جماعتی بنیادپربلدیاتی انتخابات کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

جماعتی بنیادپربلدیاتی انتخابات کافیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

اسلام آباد ۔۔۔ خیبرپختونخوا حکومت نےولیج اور نیبرہوڈ کونسلوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پرکرانے کا پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

 

خیبرپختونخوا حکومت نے سپریم کورٹ سے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

 

عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا جو جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3رکنی بینچ 25 نومبرکو کرے گا۔

 

خیال رہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 2 نومبر کو خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں غیر جماعتی بنیادوں پر نیبرہوڈ اور ولیج کونسل کے انتخابات کالعدم  قرار دے کر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے انعقاد کا حکم ديا تھا۔

 

پشاور ہائی کورٹ کے لارجربنچ نے مختصرفیصلہ میں حکم دیا تھا کہ خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں ویلج اورنیبر ہوڈ الیکشن  سیاسی بنیادوں پر کرائے جائیں جبکہ  الیکشن کمیشن کو تمام اقدامات کے ساتھ  شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

خیبر پختونخوا حکومت نے 21 اکتوبر کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا ۔

 

ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کامران بنگش کے مطابق پہلے مرحلے میں 15 دسمبر کو گاؤں و گرد و نواح کی سطح پر جبکہ دوسرے مرحلے میں 25 مارچ 2022 کو تحصیل کی سطح پر انتخابات کرائے جائيں گے۔

 

کامران بنگش کا کہنا تھا کہ لوکل کونسل انتخابات کے حوالے سے تین صفحات پر مشتمل مراسلہ خیبرپختونخوا الیکشن کمیشن کو بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت آئین کے آرٹیکل 140 اے کے تحت صوبے میں لوکل کو نسل انتخابات منعقد کروانا چاہتی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبے میں 4 ہزار 201 ولیج کونسل اور نیبر ہوڈ کونسل کی سطح پر الیکشن کروائے جائیں گے۔ ہر نیبرہوڈ اور ولیج کونسل میں سے 8 ممبران پر مشتمل کونسل بنائی جائے گی۔