خیبر پختونخوا حکومت کا کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کی  موبائل سم بلاک  کرنے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت کا کورونا ویکسین نہ لگوانے والوں کی  موبائل سم بلاک  کرنے کا فیصلہ

پشاور۔۔۔ خیبر پختونخوا  میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز اور عوام کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنے والی کوتاہیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے  صوبائی حکومت نے ویکسی نیشن نہ کرانے والے افراد کی موبائل سم بلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 

ہفتے کو پشاور میں  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی کامران بنگش کے ہمرا ہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ  صوبے کے عوام میں کورونا ویکسن کےحوالےسے ابہام اب بھی موجود ہے کہ جس کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ویکسی نیشن نے کرانے والے افراد کی موبائل سم بند کردیں گے۔ 

 


انہوں  نے کہا کہ  خیبرپختونخوا میں 30 فیصد آبادی کو ویکسین کی پہلی ڈوز لگ چکی، صوبے میں  روزانہ 2 لاکھ افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف ہے۔

 

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ  چوتھی لہر ڈیلٹا ویرنٹ کی لہر ہے، جو لوگ ویکسین نہیں لگوا رہے ان کے ساتھ سختی کرنا پڑے گی، اگر ضرورت پڑی تو سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بھی روک سکتے ہیں۔

 

انہوں نے  کہا کہ صوبے میں اب تک  15 لاکھ لوگوں کو دوسری ڈوز دی جاچکی ہیں، بزرگ، 39 سال سے کم اور خواتین پر ہمارا فوکس ہے۔ انڈور اجتماعات پر پابندی ہے جبکہ آوٹ ڈور پر 300 لوگوں کی اجازت ہے۔

 

معاون خصوصی کا مران بنگش کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں کورونا کی صورتحال تسلی بخش نہیں، ایس او پیز پر عملددرآمد کیلئے فوج کی خدمات لے سکتے ہیں، چاہتے ہیں معاشی پابندیوں کی طرف نہ جائیں، ہفتہ اور اتوار کو تجارتی مراکز بند رہینگے۔ 

 

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سےصوبائی کا بینہ کا اجلاس بہت جلد ہوگا، اپنا فیصلہ پھر الیکشن کمیشن کو بتائیں گے۔