''مونگ پہ ڈنگ مست یو''

''مونگ پہ ڈنگ مست یو''

تحریر: کریم خان
پختون کو کچھ سوالوں کے جواب چاہئیں۔  اِس ملک کا شہری اور خیبر پختون خواہ کا مکین ہونے کے ناطے یہ پختون کا حق ہے کہ پختون کو تحریک انصاف کے قائد کچھ سوالوں کا جواب اسی طرح احترام اور اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دیں جس طرح ادب و احترام سے سوال پوچھے جائیں۔ سوال یہ ہے کہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی نو سال حکومت رہی، کے پی کے صوبے میں کسی بھی ایک شہر میں لیڈی ریڈنگ، حیات کمپلکس، شیرپاؤ ہاسپٹل کی طرح گورنمنٹ آف پاکستان کے خزانے سے ہسپتال کیوں نہیں بنائے گئے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے صوبے کا پانی دریائے کابل سے گزر کر اٹک کے مقام پہ دریائے سندھ میں جا ملتا ہے، میرے صوبے کا یہی اپنا پانی ڈیرہ اسماعیل خان کو کیوں نہیں دیا گیا تاکہ لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو سیراب کرتے ہوئے اِس قابل بنایا جا سکے کہ گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہو کر دیگر صوبوں کو بھی برآمد کر سکے کیونکہ ان لاکھوں ایکڑ زمینوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ پختون صوبے کو خود کفیل بنا سکتی ہیں، جس کی بنا پر کے پی کے صوبے کا زمیندار، مزدور اور عام عوام خوشحال بن سکتا ہے ۔ نہ ہی اِسے اِس کوفت سے گزرنا پڑے گا کہ اٹک کا پھاٹک کب کھلتا ہے، کب گندم سے لدے ٹرک صوبے میں آتے ہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ اِن نو سالوں  سالوں میں کوئی میڈیکل، انجینئرنگ یونیورسٹی کے پی کے صوبے میں کسی ایک شہر میں کیوں نہیں بنی؟ چوتھا سوال یہ ہے کہ نوشہرہ سے مردان روڈ ہمارا ایک انڈسٹریل زون ہوا کرتا تھا جس میں کے پی کے صوبے کے مزدور کھپتے تھے لیکن دیگر صوبوں کی ریشہ دانیوں کے سبب وہ انڈسٹریل زون بند ہوا اور قریب قریب سارے کارخانے دوسرے صوبے میں منتقل ہو گئے۔ اِن نو سالوں میں وہی انڈسٹریل زون دوبارہ شروع کیوں نہیں کیا گیا؟ وہی ریلیف کارخانہ داروں کو کیوں نہیں دی گئی کہ جس کی بدولت سارے سرمایہ دار کارخانے لگانے دوڑے چلے آئے تھے۔ پانچواں سوال یہ ہے کہ میرے صوبے کے گندف کے مقام پر افیون کی کاشت بہت زیادہ ہوتی تھی جس کی بدولت میرا زمیندار خوشحال، میرا مزدور باروزگار، میرا بزنس مین کا بزنس شاندار، میرے ملک کے زر مبادلہ کی بچت ہوتی تھی، کیونکہ میرے ملک میں لگی تمام ادویہ ساز کمپنیوں کو دوا میں استعمال کے لیے اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کے عوض افیون باہر سے درآمد نہیں کرنا پڑتی تھی۔ مزے کی بات کہ پختون جوان، پختون کاشتکار تب افیون کا نشئی بھی نہیں تھا۔ بینظیر کے دورِ حکومت میں امریکہ نے افیون کی کاشت پہ پابندی لگانے کی درخواست کی۔ شہید بینظیر نے کہا کہ اس پابندی کو لگانے سے میرے ہزاروں مزدور بیروزگار ہو جائیں گے اور یہاں روزگار کے کچھ دوسرے ذرائع بھی نہیں۔ تب امریکہ نے کاشت کی پابندی کے لیے اس علاقے میں انڈسٹریل زون بنانے کی پیشکش کی جسے بینظیر شہید نے مان لیا۔ اِس انڈسٹریل زون میں400  کارخانے لگے۔ اِس علاقے کے ہر بیروزگار عورت مرد کو نہ صرف  روزگار ملا بلکہ دیگر صوبوں سے بھی لوگ روزگار کے لیے آئے، کارخانے لگنے کی وجہ سے یہاں کے ٹرانسپوٹر کے ساتھ ساتھ اس علاقے کے لوگ ہنرمند بننے لگے، خوشحال ہونے لگے۔ زمینداروں کی سبزیوں، پھلوں کی فصلیں یہی کھپتی رہیں۔ اِنہیں دیگر اضلاح میں اپنی سبزیاں اور فروٹ اونے پونے بیچنے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ سرمایہ دار دیگر صوبوں سے آ کر یہاں کارخانہ لگانے کو ترجیح دینے لگے کیونکہ امریکن ایڈ کے طفیل بینظیر شہید کی حکومت اِن کارخانہ داروں کو بجلی کی مد میں اور باہر سے مشینری درآمد کرنے پہ سبسڈی دے رہی تھی۔ بینظیر شہید حکومت کے بعد نواز شریف نے آتے ہی پہلا کام گندف انڈسٹریل زون میں لگے تمام کارخانوں کی سبسڈی ختم کی تاکہ یہ کارخانہ دار وہیں واپس جائیں جہاں سے یہ آئے تھے۔ تمام کارخانے بند ہوئے ماسوائے سلیم سیف اللہ خان کے ایک دو کارخانوں اور دیگر کچھ کارخانوں کے، پٹھان پھر مجبور ہوا کراچی کے فٹ پاتھوں پہ سونے اور مہاجروں کے ہاتھوں بوری میں بند ہونے پر۔ تحریک انصاف نے اِن نو سالوں میں پٹھانوں کے ساتھ کیوں انصاف نہیں کیا؟ اِن کارخانوں کو اسی سبسڈی کا نفاذ کر کے رواں دواں رکھنے کے لیے تاکہ کے پی کے میں پھر سے انڈسٹری چل پڑے اور یہاں کی عوام اپنے ہی گھر میں باروزگار ہونے لگے۔ بجلی پہ سبسڈی کا عمل کیوں نہیں شروع کیا گیا؟ جبکہ دو ڈیم تربیلہ اور ورسک کے علاوہ دوسرے تین چار چھوٹے ڈیم بھی بجلی کی پیداوار کا ذریعہ ہیں۔ چھٹا سوال یہ ہے کہ ہر بار تحریکِ انصاف خیبر پختون خوا کے بھولے بھالے بچوں کو ہی اپنے جلسوں کے لیے ایندھن کیوں بناتی ہے، ان کے جذبات کو کیوں ابھارتی ہے اور اپنے جھوٹے نعروں کی ابتدا یہاں سے کیوں کرتی ہے؟ جبکہ خیبر پختون خوا کے لیے پی ٹی آئی نے ایسا تعمیری کام اِن نو سالوں میں نہیں کیا جتنا بینظیر شہید کے چند سالہ دور میں ہوا اور پھر پی پی پی کے دور حکومت میں ہی اِس صوبے کو اپنی پہچان بھی دی گئی۔ آپ نے آخر کیا ہی کیا؟ صحت کارڈ؟ جس کا خمیازہ پوری قوم بھگتے گی آنے والے سالوں میں، اس کے بدلے ہر سرکاری ہسپتال میں وہ سہولت ہی کیوں نہیں دی کہ جس کی وجہ سے کسی ایک فرد کو اپنے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کے بجائے اپنی انگلی تک کے آپریشن کے لیے بھی صوبے کے کسی بڑے ہسپتال جانا پڑا۔ خیبر پختون خوا کے عوام نے آپ کو ایک سیٹ حاصل کرنے والے حیثیت  سے پورے صوبے کا پاورفل سیاستدان بنا کر وفاق میں بیٹھنے کی حیثیت دلا دی۔ اب بھی اگر آپ کے دھرنوں اور جلسوں سے خیبر پختون خوا کے عوام نے منہ موڑ لیا تو کون نہیں جانتا کہ آپ کے دھرنوں اور جلسوں کی کیا حیثیت ہو گی۔ نہ اِن نو سالوں میں اِس صوبے میں جرائم کم ہوئے نہ رشوت و کرپشن ختم ہوئی اور نہ ہی بنیادی سہولت عوام کو دی گئی۔ آپ مجرم ہیں، کے پی صوبے کے، کلچر کے، میری غیرتمند نوجوان نسل کے، کے پی صوبے کے بے روزگاروں کے، پختون تسلیم کرتے ہیں کہ آپ تبدیلی تو لائے لیکن اس طرح کی نہیں جیسی ایک پختون چاہتا تھا۔ تبدیلی آئی جیسا آپ نے چاہا، آپ کو اپنی شخصیت پہ فدا ہونے والے چاہیے تھے اور وہ آپ کو خیبر پختون خوا میں بکثرت مل گئے۔ کیوں؟ کیونکہ ''مونگ پہ ڈنگ مست یو کنہ!''