کابل: تعلیمی ادارے پر خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی

کابل: تعلیمی ادارے پر خودکش حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی

جمعہ کو کابل میں ایک تعلیمی مرکز پر ہونیوالے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 35 ہوگئی۔

 

یہ حملہ کابل کے علاقے دشت البرشی میں کیا گیا تھا جہاں شیعہ ہزارہ برادری کی اکثریت ہے، کابل پولیس کے ترجمان خالد زدران نے بتایا کہ طلبہ امتحان کی تیاری کر رہے تھے جب ایک خودکش بمبار نے اس تعلیمی مرکز میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

 

افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے کہا ہے کہ اس کے پاس موجود معلومات کے مطابق کم از کم 35 افراد ہلاک اور 82 زخمی ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر لڑکیاں شامل ہیں، جبکہ گزشتہ روز ہلاکتوں کی تعداد 19 بتائی گئی تھی۔

 

ہفتے کے روز کابل میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم ملا عبدالسلام حنفی نے حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک تعلیمی مرکز میں نہتے طلبا کو نشانے بنانے سے بڑا کوئی جرم نہیں، یہ طلبا بڑی امیدوں کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔

 

دریں اثنا کابل کے رہائشیوں نے حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تعلیمی مرکز پر حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی۔

 

 جمعہ کو تعلیمی مرکز پر ہونے والے بم دھماکے کے خلاف کابل میں خواتین نے احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر خاموشی اختیار نہ کرے۔

 

جمعہ کے روز کابل حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر طالبان کی جانب سے ہوائی فارئنگ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائر ہوگئی،

 

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم امارت اسلامیہ سے خواتین خصوصا ہزارہ لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، لڑکیوں کے تعلیمی مراکز پر حملے ہو رہے ہیں، امارت اسلامیہ کو اس بات کا جواب دینا چاہیے کہ سیکیورٹی کو یقینی کیوں نہیں بنایا گیا؟۔


عیی شاہدین کے مطابق ھملے کے وقت تعلیمی مرکز پرتقریبا 600 لوگ موجود تھے، یہاں 18 سال سے زائد عمر کے طلبہ کو یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان کی تیاری کرائی جاتی تھی۔