کایا پلٹ بھی جاتی ہے

کایا پلٹ بھی جاتی ہے

تحریر: کریم خان

کسی سیاسی وابستگی سے ہٹ کے اگر بات کی جائے تو غازی تحصیل (تربیلہ ڈیم) کی نظامت کے لیے جتنے بھی کنڈیڈیٹ اِس وقت مدِ مقابل ہیں اِن میں جھپٹنے، بے باک و بے خوف بولنے کا جذبہ صرف ایک ہی کنڈیڈیٹ میں ہے اور وہ ہیں صرف اور صرف ارم رشید طاہر خیلی صاحبہ! لیکن لگ رہا ہے کہ8  یونین  کونسل کو جیتنا یا سب سے زیادہ ووٹ لینا اِن کے لیے آسان ہدف بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ن لیگ کی طرف سے صاحبزادہ قاسم شاہ جنہیں ن لیگیوں کی فل سپورٹ کے ساتھ ساتھ پشت پہ پیر صابر شاہ کا، جو سابق وزیر اعلی کے پی کے ہونے کے ساتھ ساتھ سینیٹر بھی ہیں اور ساتھ میں خون کا رشتہ بھی ہے، فائدہ حاصل ہے۔ دوسرے نمبر پر تحصیل ناظم کے لیے امید وار جناب خیام عادل ہیں، جنہیں چند دن پہلے امریکہ سے بھیجا گیا ہے۔ گو کہ بذات خود انہیں کسی مجمع میں لوگوں کی نبض کو سمجھتے ہوئے بات کرنے کا ہنر نہیں آتا نہ ہی سیاست کی کوئی جانکاری حاصل ہے لیکن ایک بہت بڑے گروپ (جہازوں والا گروپ) سے تعلق رکھنے کے علاوہ گروپ کے بانی کی پورے 8 یونین کونسلوں پہ گرفت، ذاتی اثر رسوخ اور کسی حد تک جہازوں والے گروپ کے رفاعی کام خیام عادل کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ تیسرے نمبر پہ تحصیل ناظم کے امید وار جناب نوید اقبال ہیں کہ جنہیں پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملا ہے۔ یقیناً پی ٹی آئی کے فالورز کا رخ اِن کی طرف ہونے کے علاوہ انہیں ان لوگوں کی سپورٹ بھی حاصل ہے جو مظلومیت کا ساتھ دینے والے ہوتے ہیں۔ کیونکہ نوید اقبال اعوان کے بڑے بھائی شہید ملک طاہر اقبال اعوان وزیر اعظم عمران خان کے دستِ راست ہونے کے علاوہ ایک ہمدرد اور نفیس انسان بھی تھے لیکن انہیں بڑی بیدردی سے اپنے ایک معصوم، بے ضرر اور غریب دوست کے ہمراہ قتل کیا گیا جس کا الزام جہازوں والا گروپ سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے فیصل زمان پہ آیا جو اسی بنا پر گزشتہ ایک سال سے جیل میں ہیں۔ یہ سانحہ اِس بلدیاتی انتخابات میں جہازوں والا گروپ کو نقصان اور پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر شہید طاہر اقبال کے بھائی ملک نوید اقبال اعوان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ بات ارم رشید عرف رمی رشید طاہر خیلی کی ہو رہی ہے۔ یہ اِس علاقے میں گو کہ سیاست کے میدان میں نیا نام ہے، جن کا کسی سیاسی خاندان سے کوئی تعلق بھی نہیں ہے اور نہ ہی سیاست کے تمام رموز جانتی ہیں اور نہ ہی مندرجہ بالا تینوں کنڈیڈیٹس کی طرح پیسہ یا اثر رسوخ رکھتی ہیں۔ لیکن! اپنی بے خوف و بے باک تقریروں، غربا و مظلوموں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہنے، تربیلہ متاثرین کے لیے تربیلہ ڈیم کی ملازمتوں میں حصہ مانگنے اور دور دراز علاقوں میں پانی کے لیے ترسنے والوں کے لیے پانی کے بور لگانے کے سبب بہت کم عرصہ میں اپنے لیے تحصیل غازی میں اپنی پہچان اور نام بنا چکی ہیں۔ پڑھی لکھی، اعلی تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ اِس علاقے کی معروف قوم طاہر خیلی سے تعلق رکھنے کے علاوہ تعلیم یافتہ والدین کی چشم و چراغ بھی ہیں۔ یقیناً یہاں کی سیاست کے لیے ایک اچھا شگون ہیں۔ ہار جیت اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔ اکثر و بیشتر یہ ہوا ہے کہ جن کی کوئی قوی امید نہیں ہوتی، وہی میدان مار لیتے ہیں اور ایسا بھی ہوا ہے کہ جو اپنی طاقتور مہم کے باوجود، دولت کے باوجود، اثر رسوخ رکھنے کے باوجود اور بڑے بڑے جلسے، جلوسوں کے باوجود شکست سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ ووٹر جب ووٹنگ بکس کے قریب پہنچتا ہے تو ارادے اور فیصلے بدل بھی دیا کرتا ہے۔ اِس بار اگر ارم رشید طاہر خیلی جیت نہ بھی پائیں تو کم از کم ہلچل تو مچائے ہوئی ہیں اور عوام کو سوچنے پہ لگائے ہوئی ہیں۔ اور مستقبل میں اونچائی کی طرف بڑھ تو رہی ہیں۔ ایک عورت ذات ہونے کے باوجود مردوں کے مدِمقابل نہ صرف میدان میں کھڑی ہیں بلکہ بہت سے ہمدرد بھی بنا رہی ہیں۔ راہنماء یوں ہی تو بنتے ہیں۔ راہنماؤں کے گھر پیدا ہونے والے لیڈر تو بن سکتے ہیں لیکن راہنماء نہیں۔ راہنماء وہی بنتا ہے جو لوگوں کو ایک ٹارگٹ کی طرف موڑے اور قافلہ در قافلہ بناتے ہوئے اسی قافلے کے ساتھ ساتھ علم اٹھائے ہوئے، آگے آگے چلتے ہوئے ٹارگٹ تک نہ صرف پہنچے بلکہ اسے حاصل بھی کرے ورنہ تعزیت اور جنازوں میں شرکت تو سبھی کرتے ہیں۔ گلی نالیاں پختہ، خیراتیں تو سبھی صاحبانِ حیثیت کرتے ہیں لیکن غیرتمندانہ و باعزت طریقے سے حلال کی کمائی کی طرف راستہ ہموار کر کے دینا یا راستہ بتا کے اس پہ چلانے کی تگ و دو اور طریقہ سکھانا کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ یقیناً یہی راہنماء کہلاتے ہیں اور تاریخ میں رقم ہوتے ہیں۔