خان حسنین عاقب، ہندوستان کے معروف شاعر، محقق، نقاد، مترجم اور ادیب اطفال

خان حسنین عاقب، ہندوستان کے معروف شاعر، محقق، نقاد، مترجم اور ادیب اطفال

ذوالفقار علی بخاری

ہمارے آج کے صاحبِ مصاحبہ خان حسنین عاقب کا تعلق بھارت سے ہے ۔ یہ بیک وقت شاعر بھی ہیں اور محقق و نقاد بھی، ادیب اطفال بھی ہیں اور افسانہ نگار اور مترجم بھی، بنیادی طو ر پر اردو اور انگریزی میں لکھتے ہیں لیکن گاہے گاہے فارسی، ہندی اور مراٹھی میں بھی نثر و نظم کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ سترہ اٹھارہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ماہر تعلیم اور ماہر درسیات ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں ادبی اور تعلیمی لیکچر کے لیے مدعو کئے جاتے ہیں۔ کئی سرکاری و نجی اداروں اور انجمنوں کے ممبر ہیں۔ گریجویشن کے لیے نصابی کتابیں لکھی ہیں۔ ادب عالیہ کے ساتھ ساتھ ادب اطفال میں بہت سرگرم ہیں۔ آج انھوں نے ہمارے قارئین کے لیے وقت نکالا ہے جس کے لیے ہم ان کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ آئیے، جناب حسنین عاقب سے روبرو ہوتے ہیں۔)

 

س: ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے قارئین آپ کے زرین خیالات سے واقفیت حاصل کریں اس لیے آپ کو چند سوالات کے جواب دینے کی زحمت دی ہے، امید ہے گوارا فرمائیں گے۔
حسنین عاقب: جی، ضرور، آپ سوال کریں، کوشش کروں گا کہ سوالات کے جواب ایمانداری، وضاحت اور عدل کے ساتھ دے سکوں۔

 

سوال: آپ کوکب یہ محسوس ہوا اپنے احساسات و جذبات کے اظہار کے لئے قلم کا سہارا لینا چاہیے، آج تک کا سفر کیسا رہا ہے؟

جواب:آپ نے بہت کفایت سے کام لینے کی کوشش کی ہے یعنی ایک سوال میں دو سوالات ضم کردیے ہیں۔ خیر، دیکھیں، ہر تخلیق کار کے اندر دوسروں یعنی عام انسانوں کی بہ نسبت فطری طور پرکچھ زیادہ حساسیت ہوتی ہے۔ وہ جذباتی بھی کچھ زیادہ ہوتا ہے اور سوچتا بھی کچھ زیادہ ہی ہے۔ اور ہم تو پہلے ہی سے یعنی بچپن ہی سے حساس تھے اور پھر والد کی سخت تربیت اور ہماری خاموش مزاجی نے اس حساسیت میں اضافہ ہی کیا۔ جب ٹین ایج میں پہنچے تو مطالعے کی عادت نے بہت کچھ چیزیں دل کے اندر تک پہنچادی تھیں۔ بس، یہی وہ وقت تھا جب یہ احساس جاگا کہ دل کے اندر 'کچھ کچھ ہوتا ہے۔' یعنی دل میں ایک اضطراب کی کیفیت نے جنم لے لیا۔ طبیعت اپنے دل کی بات کسی سے شیئر کرنے کو کہتی لیکن بات سننے والا اور اس سے بھی زیادہ ، بات سمجھنے والا کوئی نہیں تھا۔ سو، یہ ہوا کہ ذوق ، طبع سلیم اور امدادِ غیبی تینوں نے مل کر ہمارے لئے ایک دوست کو ڈھونڈ نکالا جس کے حوالے ہم اپنے دل کی بات کر سکتے تھے۔ اس دوست کا نام تھا 'قلم۔' بس! یہیں سے قلم کو سہارا نہیں ، دوست بنا لیا اور شروع ہوگیا سفر۔ 

 

اب آتے ہیں آ پ کے سوال کے دوسرے حصے کی طرف کہ آج تک کا سفر کیسا رہا۔ تو بھائی، اگر ہماری نظر سے دیکھا جائے تو سفر اب بھی جاری ہے، یہی بے چینی اور اضطراب اس سفر کا پٹرول ہے۔ لیکن قارئین اور اہلِ ادب کی نظر سے دیکھیں تو یہ سوال انھی سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ اس زاویے سے میں نے اپنے آپ کو کبھی دیکھا ہی نہیں۔ ہاں! خود اپنا نقاد ضرور رہا ہوں لیکن قاری اور اہل ادب میرے سفر کو کن نگاہوں سے دیکھتے ہیں اس کا جواب وہی دے سکیں گے۔ 

 

سوال: آپ کا بچپن کیسا گذرا، کچھ اپنی یادیں بیان کیجئے؟

جواب: ہمارا بچپن کئی دوسرے بچوں کی طرح والد کی سخت نگرانی اور سرپرستی میں گزرا۔ ایک بات جو اس سے پہلے کسی انٹرویو میں نہیں کہی اور اس کے اثرات ہمارے بچپن پر گہرے مرتب ہوئے، وہ ہے سات برس کی عمر میں ہمارا اپنی والدہ کے سائے سے محروم ہو جانا۔ اس محرومی نے بہت حساس بنا دیا تھا ۔ مجھے تو لگتا ہے جیسے اس محرومی نے بھی میری شخصیت سازی میں اہم کردار نبھایا ہے۔ مجھے اپنی والدہ کا چہرہ بھی اب واضح طور پر یاد نہیں رہا۔ لیکن ان کی شفقت، مامتا اور محبت اب بھی یاد آتی ہے۔ والد سخت مزاج تھے اس لیے بچپن نہایت نظم و ضبط والے ماحول میں گزرا۔ دادا جان اور دادی اماں کے علاوہ گھر میں بھائی بہن، چچا، کزن وغیرہ تھے۔ دوستیاں کبھی نہیں ہوئیں۔ بس ، ایک دوست رہا جو دوست صرف بے تکلفی والامصاحب ہی رہا، آزمائش والی دوستی اس سے بھی کبھی نہیں رہی۔ اسکول میں دیگر ساتھی ڈراتے تھے تو میں ڈر جاتا تھا کیونکہ گھر میں پلائی جانے والی اتنہائی درجے شرافت کی گھٹّی، بزدلی کی حد تک جانے والی شرافت میں تبدیل ہوگئی۔ اسی ماحول میں بچپن سے نکل کر لڑکپن کی حدود میں قدم رکھ دیا۔ اس کے بعد کی داستان الگ ہے جس کا آپ کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

سوال: صاحب کتاب بننے اور شہرت ملنے کے بعد کتنی تبدیلی اپنی ذات میں محسوس کی ہے؟

جواب: صاحب کتاب بننے اور شہرت ملنے کے بعد مجھے اپنی ذات میں کوئی خاص تبدیلی محسوس نہیں ہوئی۔ ہاں! البتہ کتاب کی اشاعت اور شہرت نے مجھے زیادہ پریقین، ذمہ دار اور سنجیدہ بنا دیا۔ اب میں یہ سوچنے لگا کہ قارئین اور معاصر ادب کے معیار کی توقعات مجھ سے بڑھ گئی ہیں۔ ویسے کتاب کی اشاعت کے بعد مزاج میں نہیں، احساس میں تبدیلی آنی چاہئے، وقتی کامیابی کے بعد مزاج تو کم ظرفوں کے تبدیل ہوتے ہیں۔ ہاں! اگر اچھی تبدیلی آتی ہے تو اچھی بات ہے ورنہ عام طور پر اس کے الٹ ہی ہوتا ہے۔ شہرت ملنے کے بعد زمین پر پاؤں ٹکائے رکھنا اعلیٰ ظرفی کا تقاضہ کرتا ہے۔ ہمارا ہی ایک شعر ہے۔
دولت پہ کچھ گھمنڈ نہ شہرت پہ ناز ہے 
مجھ کو اے دوست تیری محبت پہ ناز ہےتو ہم درویش صفت، عشق مزاج اور محبت کے قدردان لوگ ہیں، شہرت اور دولت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ 

 

سوال: آپ شاعری اور نثر نگاری مختلف زبانوں میں کرتے ہیں،آپ کے خیال میں مختلف زبانوں پر عبور رکھنے والا ادیب کیا بہترین ادب تخلیق کر سکتا ہے؟

جواب: کیوں نہیں کر سکتا بھائی میرے؟ بالکل کر سکتا ہے۔ آپ کا یہ سوال اپنے آپ میں بیک وقت بہت عجیب بھی ہے اور برمحل بھی۔ جتنے بھی بڑے ادیب ہوئے ہیں مختلف زبانوں سے واقفیت رکھنے کی وجہ سے انہیں دنیا بھر کے ادب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور اپنے علم میں اضافہ کرنے کا زیادہ موقع ملا جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور معیار پر نہایت مثبت اثر ڈالا۔ 

 

رہی بات میری اپنی تو میں بنیادی طور پر صرف دو زبانوں میں شعر کہتا ہوں، اردو اور انگریزی۔ باقی زبانوں میں کبھی کبھار کہہ لیتا ہوں لیکن میری شعر گوئی کا اصل میدان اردو اور انگریزی ہی ہے۔ فارسی اور ہندی میں بھی کہہ لیتا ہوں لیکن تواتر اور تسلسل کے ساتھ نہیں۔ نثر کا بھی یہی معاملہ ہے۔ دنیا کے اکثر بڑے ادیب ذولسانی ادیب و شاعر رہے ہیں لہٰذا کئی زبانیں جاننے سے ایک ادیب اور شاعر کی تخلیق میں نکھار آتا ہے کیونکہ اس نے دنیا بھر کے ادب کا ذائقہ چکھ رکھا ہوتا ہے۔ ہاں! میں اپنی کثیر لسانی صلاحیت کا استعمال ترجمہ نگاری کے لیے کرتا ہوں جو ایک اضافی فائدہ ہے۔ 

 

سوال: آپ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، آپ کے نزدیک ایک استادکس قدر نئی نسل کو بگاڑنے یا سنوارنے کی قدرت رکھتا ہے؟

جواب: دیکھئے، یہ سوال آپ کو بھی اور قاری کو بھی بہت دور تک لے جائے گا۔ ایک استاد دراصل محض ایک پیشہ ور استاد نہیں ہوتا۔ ا س کی ذات میں بچے کے لیے کئی شخصیات پناہ لئے ہوتی ہیں۔ ایک اچھا استاد بچے کا باپ بھی ہوتا ہے اور ماں بھی، وہ ان کا رہنما بھی ہوتا ہے اور دوست بھی، ہمدرد بھی ہوتا ہے اور غم گسار بھی، یہاں تک کہ وہ بچے کا آئیڈیل ہوتا ہے۔ بچے کو اپنے استاد کی تنخواہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

 

چاہے استاد بغیر تنخواہ کے پڑھائے یا لاکھوں روپے لے کر پڑھائے، بچہ یعنی طالب علم اسے اپنی معصومیت کی عینک سے دیکھتا ہے۔ استاد یا معلم کو اپنی تنخواہ کے لحاظ سے تدریس نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنی ذمہ داری اور فریضے کے لحاظ سے کرنی چاہئے۔ ایک اچھا معلم اپنے طلبہ سے وہی رشتہ رکھتا ہے جو وہ اپنی اولاد سے رکھتا ہے، اپنے طلبہ کے لیے ایسے ہی مخلص ہوتا ہے جیسے اپنے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ ایک اچھا معلم صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک ہی اپنے طالب علم کا معلم نہیں ہوتا بلکہ وہ چوبیس گھنٹے اس رشتے کا اعتبار قائم رکھتا ہے۔ اگر کوئی معلم یہ کہتا ہے کہ 'اسکول ختم ہو جانے کے بعد مجھے اپنے طلبہ سے کیا لینا دینا' تو ایسے معلم اور استاد کو معلم بننے کا کوئی حق نہیں ، اسے بنیا اور تاجر ہونا چاہئے۔ 

 

سوال: اُردو زبان کی تدریس کرتے ہوئے کن امور کا خاص خیال رکھا جائے کہ طلبہ میں اردو ادب کا مطالعہ کرنے کا جذبہ بیدار ہو سکے اور تاحیات وہ مطالعے کے شیدائی رہیں؟

جواب: تدریس کو اگر ہم معلمی کہیں تو پھر یہ ایک ایسا زمرہ ہے جس میں پیغمبرانہ شان ہے۔ تدریس محض ایک مواد کو طلبہ کے سامنے پیش کر دینے کا نام نہیں ہے۔ ایک جماعت میں موجود ہر بچہ مختلف صفات کا حامل ہوتا ہے اس لیے درسی مواد یا متن اہم نہیں ہوتا بلکہ طریقہ ٔ تدریس اہم ہوتا ہے جس کا تعلق طلبہ کی نفسیات، رجحان اور ان کی پسند ناپسند پر ہوتا ہے۔ معلم پر دوہری ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک تو دلپذیر انداز میں تدریس کی اور دوسری اپنی شخصیت کو طلبہ کی نظر میں محض قابل قبول ہی نہیں بلکہ مثالی بنانے کی۔

 

ابتدائی سطح پر اردو زبان کی تدریس کرتے وقت ادب اطفال کا انتخاب سب سے اہم ہوتا ہے۔ یعنی زبان کی تدریس ادب کے ذریعے ہوتی ہے اور پھر اعلیٰ تعلیم میں ادب کی تدریس زبان کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس لیے زبان اور ادب، دونوں کی تدریس کرنے کے لیے معلم کو اپنی صلاحیت اور شخصیت دونوں کی صیقل گری کرنی ہوتی ہے۔ مواد ِسبق کا انتخا ب، طریقہ تدریس، وسائل تدریس ، طلبہ کا رجحان، ان کی پسند نا پسند، ماحول سازی، جدید مٹریل اور ٹکنالوجی کا استعمال وغیرہ ایسے امور ہیں جن کا استعمال دھیان اور توجہ سے کیا جائے تو ایک انسان اردو زبان و ادب کا مثالی معلم بن سکتا ہے۔ 

 

سوال: آپ نے قرآن پاک کی کتنی اورکن سورتوں کا انگریزی منظوم ترجمہ کیا ہے، اس حوالے سے کس قدر پذیرائی ملی ہے اور یہ بھی آگاہ کر دیجئے کہ اس طرف دھیان کیسے ہوا؟

جواب: میں نے قرآن پاک کے آخری جزو یعنی پارۂ عم کی تمام سورتوں کا انگریزی میں منظوم ترجمہ کیا ہے۔ اسے بیرون ملک بھی کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عرب دنیا کے منتخب جید علمائے دین کی رائے میں یہ کام دنیا میں اپنی نوعیت کا اولین کام ہے یعنی انگریزی میں منظوم ترجمہ کسی نے نہیں کیا تھا۔ کم از کم ہمارے علم کی حد تک تو نہیں۔ اور میرے علم میں بھی نہیں ہے کہ ایسی کوئی کوشش ہوئی ہو۔ میں نے یہ کام کم از کم پندرہ برس قبل شروع کیا تھا اور اسے مکمل ہوئے بھی دس بارہ برس ہو چکے ہیں۔ اس درمیان بھی کہیں سے کوئی اطلاع اس طرح کے کسی کام کی نہیں ہے۔ بس، اسی کام کو اپنے حوالے اور مغفرت کے لیے کافی سمجھتا ہوں۔ رہا یہ سوال کہ میرا دھیان اس طرف کیسے گیا تو دراصل میری ادبی زندگی کا آغاز انگریزی شاعری سے ہوا تھا۔ ابتداء ہی سے یہ سوچ تھی کہ میں اپنی اس صلاحیت سے دین کی کوئی خدمت کروں لیکن کیسے، یہ سمجھ نہیں پاتا تھا۔ اب جو انگریزی شاعری کو پذیرائی ملی تو اللہ نے ذہن میں یہ خیال ڈالا کہ کیوں نہ قرآن پاک کی سورتوں کا انگریزی میں منظوم ترجمہ کیا جائے۔ پہلے سورۂ فاتحہ اور چاروں قُل سے ترجمہ شروع کیا۔ احباب نے پذیرائی کی تو ہمت اور بڑھی اور دوسری سورتیں بھی ترجمہ کیں۔ 

 

سوال: کسی بھی ادیب یا شاعر کو انفرادیت کا حامل کیوں بننا چاہیے؟

جواب:شکیب جلالی کا شعر ہے :
شکیب اپنے تعارف کے لیے اتنا ہی کافی ہے 
ہم اس رستے نہیں جاتے جو رستہ عام ہو جائے
اگر ہم بھی ہجوم کا حصہ بن جائیں تو انفرادیت کہاں باقی رہے گی؟ انفرادیت کے حصول کے لیے کڑی محنت، مشقت، نیا اندازِ فکر، جدتِ طبع اور 'کچھ ہٹ کر' کرنے کا جذبہ اور مزاج ہونا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ عظیم لوگ غیرمعمولی کام انجام نہیں دیتے بلکہ معمولی کام کو مختلف طریقے سے انجام دیتے ہیں۔ بس! یہی انفرادیت زندگی کے ہر شعبے میں ہونی چاہیے۔ ہم کچھ نیا سوچیں، روایتی اور فرسودہ چیزوں میں قلمکار کی شخصیت گم ہوکر رہ جاتی ہے۔ غالب یا اقبال بھی اگر دیگر شعراء کی طرح روایت پسند ہوتے تو وہ شعراء کے ہجوم میں گم ہو چکے ہوتے۔

 

سوال: آپ کو انگریزی زبان میں نعت کے لئے ایک نئے لفظ ''PROPHIEM '' کا خیال کیسے آیا؟


جواب: اس سوال کا جواب بھی پہلے ہی کسی سوال کے جوا ب میں دے چکا ہوں۔ خیال یہی تھا کہ انگریزی شاعری ایک تحفہ ہے قدرت کی طرف سے تو پھر اسی قدرت، اسی خالق کے دین کی کیا خدمت کروں اس صلاحیت کا استعمال کرتے ہوئے لہٰذا پہلا کام اس سمت قرآن پاک کے آخری جزو کی سورتوں کا منظوم ترجمہ تھا اور دوسرا کام نعت کے لیے انگریزی میں پروفیم prophiem جیسی اصطلاح وضع کرنا اورprophiems  کہنا۔ تو میرے رب نے مجھ سے یہ کام لئے۔ کچھ پروفیم میری کتاب 'خامہ سجدہ ریز' میں شامل ہیں۔ اب پروفیمز کا عالمی انتخاب اور پروفیمز کی روایت و ارتقاء پر کتاب بھی لکھ رہا ہوں انشاء اللہ! بس یہ ہے پوری کہانی۔ 

 

سوال: اُردو ادب میں ''ترجمہ نگاری'' کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: ترجمہ نگاری ایک علیحدہ فن ہے جس کی آبیاری ایک سے زیادہ زبانوں پر عبور حاصل کر کے کی جاتی ہے۔ ترجمہ نگار جسے مترجم بھی کہا جاتا ہے، اسے دو یا دو سے زیادہ زبانوں کا محض علم ہو جانا کافی نہیں ہوتا بلکہ ان زبانوں کے مزاج، طبیعت، ثقافتی پس منظر، تاریخی حوالہ، تشکیلی تاریخ اور درو بست وغیرہ سے ایسی ہی واقفیت ہونی چاہئے جیسے ایک باپ اپنے سارے بچوں کی نفسیات، پسند ناپسند، رجحانات وغیرہ سے واقف ہوتا ہے۔ ترجمہ نگاری کے فن میں بھی دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ ترجمہ تخلیقی ادب کی باز تخلیق ہے۔ دوسرا یہ کہ ترجمہ دراصل کسی زبان کے تخلیق پارے کو جوں کا توں دوسری زبان میں پیش کردینے کا فن ہے۔ میں دونوں نظریات کو جزوی طور پر تسلیم کرتا ہوں۔ کبھی کبھی ترجمہ کرتے وقت تخلیقی حسن کو برقرار رکھنے کے لیے مترجم کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسے وقت اصل تخلیق کی ملمع کاری اور تزئین و آرائش کرتے وقت مترجم کی دیانت داری پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ اور اگر اصل تخلیق کو جوں کا توں پیش کرنا ہو تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ترجمہ کہیں محض ایک بے لطف اور بے مزہ تحریر یا رپورٹ یا روداد نہ بن جائے۔ اس کی وجہ سے مترجم کی مہارت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔ بہرحال، یہ مترجم کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ وہ کس وقت کون سے نظریے پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ 

 

سوال: ''معکوس ترجمہ نگاری'' کی اصطلاح آپ نے متعارف کروائی ہے، اس کے حوالے سے کچھ آگاہ کیجئے؟

جواب: معکوس ترجمہ نگاری سے میری مراد یہ دراصل فطری ترجمے کے بالکل برعکس نوعیت کا حامل ترجمہ ہے۔ فطری ترجمے میں ایک مترجم کسی دوسری زبان کی تخلیق کو اپنی مادری زبان میں باز تخلیق کرتا ہے جب کہ معکوس ترجمہ نگار اپنی مادری زبان میں تخلیق کی گئی کسی شعری یا نثری تحریر کو دیگر زبان میں ترجمہ کرتا ہے، ایسی زبان میں جو اس کی مادری زبان نہیں ہے۔ اس اصول کا انطباق دنیا کی کسی بھی زبان کی تحریر اور ترجمے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ہر وہ ترجمہ جو تخلیقی زبان سے دیگر زبان میں کیا جاتا ہے، معکوس ترجمہ کہلاتا ہے اور ہر وہ ترجمہ نگار جو تخلیقی زبان کی تحریر کو دیگر کسی زبان میں ترجمہ کرتا ہے، معکوس ترجمہ نگار کہلائے گا۔ دنیا بھر میں ترجمہ ہونے والے ادب میں زیادہ حصہ فطری ترجمے کا ہوتا ہے۔ اردو کے تخلیقی ادب کے کسی دیگر زبان میں معکوس ترجمے کا حصہ تو سوائے پانچ یا دس فیصد سے زیادہ قطعی نہیں ہے۔ یہ بتائیے کہ آج تک اردو کو ادب کے نوبل پرائز میں کیوں شامل نہیں کیا گیا؟ اردو کو سوائے سوویت یونین کے کسی دیگر عالمی ایوارڈ کے لئے منتخب نہیں کیا گیا۔ سوویت یونین نے بھی سوویت نہرو ایوارڈ اپنے نظریے کی تبلیغ کے لیے دیا، اردو ادب کی ترویج اور فروغ کے لیے نہیں۔ اس لئے میرا اصرار معکوس ترجمہ نگاری کو فن ترجمہ نگاری کے ایک مستقل زمرے کی حیثیت سے قبولیت دلوانے پر ہے تاکہ اس ضمن میں باقاعدہ اور منظم کام کرنے کی سمت پیش رفت ہو سکے۔ ہمیں اپنی زبان اردو کی معیاری تخلیقات سے دنیا بھر کو واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ ہم کب تک دوسری زبانوں کا مال اپنی زبان میںimport  کرتے رہیں گے، اب وقت آ گیا ہے کہexport  کے شعبے کو بھی چلن میں لایا جائے۔ 

 

سوال: ''ترجمہ نگاری'' کا کسی زبان کی ترویج و ترقی میں کتنا ہاتھ ہے؟

جواب: ترجمے کے ذریعے ہمیں دوسری زبانوں کے ادب کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح اردو کا ترجمہ دوسری زبانوں میں کرنے سے ہماری زبان کے ادب کو بھی دیگر زبان والے پڑھ سکیں گے ورنہ بقول غالب
ہم سنائیں حالِ دل اور آپ فرمائیں گے 'کیا'
ترجمہ نگاری کی وجہ سے صرف مترجم کا مطالعہ اور فکری کینوس وسیع ہوتا ہے لیکن ترجمہ شدہ تحریروں کا مطالعہ کرنے سے قاری، شاعر اور ادیب، محقق اور نقاد، ان سب کا فکری کینوس وسیع ہوتا ہے۔ ان کی تحریروں میں بھی دیگر زبانوں کی فکری اساس، رجحانات اور ثقافتی روایات منعکس ہوتی ہیں۔ ترجمہ کی وجہ سے کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج اور اس کے پھلنے پھولنے کو راہ ملتی ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ 

 

سوال: ترجمہ نگار میں کن اوصاف کا ہونا لازمی ہے؟

جواب: ہر زبان اپنا ایک الگ مزاج اور ثقافت رکھتی ہے۔ ترجمہ کرنے کے لیے کسی زبان سے محض رسمی واقفیت رکھنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ مترجم کو ترجمے کے لیے منتخب کردہ زبانوں سے فطری رغبت ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ ترجمہ نگار کے لیے ان زبانوں کی ساختیات، قواعد، ثقافتی تلازمات، فطرت، مزاج اور رجحانات کی مکمل شناخت و شناسائی ہونی بھی لازمی ہے جن میں وہ ترجمہ کر رہا ہو۔ ایک اچھا مترجم زبان کے اسرار و رموز کو بہت اچھی طرح جانتاہے۔ اس کے لیے تخلیقی تحریر نہیں بلکہ ترجمے کی زبان محبوبہ کی طرح ہوتی ہے اور مترجم اس زبان کے ساری عشوہ طرازیوں اور ناز و انداز سے بھلی بھانتی واقف ہوتا ہے۔

 

ہم یہاں یہ گفتگو ادبی ترجمہ نگاری کے حوالے سے کر رہے ہیں اس لیے عموماً اس گفتگو میں زیر بحث آنے والے اصولوں کا اطلاق پیشہ ورانہ ترجمہ نگاری، تکنیکی ترجمہ نگاری، سائنسی ترجمہ نگاری، تاریخی ترجمہ نگاری وغیرہ جیسے ذیلی موضوعات کے لیے مختص نہیں ہو گا کیونکہ ادبی ترجمہ نگاری کے علاوہ تخلیقی اساس کے تحمل کا اختصاص سائنسی یا تکنیکی یا پیشہ ورانہ ترجمہ نگاری کو حاصل نہیں ہو سکتا۔

 

سوال: اکثر ترجمہ نگار خود کو طبع زاد لکھنے والوں پر فوقیت دیتے ہیں، آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب: میں اپنے کسی جواب میں بتا چکا ہوں کہ ترجمہ تخلیق کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ترجمہ نگار یا مترجم تخلیق کار کے درجے کو پہنچ سکتا ہے۔ ترجمہ نگاری میں فکری اساس اور نظریاتی بنیاد، تخلیقی زمین اور تحریری کاشت، یہ ساری ذمہ داریاں تخلیق کار نبھا چکا ہے، اب مترجم تخلیق کردہ تحریر کو کسی دوسرے زبان میں محض منتقل کرنے کا کام کر رہا ہے۔ اب یہ اس کی صلاحیت پر منحصر کرتا ہے کہ وہ کتنے اچھے طریقے اور دلچسپ اندا ز و اسلوب میں اس تحریر کو دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے۔ فوقیت اور ترجیح کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ تخلیق کار تخلیق کار ہی رہے اور مترجم مترجم ہی رہے تو بہتر ۔ اگر مترجم کا تقابل کسی سے ہو سکتا ہے تو صرف مترجم سے، تخلیق کار سے نہیں۔ مترجم اچھا یا برا ہو سکتا ہے لیکن مترجم تخلیق کار نہیں ہو سکتا۔ تخلیق کار اچھا یا بر ا ہو سکتا ہے لیکن تخلیق کار مترجم نہیں ہو سکتا۔ بس یہ اتنی ہی سیدھی سادی بات ہے۔

 

سوال: کیا آپ اپنی آپ بیتی لکھنے کے خواہاں ہیں، یہ بھی بتائیے کہ آپ کے نزدیک کسی ادیب کے حالات زندگی منظر عام پر آنا کیوں ضروری ہیں؟

جواب: میں آپ بیتی لکھنے کی سمت زیادہ توجہ نہ دیتا لیکن آپ جیسے محبت کرنے والوں کے اصرار نے مجبور کیا کہ اپنے بارے میں کچھ لکھوں۔ اردو دنیا کے قارئین میری زندگی کی جزئیات سے واقفیت چاہتے ہیں تو چلو، یوں ہی سہی۔ بقول ندا فاضلی، ع
بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا
جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
2007 کے جولائی ماہ میں میرا ایک جان لیوا حادثہ ہوا تھا جس میں اللہ کی خاص عنایت کی وجہ سے مجھے زندگی دوبارہ واپس مل گئی۔ مہینوں تک میرا منہ لوہے کی باریک سلاخوں سے سیا ہوا تھا۔ نہ بات کر سکتا تھا نہ کچھ کھا پی سکتا تھا۔ ایک چھوٹے سے پائپ کے ذریعے سیال غذا پہنچائی جاتی تھی۔ صحتیابی کے بعد انگریزی میں ایک آپ بیتی لکھی Life Knocks Again۔ احباب نے بہت پسند کیا اور مشورہ دیا کہ اگر آپ نے محض ایک حادثے کی روداد ایک سوصفحات پر اتنے جذباتی اور متاثر کن انداز میں لکھی ہے تو آپ پوری زندگی پر محیط آپ بیتی کیوں نہیں لکھتے۔ یہ حوالہ بھی اہم ہے آپ بیتی تحریر کرنے کے لحاظ سے۔ سو اب لکھ رہے ہیں آپ بیتی، دیکھیں کب مکمل ہوتی ہے۔ 

 

سوال: کن طبع زاد اور ترجمہ نگار لکھاریوں کے کام کو بے حد پسند کرتے ہیں؟

جواب: مترجمین تو بہت سارے ہیں، نام لوں گا تو جو نام حافظے میں نہیں ہوں گے، انہیں برا لگ جائے گا اس لیے اس سوال کا جواب فی الوقت رہنے دیجئے۔

 

سوال: آپ کے نزدیک ایک بڑے ادیب کی تعریف کیا ہے؟

جواب: ادب کوئی منشی جی کا بہی کھاتا نہیں ہوتا کہ حساب کتاب اور روداد لکھ کر فارغ ہوگئے۔ ادب تو جگر کاوی، دل سوزی اور فکری پہنائیوں کی پیمائش کے کبھی نہ ختم ہونے والے ایک سلسلے سے عبارت ہوتا ہے۔ ادیب چھوٹا بڑا نہیں ہوتا۔ ادب بڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ تخلیق ہونے والا ہر ادب بڑا ہو۔ ہر ادب کا اپنا ایک معیار ہوتا ہے۔ ادب کا یہی معیار ادیب کا مقام طے کرتا ہے۔ نہ ہر ادیب ڈپٹی نذیر احمد، سرسید اور محمد حسین آزاد ہو سکتا ہے اور نہ ہی ہر شاعر میر، مومن، غالب، اقبال  یا داغ وغیرہ۔ لیکن ادب بڑا وہی ہو گا جس کی بنیادوں میں آفاقی فکر، تخلیقی وفور اور شدت اظہار موجود ہو۔ جوڑ توڑ اور 'ازم' والا ادب بہت دن تک ٹک نہیں پاتا۔ آفاقی ادب زمانی اور مکانی حدبندیوں سے ماوراء ہوتا ہے۔ یہی ادب، ادیب کو بڑا بناتا ہے۔ لیکن ہر بڑے ادیب میں کچھ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔ جس بڑے ادیب کو ان کمزوریوں پر قابو پانا اور اعتدال برقرار رکھنے میں دلچسپی نہیں ہوتی، وہ ادیب بڑا ہوتے ہوئے بھی بڑا نہیں ہوتا۔ 

 

سوال: آپ کے مزاج کی سادگی نے کبھی آپ کونقصان پہنچایا ہے؟

جواب: مزاج کی سادگی نے نقصان تو بہت پہنچایا لیکن یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے۔ سادہ مزاج، سادہ دل لوگوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اکثر زخم اپنوں سے ملتے ہیں۔ غیر بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے نہیں چوکتے۔ میں سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھتا بھی ہوں اور سمجھتا بھی ہوں لیکن یہ سوچ کر نظر انداز کر دیتا ہوں کہ اگرکوئی اپنے ظرف کے مطابق مجھے نقصان پہنچا رہا ہے تو میں بھی اپنے ظرف کے مطابق درگزر اور عفو سے کام لوں ورنہ اس میں اور مجھ میں فرق ہی کیا رہ جائے گا۔ لیکن انجام کار مجھے قلبی سکون میسر رہتا ہے، یہی میرے لیے بڑی کامیابی اور اللہ کی خاص عطا ہے ورنہ لوگ سکون کے لیے بڑے بڑے دواخانوں کے چکر لگاتے ہیں۔ بقول جگر 
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

 

سوال: عام آدمی کے لئے مختلف قوانین کے بارے میں جاننا کیوں ضروری ہے، بطور قانون داں آپ قانون کی حکمرانی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

جواب: ہر معاشرہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے پرامن اور منضبط رہتا ہے۔ ایک صحت مند معاشرے میں قانون کا نفاذ ہر خاص و عام کے لیے یکساں ہوتا ہے لیکن برصغیر ہند و پاک میں قانون کے اطلاق، نفاذ اور اس کے تعلق سے بیداری میں یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام لوگ قانون کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں رکھتے۔ عام آدمی تو یہ سمجھتا ہے کہ قانون صرف وکیلوں، ججوں اور عدالت کے لیے ہوتا ہے، عام آدمی کو اس سے کیا لینا دینا؟ عام آدمی کی یہی بے نیازی اس کے استحصال کی بڑی وجہ بن جاتی ہے اور معاشرہ عمومی طور پر اباحیت اور انارکی کا شکار ہو جاتا ہے جہاں امن و امان اور نظم و نسق کی برقراری ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس لیے بحیثیت قانون داں، میں معاشرے کو ایک متعینہ قانون کا پابند دیکھنا چاہتا ہوں جس کی پاسداری ہر چھوٹا بڑا، خاص و عام، امیر غریب سچے دل اور خلوص سے کرے۔ معاشرے میں عدل و انصاف قانون کی پاسداری ہی کے باعث ممکن ہو سکتا ہے۔ 

 

سوال: آپ کی کامیابی میں کن افراد کا زیادہ ہاتھ ہے؟

جواب: دنیا کی مجھ پہ لاکھ نوازش سہی مگر 
میری ترقیوں میں ترا ہاتھ بھی تو ہو
میری ادبی کامیابیوں میں عملاً والدین کا کتنا ہاتھ ہے، یہ کہنا محال ہے لیکن ان کی دعائیں ضرور شامل حال رہی ہیں۔ بالواسطہ طور پر اہلیہ، بچوں اور چند احباب کا بھی ہاتھ ہے۔ باقی ہمتِ مرداں مدد خدا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ 

 

سوال: ادیبوں کی آپس میں چپقلش سے ادب کوکتنا نقصان پہنچ رہا ہے؟

جواب: پہلے ادبی گروہ بندیاں ہوتی تھیں تو ادب کو اس کا فائدہ ہوتا تھا، ادب ان گروہ بندیوں اور چپقلشوں سے ثروت مند اور متمول ہوتا تھا۔ لیکن آج کل کی چپقلشیں فکری اور نظریاتی نہیں بلکہ ذاتیات پر مبنی ہے اس لیے اس سے ادب اور ادیب، دونوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ اردو میں معیاری ادب بلکہ عالمی معیار کا ادب کہاں تخلیق ہو رہا ہے، آپ خود اس سوال کا جوا ب تلاش کریں۔ 

 

سوال: نئے لکھاریوں اور شعراء کے لئے کیا تجاویز دینا چاہیں گے تاکہ وہ خوب اُبھر کر سامنے آ سکیں؟

جواب: نئے لکھنے والو ں کے لیے لازم ہے کہ وہ سب سے پہلے عجز و انکسار کا سبق سیکھیں۔ میرااپنا ایک شعر ہے۔ 
جس نے ادب لکھا تو وہ بس ایک ادیب ہے
جس کو ادب نصیب ہوا، خوش نصیب ہے
کسی دوسری جگہ میں نے یوں بھی کہا تھا، ع
کرو جو بات بڑوں سے، ادب ضروری ہے 
کیا نہیں جو ابھی تک، وہ اب ضروری ہے
ہمارے بزرگوں سے ہم نے یہی سیکھا ہے کہ 'باادب بانصیب، بے ادب، بے نصیب۔' تو ہم نے جب ادب لکھنا شروع کیا تو اس سے پہلے ادب کو برتنا سیکھا۔ تخلیق کیا جانے والا ادب برتے جانے والے ادب کے بغیر مادی طور پر تو مفید دکھائی دے سکتا ہے لیکن اخلاقی طور پر اس کے اثرات گہرے مرتب نہیں ہوتے کیونکہ ادب اپنے ادیب کی شخصیت کا انعطاف کرتا ہے۔ نئے لکھنے والوں کو سب سے پہلے دو باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ انھیں خود پسندی اور انا کو اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دینا چاہئے اور شہرت کو اپنے سر پر سوار نہیں ہونے دینا چاہئے۔ رہی بات یہ کہ نئے لکھنے والوں کو ابھرکر سامنے آنے کے لیے کیا کرنا چاہئے، تو میرا ان سے یہ کہنا ہے کہ ادب میں کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے مطالعہ کیجئے اور خوب کیجئے، کرتے رہیے۔ مطالعہ فکریspan  کو وسیع کرتا ہے۔ مطالعہ سے تخلیق کار کا وژن بڑا ہوتا ہے اور تخلیق کے لیے خوب زرخیز زمین دستیاب ہوتی ہے۔ نوآموزوں کو سطحی فکر سے اجتناب کرنا چاہئے۔ تخلیقی وفور بھی رد و قبول کے راستے سے گزرکر ہی پختگی اور بلوغت کی منزل تک پہنچتا ہے۔ پہلے اپنے آپ کو رد کرنا ہوگا، اس سے پہلے کہ دوسرے آپ کو رد کریں، جب آپ کو اپنے آپ کو رد کرنے کا سلیقہ آ جائے گا تو قاری اور نقاد دونوں آپ کی تخلیق کو سنجیدگی کی نظر سے دیکھیں گے ورنہgarbage literature  کبھی ادب نہیں بن سکے گا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے شارٹ کٹ اور سستی شہرت آپ کو اچھا اور بڑا ادیب نہیں بنا سکتی اور نہ ہی 'کچرا ادب' کی بہتات و افراط آپ کو کوئی مقام دلا سکے گی۔ 

 

سوال: کن نئے شعرا اور لکھاریوں کے کام کو بے حد پسند کرتے ہیں؟

جواب: نام بہ نام ذکر کروں گا تو جو چھوٹ جائیں گے انھیں برا لگے گا، اس لیے بس اتنا ہی کہوں گا کہ اچھا ادب چاہے وہ شعری ادب ہو یا نثری ادب، بہت کم تخلیق ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا کے بہادر روزانہ کی بنیاد پر اپنی چیزیں (تخلیقات) پوسٹ کرتے ہیں۔ جب آپ ذہن کی چکی کو وقت ہی نہیں دیں گے کہ وہ فکرخیزی اور خیال آفرینی کے عمل سے گزرے تو کون سا مادہ باہر نکلے گا؟ مقدار کی کثرت معیار کی ضمانت نہیں ہوتی۔

 

سوال: کن کتابوں نے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں؟

جواب: الگ الگ موضوعات پر مختلف کتابوں نے میری زندگی پر اثرات مرتسم کئے ہیں۔ سب سے پہلے تو قرآنِ پاک نے میرے ذہن کو کھولا۔ اس لیے کہ یہ ہم سب کے خالق اور رب علیٰ کی کتاب ہے۔ کائنات کی تخلیق کے رموز اس میں درج ہیں۔ دنیاوی کتابیں جنھوں نے میری فکری تربیت میں اہم کردار نبھایا، وہ ہیں مرحوم ابن صفی بنیاد کے پتھر ہیں۔ عصمت چغتائی، قرة العین حیدر، کرشن چندر، پریم چند، منٹو، ان کے علاوہ اردو پاپولر فکشن میں محی الدین نواب، ایم اے راحت، وغیرہ۔ ان کے علاوہ انگریزی نثری اور شعری ادب نے بھی کافی زیادہ متاثر کیا ہے میرے ذہن کو۔ اگر نام لے کر کہوں تو شیکسپیئر اور جان ڈن اور گوئٹے سے لے کر ورڈز ورتھ، شیلے، کیٹس اور رابرٹ فراسٹ، پھر نثری ادب میں موپساں، دوستوئیسکی، ٹالسٹائی، چیخوف، او ہنری، سمرسٹ ماہم وغیرہ وغیرہ۔ انگریزی پاپولر فکشن میں جیکلن سوسن، آرتھر ہیلی وغیرہ۔ ایک ایک رات میں پوری کتاب ختم کر لیتا تھا کسی وقت۔ تو یہ ہے کتا بوں کا مختصر تذکرہ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ جن کے نام لئے ہیں ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں پڑھا۔ یہ تو صرف نمونے کے لیے چند نام یادداشت کے سہارے درج کر دیئے ہیں۔

 

سوال: آپ نے مستقبل کے لئے کیا کچھ سوچ رکھا ہے؟

جواب: ہم نے مستقبل کے لیے کچھ نہیں سوچا ہے، جو ہونا ہے، وہ ہو جائے گا۔ ہم کیوں فکر کریں، البتہ ہمارا حال مستقبل کے لیے ہماری تیاری کی غمازی کرتا ہے۔ اگر آپ کے سوال کی روشنی میں بات کی جائے تو مستقبل میں کچھ اہم کام کرنے باقی ہیں۔ سوچ رکھا ہے کہ اگر زندگی رہی تو اللہ کی مدد سے پہلی فرصت میں ان اچھوتے اور منفرد کاموں کو انجام دوں گا۔ کاموں کی نوعیت ابھی آشکار نہیں کرنا چاہتا۔ 

 

سوال: قارئین کے نام کیا پیغام دینا چاہیں گے؟

جواب: کبھی کبھی قارئین قلمکاروں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ وہ تحریر کی قرات کے ذریعے قلمکار کے ذہن میں جھانک لیتے ہیں۔ باوجود اس کے چاہتا ہوں کہ قارئین پڑھنے لکھنے کو سنجیدگی سے لیں۔ چاہے وہ نثری ادب پڑھیں یا شعری، ادب عالیہ ہو یا ادب اطفال، دیگر زبانوں کے ساتھ اردو زبان کا مطالعہ ضرور کریں۔ کوشش کریں کہ اردو زبان کو دیگر زبانوں پر فوقیت دی جائے کیونکہ اردو ہماری مادری زبان ہی نہیں بلکہ عشق و محبت کی زبان ہے۔ یہی اردو زبان کی بقاء کا واحد طریقہ اور راستہ ہے۔