آڈیو لیکس پر جے آئی ٹی تشکیل، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

آڈیو لیکس پر جے آئی ٹی تشکیل، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب

وزیر اعظم آفس میں ہونے والی گفتگو کے مزید آڈیو کلپس آن لائن منظر عام پر آنے سے دفترِ وزیراعظم کی سائبر سیکیورٹی پر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔

 

چنانچہ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ معلوم کرنے کے لیے کہ ملک کے اعلیٰ ترین دفتر میں ہونے والی غیر رسمی گفتگو کیسے لیک ہوئی، قومی سلامتی کمیٹی (کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔

 

 یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بڑے پیمانے پر سیکیورٹی میں خرابی کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے اور اعلیٰ انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ابتدائی انکوائری مکمل کر لی ہے، جس کی رپورٹ وزیراعظم کے سامنے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔

 

دوسری جانب جب وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے ہیکنگ کے امکان کو 'چائے کی پیالی میں طوفان' قرار دیتے ہوئے معمولی ظاہر کرنے کی کوشش کی تو اس پر اعتراضات اٹھے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر یہ محض 'موبائل فونز کی ہیکنگ' ہے تو اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں لیکن اگر کسی نے وزیر اعظم ہاؤس کو بگ (جاسوسی کیلئے آلات نصب کرنا) کر دیا ہے تو یہ سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

 

وزیر داخلہ نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں بتایا کہ 'صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعظم نے منگل کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے جس میں اعلیٰ سول اور عسکری قیادت شرکت کرے گی۔'

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہ جاسوسی ہے تو یہ معلوم کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے کہ ڈیوائس کیسے لگائی گئی اور اس کے پیچھے کون ہے، اگر یہ سچ ہے تو اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔'

 

انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اگر یہ صرف کچھ لوگوں کے موبائل فونز کی 'سادہ ہیکنگ' تھی جو شاید وزیر اعظم ہاؤس گئے ہوں تو یہ کوئی سنگین بات نہیں تھی۔

 

اس معاملے میں وزیر اعظم ہاؤس کا کوئی ویٹر یا کوئی اور عملہ ملوث ہو سکتا ہے، ہم انہیں قانون کے مطابق سزا دیں گے۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق انٹیلیجنس بیورو اور انٹر سروسز انٹیلیجنس نے اس معاملے پر اپنی ابتدائی انکوائری مکمل کر لی ہے اور ان کے سربراہان وزیراعظم کو این ایس سی کے اجلاس میں نتائج سے آگاہ کریں گے۔

 

جدید ٹیکنالوجی کے دور پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے اتفاق سے کہا کہ آج کی دنیا میں کسی کا بھی موبائل فون بشمول ان کا اپنا یا وزیراعظم شہباز شریف کا فون ہیک کیا جا سکتا ہے 'لیکن اس معاملے میں حکومت مستقبل میں ایسی ہیکنگ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی'۔

 

اس سے قبل ہفتہ کے روز ایک ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی جس میں سنا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک نامعلوم عہدیدار کے ساتھ ایک پاور پروجیکٹ کے لیے بھارتی مشینری کی درآمد میں سہولت فراہم کرنے کے امکان پر بات کر رہے تھے جو کہ ان کی بھتیجی مریم نواز کے داماد کی خواہش تھی۔

 

اتوار کے روز وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل اور قومی اسمبلی سے پی ٹی آئی کے قانون سازوں کے استعفوں سے متعلق مزید ریکارڈنگز منظر عام پر آئیں، جنہیں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا۔

 

لیک ہونے والی ریکارڈنگز میں ہوئی گفتگو، فون کی ریکارڈنگ کے بجائے بظاہر وزیراعظم کے دفتر میں ہونے والی غیر رسمی بات چیت معلوم ہوتی ہے۔

 

جس کی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کی تردید یا اس سے اختلاف نہیں کیا بلکہ اصرار کیا کہ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 'کچھ بھی غیر قانونی نہیں ہوا'۔