کراچی دھماکہ: تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے

کراچی دھماکہ: تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے

کراچی میں ہونے والے دھماکے نے ایک بارپھر ریاست، ریاستی و حکومتی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیئے ہیں لیکن افسوس کہ ان سوالات کے جوابات سنجیدگی کے ساتھ ڈھونڈنے کی بجائے آج بھی ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو اس ططرح کے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ گزشتہ صدی کی امور شخصیات میں سے ایک، اس خطہ اور اس خطہ میں بسنے والوں کے حقیق رہنماء و غمخوار، خدائی خدمتگار تحریک کے بانی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کا یہ قول آج کے حالات پر صادق آتا ہے کہ تشدد تشدد کو ہی جنم دیتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا بمشول ضم اضلاع کے ملک خداداد کے وہ علاقے ہیں جہاں پر خصوصیت کے ساتھ کچھ کارروائیوں کو بوجوہ دوام بخشا گیا ہے، یہی وہ علاقے ہیں جہاں سے زیادہ تر لوگوں کو جبری طور پر غائب کر دیا گیا ہے، جبری طور پر گم شدہ ان لوگوں میں سے بعض کی تشدد زدہ لاشیں ملتی رہتی ہیں جبکہ ان کی ایک واضح اکثریت آج بھی لاپتہ ہے۔ اوپر سے اسے ایک ایسا حساس معاملہ بنا دیا گیا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم تک اس ضمن میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں اور سرعام اپنی اس بے بسی اور لاچارگی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح کا معاملہ عدالتوں کا بھی ہیں جن کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے۔ سالوں سے اس حوالے سے ملک خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے طول و عرض میں، احتجاج اور مظاہروں کا نا ختم ہونے والا سلسلہ الگ سے جاری ہے لیکن اس سب کے باوجود اصلاح احوال کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہاں البتہ کراچی جیسے واقعات تسلسل کے ساتھ مھولہ بالا اقدامات یا ان پالیسیوں کے ردعمل میں وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں انکوائریاں ہوتی ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں، لوگوں کو گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے، انہیں لاپتہ کر دیا جاتا ہے اور یوں یہ سائیکل یونہی جاری ساری ہے۔ اب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کراچی واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے اور (اس سلسلے میں) نیکٹا کا اجلاس فوری بلایا جائے گا، چینی شہریوں کی سیکیورٹی کا ازسر نو جائزہ لیا جا رہا ہے (جبکہ) چینی باشندوں کی فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی میں گزشتہ روز ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ ملک کے تمام صوبوں کا دورہ کریں گے اور سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے، پہلے مرحلے میں وہ سندھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا گیا تھا جس کے باعث ملک میں امن برقرار ہوا تھا۔ گو کہ ان کے اس بیان کے ساتھ اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں بری حد تک ملک میں امن و امان قائم ہو گیا تھا لیکن اس کے بعد حکومت اور ریاستی اداروں کی ترجیحات کے باعث دہشت گرد آہستہ آہستہ منظم ہونے لگے اور کچھ عرصہ ہوا کہ ملک بھر میں بالعموم جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بالخصوص دہشت گردی کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کے معاملہ کو دہشت گردی سے الگ تناظر میں دیکھنے اور ان معاملات کو ایوان کے فلور پر زیربحث لانے کی ضرورت ہے، ان کے اسباب، وجوہات پر سوچ بچار اور پھر اتفاق رائے سے ایک جامع پالیسی تشکیل دینے اور اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، بلوچستان خصوصاً لاپتہ افراد کے معاملہ کو یکبارگی حل کرنا ہو گا تبھی ہم اس ملک سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ ممکن بنا سکتے ہیںن بصورت دیگر کراچی کا واقعہ بدامنی کی ایک ایسی نئی لہر کا آغاز ہو سکتا ہے جو نا صرف اس ملک بلکہ اس خطہ کو اپنی لپیٹ میںن لے کر رہے گی۔