساتھ ہی حالات خراب ہونے لگے اور پھر15  اگست کو طالبان نے دوسری مرتبہ افغانستان کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔

طالبان نے شروع شروع میں عام معافی کا اعلان بھی کیا تھا اور تعلیم کے حوالے سے بھی سخت رویہ کا اظہار نہیں کیا گیا تھا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا تو حالات پرانی ڈگر پر چلتے گئے۔ برسراقتدار لوگوں پر مخالفین کے قتل اور خواتین کو کام کرنے سے روکنے کے الزامات لگتے گئے۔ بہرحال افغانستان پر طالبان کے قبضہ کو آج ایک سال پورا ہوگیا۔ پچھلے بیس سالوں میں جہاں پانی کے ڈیمز، سکول، صحت اور میڈیا کے میدانوں میں ترقی ہوئی تھی وہ تو یکسر رک گئی لیکن ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم پر پابندی بھی لگا دی گئی۔ ان اقدامات کی وجہ سے دنیا میں نئی افغان حکومت کے لئے مشکلات بھی بڑھ گئیں۔ تعلیم کے میدان میں جو ترقی ہوئی تھی وہ یکسر رک گئی۔ تمام قابل لوگ ملک سے بھاگ گئے۔ سکول بند ہوئے اور سیکھنے کا عمل رک گیا۔ اسی طرح معاشی فرنٹ پر بھی عوام پر سخت وقت آیا اور لوگ معاشی بدحالی کا شکار ہو گئے۔ بینک بند ہو گئے اور روزگار کے مواقع سکڑنے لگے۔ تنخواہیں یا تو ناپید ہو گئیں یا تاخیر کا شکار ہونے لگیں۔ پوری بھی نہہیں ملتیں۔ الغرض لوگوں کو خوراک میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ترقی کے جو منصوبے تھے اور جن سے لوگوں کو روزگار مل رہا تھا وہ رک گئے۔ تجارت بھی متاثر ہونے لگی۔ اور یوں ملک کو ماشی طور پر پیچھے دھکیل دیا گیا۔ 

امن و امان کی صورتحال میں بھی بہتری کے آثار نظر نہیں آرہے اور آئے روز بم اور خودکش دھماکے ہو رہے ہیں۔ ایک طرف معاشی حالات بدترین ہیں تو دوسری جانب امن و امان کے حالات بھی بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے ساتھ تعلقات بھی متاثر ہیں۔ سب سے زیادہ اثر تعلیم، دوطرفہ تعلقات اور معیشت پر پڑا ہے۔ آج کی اکیسویں صدی میں تعلیم، دوطرفہ تعلقات اور معیشت میں ترقی کے بغیر ترقی اور آگے جانا کسی بھی ملک کے لئے ممکن نہیں ہے۔ موجودہ سیٹ اپ کو چاہئے کہ ان جہات پر توجہ دے۔ تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرے۔ بچیوں کی تعلیم پر سے پابندی اٹھائے۔ تجارت اور کاروبار کے مواقع برابر کرے اور ممالک کے ساتھ تعلقات بھی استوار کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ملک بہت پیچھے رہ جائے گا۔ 

افغانستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے۔ نئے سیٹ اپ کو چاہئے کہ اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اپنے لوگوں کی زندگی آسان اور ملک کا مستقبل روشن کریں۔ نئے سیٹ اپ کو اب تک یہ بھی سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے کہ اب تک کسی بھی ملک نے ان کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ نئے سیٹ اپ کو سوچنا ہو گا کہ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے دنیا ان کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ یہ نیا زمانہ ہے۔ اس کے تقاضے نئے اور ضروریات زیادہ ہیں۔ 

افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن  نے کہا ہے کہ طالبان حکمران اپنے موجودہ اقتدار کے10  ماہ کے دوران ماورائے عدالت قتل، تشدد، بلا قانونی جواز کے گرفتاریوں اور انسانیت سوز سزاؤں کے ذمہ دار ہیں۔ مشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے متعدد گروہوں کو ان خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا، ہدف بنائے گئے افراد میں برطرف کی گئی حکومت سے وابستہ عہدیدار، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن اور صحافی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے دور حکمرانی میں خواتین کے حقوق بھی غصب کیے گئے ہیں۔ جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ (یو این اے ایم اے) کو انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ڈی فیکٹو حکام کو سزائیں نہ ملنے پر تحفظات ہیں۔ ''ڈی فیکٹو اتھارٹیز'' کی اصطلاح سے مراد موجودہ طالبان انتظامیہ ہے جس نے گزشتہ سال اگست میں غیرملکی افواج کے انخلا اور منتخب حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کی حکومت سنبھالی تھی۔ 

اقوام متحدہ کے ادارے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں طالبان حکام کے اٹھائے گئے ان اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے جن کا مقصد بظاہر انسانی حقوق کے تحفظ کے ساتھ مسلح تشدد میں کمی ہے، بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکام ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ رپورٹ میں خاص طور پر خلاف ورزیوں میں ملوث2  اداروں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے ایک وزارت امر بالمعروف ہے جب کہ دوسرا ادارہ خفیہ ایجنسی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کی جانب سے کی گئی ان خلاف ورزیوں کا شکار بننے والے سب سے زیادہ وہ لوگ تھے جو سابق حکومت اور اس کے حفاظتی اداروں سے وابستہ تھے۔ رپورٹ میں 160 ماورائے عدالت قتل،178  بلاقانونی جواز کے گرفتاریاں اور سابق سرکاری ملازمین کے ساتھ تشدد اور ناروا سلوک کے 56 واقعات درج کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں نے173  صحافیوں اور میڈیا ملازمین کو بھی متاثر کیا،173  میں سے163  خلاف ورزیوں کو طالبان حکام سے منسوب کیا گیا ہے جب کہ ان خلاف ورزیوں میں122  بلاقانونی جواز کے گرفتاریاں اور دھمکیوں کے33  واقعات بھی شامل ہیں۔ 

مشن نے اپنی رپورٹ میں خواتین کے حقوق کی پامالی پر بھی زور دیا ہے۔ افغان لوگوں اور نئے سیٹ اپ کو سوچنا ہو گا کہ افغانستان کو کوئی اور نہیں بلکہ یہ لوگ خود ہی بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے ہی ذکر کیا کہ افغانستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سے افغانستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔ یہ بھی دنیا کی ایک مانی ہوئی حقیقت ہے کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس  لئے وقت آں پہنچا ہے کہ جنگوں کو ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ کر امن کے راستے جنگ زدہ افغانستان کی خدمت کی جائے۔