بس برفباری کی دیر ہے

بس برفباری کی دیر ہے

تحریر: کریم خان

مان لیتے ہیں کہ برفباری کے دنوں میں مری کے ہوٹل  والوں نے کرایے بڑھا دیے۔ بہت برا کیا لیکن۔۔۔ یہ جو رمضان میں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں کیا یہ بھی مری والے بڑھاتے ہیں؟ یہ جو موٹر وے پر ہوٹلوں میں چیزوں کی دوگنا اور تین گنا قیمت وصول کی جاتی ہے کیا یہ بھی مری والے ہیں؟ بعض جگہوں پر تو ظالموں نے باتھ رومز میں بھی پانی ختم کیا ہوتا ہے کہ کہیں کوئی کولڈ ڈرنک کی جگہ پانی نہ پی لے۔ یہ جو پارکوں کے کینٹین میں ہر چیز مہنگی ہوتی ہے کیا یہ بھی سارے مری والے ہوتے ہیں؟ یہ پرائیویٹ ہسپتال، پولیس تھانے اور پٹوارخانوں میں جو رشوت اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے، لوگ وہاں جانے سے پناہ مانگتے ہیں کیا ان میں بھی مری والے بیٹھے ہیں؟ ہم من حیث القوم گِدھ بن چکے ہیں کہ کب کوئی مرے گا اور ہم اس کا گوشت کھائیں گے اور اس کا خون چوسیں گے۔ مری میں تو بیس پچیس لوگ جاں بحق ہوئے (اللہ تعالی ان سب کی مغفرت فرمائے، آمین!) لیکن باقی اِداروں کی وجہ سے تو کروڑوں لوگ جیتے جی مر رہے ہیں۔ اِن کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کیوں نہیں چلتا؟ اِن کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھائی جاتی؟ کیونکہ ہم بحثیت قوم سب مری والے ہیں۔ بس برفباری ہونے کی دیر ہے۔ بحیثیت پاکستانی مسلمان لوٹ مار ہماری فطرت بن چکی ہے۔ مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا، کہیں پھل کا لدہ ٹرک سڑک کنارے الٹ جائے تو بجائے ٹرک میں سوار انسانوں کی مدد کرنے کے ہر ایک ٹوٹ پڑتا ہے فروٹ بھگا لے جانے پہ۔ غریب تو غریب کتنے ہی کار والے بھی رک کر اپنی کار کی ڈھگی بھرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں دوسروں پہ نکتہ چینی کرنا عین ایمان ہے لیکن خود میں لاکھ عیب ہوں وہ فرائض کا حصہ۔ جب تک ہم خود اپنے آپ کو نہیں بدلیں گے، دوسرے پہ تنقید کرنا ہمارا حق نہیں بنتا۔ بدقسمتی سے اِس ملک کو جو بھی حکمران ملا اس نے ملک و قوم کی تعمیر کے فقط نعرے ہی لگائے ہیں عملاً وہ اپنے مستقبل اور اپنے اقرابا کے مستقبل کی تعمیر ہی کرتا رہا۔ ذخیرہ اندوزی کو ہم پلان اور دوراندیشی سمجھتے ہیں۔ اِس کا کیا اثر غریب اور مجبور پہ پڑے گا اور بحیثیت ایک مسلمان کے لیے اِس کی کتنی سخت معمانت ہے اِس کی ہمیں ایک مسلمان ہوتے ہوئے بھی کوئی پرواہ نہیں۔ جس دن ہم ایک اچھے انسان اور پکے مسلمان بن گے تب نہ کوئی مری والا لٹیرا رہے گا اور نہ ہی کوئی گلا کاٹنے والا کلمہ گو رہے گا۔ صرف ایک بھائی رہے گا جو دوسرے بھائی کو تکلیف میں دیکھ کر دوڑ پڑے گا، اس کی تکلیف کو دور کرنے کے لیے۔