خيبر پختونخوا حکومت بجٹ کی تیاری میں صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے، سردار بابک

خيبر پختونخوا حکومت بجٹ کی تیاری میں صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے، سردار بابک

پشاور۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری وپارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت بجٹ کی تیاری میں صوبائی اسمبلی کو اعتماد میں لے۔

 

صوبائی اسمبلی کے چیمبر میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ بند کمروں میں بجٹ کی تیاری کا سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔حکومت خزانے کو گھر کی جاگیر سمجھنا ترک کردے۔ سالانہ بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں صوبائی اسمبلی میں پری بجٹ سیشن ہونا چاہیئے تاکہ صوبے کے وسائل اور مسائل پر متفقہ بجٹ تجاویز سامنے آئیں۔ بے روزگاری اور مہنگائی کے اس طوفان میں غیر سنجیدہ حکومتی اقدامات اور طریقہ کار غریب عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ جلسوں کیلئے پختونخوا کے وسائل کو استعمال کرنے کے ساتھ پختونخواکے آئینی حقوق اور مسائل کی وکالت کو بھی ذمہ داری سمجھا جائے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی بجٹ اسمبلی سے ہی پاس ہوگا تو پھر بجٹ صوبائی اسمبلی کی بجائے بند کمروں میں تیار ہونے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟ صوبائی حکومت نے پچھلے ساڑھے نو سال میں اپوزیشن کے حلقوں کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ کروڑوں عوام کو صرف اس لئے سزا دی جارہی ہے کہ ان علاقوں کے منتخب اراکین کا تعلق اپوزیشن سے ہے۔صوبائی حکومت اپوزیشن کے حلقوں کیساتھ مزید دشمنی ترک کردے اور صوبے کے غریب عوام کے مسائل اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے متفقہ بجٹ کی تیاری کیلئے اقدامات کریں۔ صوبائی حکومت مرکزی حکومت کے ذمے صوبے کے واجبات اور بقایاجات کی تفصیلات بجٹ  دستاویز میں پیش کریں۔

 

گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ پچھلی مرکزی حکومت میں صوبائی حکومت صوبے کے آئینی حقوق کے مطالبے سے دستبردار ہوچکی تھی۔ اب جبکہ مرکز میں حکومت تبدیل ہوچکی ہے صوبائی حکومت کو مرکز کے ذمہ پختونخوا کے واجبات کیلئے آواز اٹھانی چاہیئے۔ ذرائع آمدن کے لحاظ سے پختونخوا پاکستان کا مالدار ترین صوبہ ہے لیکن بدقسمتی سے ذرائع آمدن کا آئینی منافع صوبے کے عوام کو نہیں دیا جارہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے پختونخوا کے بین الاقوامی تجارتی راستوں کی بندش پر بھی چھپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ عمران خان صوبے کے عوام کو بتائيں کہ اپنے دور حکومت میں پختونخوا کو کیوں آئینی حقوق سے محروم رکھا۔ بتایا جائے کہ خیبر پختونخوا کواپنے ہی پیدا کردہ قدرتی گیس کے استعمال سے کیوں محروم رکھا؟ کیوں پختونخوا کو بلین ٹری سونامی کے نام پر کرپشن کا آماجگاہ بنایا ؟ صوبائی حکومت مرکزی حکومت کے سامنے صوبے کا مقدمہ رکھنے کے قابل نہیں ہے لیکن صوبے کے عوام اپنے آئینی حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ عوام مرکزی حکومت کے ساتھ صوبے کے ذرائع آمدن کی ایک ایک پائی کے حساب کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بند کردے اور صوبے کے تمام علاقو ں میں فنڈز کو ضرورت اور انصاف کی بنیاد پر تقسیم کو  یقینی بنائے۔ صوبے کے اندر اپوزیشن اور حکومت کے بیچ دیوار تنگ نظر حکومت نے کھڑی کی ہے، تاکہ صوبائی اسمبلی متفقہ طور پر صوبے کے مسائل اور حقوق کیلئے آواز نہ اٹھائے۔ عوام صوبائی حکومت کے اس تنگ نظر طریقہ کار کو مسترد کرتے ہیں۔ صوبے کو آئینی حقوق ملنے اور پاک افغان تجارتی راستے کھلنے سے نہ صرف پختونخوا  عالمی تجارتی منڈی بن جائے گا بلکہ پاکستان کا مالدار ترین صوبہ بھی۔ جس کی بدولت ہمارے لاکھوں نوجوان باہر ممالک مسافری ترک کرکے اپنے صوبے میں باعزت روزگار، تجارت اور مزدوری کے قابل ہوجائيں گے۔