جہانگیر ترین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے آئیڈیلز

جہانگیر ترین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے آئیڈیلز

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں ان کے خلاف سازش شروع کر دی گئی تھی جس کی ساری تفصیلات انہیں اس وقت ملی گئی تھیں کہ ن لیگ والے سازش کر رہے ہیں، حکومت گرانے کا پورا پلان بنایا گیا ہے، (اور) وہ نہیں چاہتے تھے کہ آئی ایس آئی کا چیف تبدیل ہو جب تک سردیاں نہ نکل جائیں، یہ غلط تاثر دیا گیا کہ وہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو آرمی چیف بنانا چاہتے تھے۔ سوشل میڈیا پر اپنی پہلی پوڈکاسٹ میں عمران خان نے کہا کہ ہمارے ادارے کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہیں، نیوٹرل کی اللہ نے کسی کو اجازت ہی نہیں دی، آپ یہاں حق کے ساتھ کھڑے ہیں یا باطل کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم نیوٹرل نہیں ہو سکتے، آپ نیوٹرل نہیں ہو سکتے، اگر آپ حق اور باطل کی جنگ میں نیوٹرل ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے آپ باطل کا ساتھ دے رہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ہمارے اداروں میں وہ لوگ بیٹھے ہیں جو ان کا ساتھ دیتے ہیں، جہانگیر ترین اور علیم خان کا مقصد اقتدار میں آ کر فائدہ اٹھانا تھا، دونوں نے پارٹی کی کامیابی کے لیے بہت محنت کی لیکن ان کے آئیڈیلز (اصول) وہ نہیں تھے جو میرے تھے، جہانگیر ترین سے اختلافات شوگر مافیا کیخلاف کارروائی پر، علیم خان سے راوی میں300  ایکڑ  غیرقانونی زمین  لینے پر ہوئے، میرے خلاف بہت بڑی سازش پاکستان میں موجود میر جعفر و میرصادق نے کرائی۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی مفادات پر سمجھوتہ کیے بغیر امریکا سے دوستی چاہتا ہوں، میرا جرم آزاد خارجہ پالیسی تھی۔ مذکورہ نشست میں سابق وزیر اعظم نے اور بھی کئی تاویلات پیش کیں، ہمارے نزدیک ان کے معتقدین کو جن کی ضرورت نہیں تھی جبکہ جو ان کے مخالفین ہیں یا پھر کچھ حد تک نیوٹرل ہیں ان کے لئے یہ تاویلات یا توضیحات بے بنیاد ہی تھیں کیونکہ آج ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ سابق وزیر اعظم نے اپنے پونے چار سالہ دور حکمرانی میں کیا کیا گل کھلائے ہیں۔ آج نئی حکومت کو جن جن مشکلات کا سامنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے پیچھے بنیادی ہاتھ عمران خان کی حکومت کا ہی ہے۔ بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف موجودہ حکومت ہی نہیں آنے والی کئی حکومتیں سابقہ حکومت کا گند صاف کرتے کرتے گزر جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر ان کی اس پوڈکاسٹ کا بھی خوب پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے، ان میں سے بعض صارفین سابق وزیر اعظم پر زور دے رہے ہیں کہ اگر جہانگیر ترین کے حوالے سے ان کا موقف درست ہے تو پھر انہیں ترین کی جانب سے تحفہ میں دی گئی لینڈ کروزر فوراً سے بھی پیشتر واپس کرنی چاہیے۔ جہاں تک عمران خان کے ''آئیڈیلز'' کا تعلق ہے تو آج ملک کے طول و عرض میں، قریہ قریہ اور گھر گھر میں ان کی وجہ سے ایک تلخی، ایک کشیدگی پائی جاتی ہے۔ سابق وزیر اعظم کو اب اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر ہی لینا چاہیے اور قوم کے سامنے پورا سچ رکھ دینا چاہیے بصورت دیگر آج نہیں تو کل پورا سچ سامنے ضرور آ کر رہے گا۔