خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان میں بھی خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کا قیام 

خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان میں بھی خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کا قیام 

تحریر: نواب علی یوسفزئی

خدائی خدمتگار آرگنائزیشن صوبہ پختونخوا کے بعد صوبہ بلوچستان میں بھی ایک فعال تنظیم کے طور پر ابھر کر سامنے آ گئی ہے جو باچا خان کی عظیم تحریک کی تجدید، فلسفہ انسانیت کی خدمت کو عبادت کا درجہ دے کر سرانجام دینے کیلئے پہلے اس کا تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کیا جس کے پہلے سالار اعلی سید شاہ جہان آغا کو نامزد کر لیا گیا۔ شاہ جہان آغا چونکہ پہلے ہی سے باچا خان کے نظریاتی کارکنوں میں تھے اس لئے انہوں نے سب سے پہلے تنظیمی امور کو مدنظر رکھتے ہوئے عبدالمالک جدون کو صوبائی ڈپٹی سالار اعلی اور اپنا نائب بنا کر پورے صوبہ بلوچستان میں تنظیمیں بنانا شروع کر دیں۔ 

 

چونکہ صوبہ بلوچستان پاکستان کے چاروں صوبوں میں رقبہ کے لحاظ سے بڑا وسیع و عریض صوبہ ہے جو کل35  اضلاع پر مشتمل ہے۔ ان35  اضلاع میں13  پختون آبادی پر مشتمل ہیں جبکہ بلوچ قوم22  اضلاع میں آباد ہے۔ بلوچستان انتظامی طور پر 7 ڈویژن پر مشتمل ہے: ان میں قلات ڈویژن، مکران ڈویژن، نصیر آباد ڈویژن، سبی ڈویژن، کوئٹہ ڈویژن، ژوب ڈویژ اور  لورا لائی ڈویژن شامل ہیں۔ سید شاہ جہان آغا سالار اعلی نے4  جنوری 2021 کو باچا خان مرکز میں خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کی آل پاکستان تنظیمی اجلاس جو مرکزی چیئرمین میاں افتخار حسین کی زیرصدارت منعقد ہوا تھا، اس میں کارکردگی رپورٹ پیش کی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ پنجاب کے سالار اعلی کے علاوہ پختونخوا کے چار ریجن میں سے تین ریجن کے سالاروں نے بھی اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔

 

سالار اعلی سید شاہ جہان نے اپنی تحریری رپورٹ آرگنائزیشن کے آفس میں جمع کی جس کے مطابق جن اضلاع میں تنظیمیں بن چکی ہیں، ان میں ضلع کوئٹہ کے سالار ملک خان ولی ناصر اور ڈپٹی سالار شاہا محمد بڑیچ، ضلع پشین کے سالار نسیم کاکڑ اور ڈپٹی سالار محمد یاریزئی، ضلع قلعہ عبداللہ کے سالارعبدالولی کاکڑ اور ڈپٹی سالار حفیظ اللہ، ضلع زیارت کے سالار سید زین الدین شاہ، ڈپٹی سالار نیک محمد کاکڑ، ضلع ہرنائی کے سالار حاجی موزگ ترین، ڈپٹی سالار سلطان شاہ،، ضلع قلعہ سیف اللہ سالار کلیم اللہ کاکڑ، ڈپٹی سالار عبدالشکور وصال، ضلع لورالائی سالار عبدالخالق جلال زئی ڈپٹی سالار داد ترکئی، ضلع ژوب سالار حسن تونیوال، ڈپٹی سالار شیخ نور الحق مندوخیل، ضلع دکی سالار قب خان، ڈپٹی سالار سرور خان زرکون، ضلع شیرانی سالار رحمت اللہ شیرانی، ڈپٹی سالار محمد اسحاق حریفال، ضلع لسبیلہ سالار اجبر خان، ڈپٹی سالار عمر نواز خان خٹک، ضلع سبی سالار آصف خان،  ڈپٹی سالار جعفر خان مقرر کئے گئے ہیں، جبکہ ضلع چمن میں تنظیم سازی ابھی نہیں ہو سکی ہے۔ 

 

سید شاہ جہان آغا نے مزید کہا کہ جب ہم نے11  اکتوبر 2021 کو باچا خان مرکز میں حلف اٹھایا جس میں ہمارے سی ای او ایمل ولی خان نے حلف لیا اور پھر میاں افتخار حسین کو چیئرمین نامزد کر دیا تو میں نے اپنی پہلے تقریر میں ایمل ولی خان کے نوٹس میں یہ بات لائی کہ ضلع لورالائی میں تباہ کن زلزلہ آیا جس سے بہت جانی و مالی نقصان ہوا مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک مرکزی حکومت نے اور نہ صوبائی حکومت نے زلزلہ زدگان کی کوئی مدد کی اور نہ کسی این جی او نے اس کا نوٹس لیا ہے بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی اس کی کوریج نہیں کی۔ ایمل ولی خان نے فوراً10  لاکھ روپے کی دوائیاں، کمبل اور اشیا خورد و نوش جائے وقوعہ پر پہنچانے کا اعلان کیا اور چیئرمین میاں افتخار حسین اور سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق کو ایک وفد کی صورت میں کوئٹہ روانہ کیا۔ کوئٹہ میں ہم نے اس کا استقبال کیا اور امدادی سامان لے کر لورالائی کے متاثرین سے ملاقاتیں کیں، ان کے ساتھ پختونخوا کے عوام کی طرف سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور ان میں امدادی سامان تقسیم کیا۔

 

اے این پی بلوچستان کے صدر اصغر خان اچکزئی نے صوبہ کے وزیرا علی کو فون پر تمام حالات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعلی نے ڈزاسٹر منیجمنٹ کو حکم دیا کہ وہ لورالائی کے زلزلہ زدگان کی طبی امداد کیلئے میڈیکل ٹیمیں بھیجی گئیں جس سے وہاں کے متاثرین اے این پی کے بہت شکر گزار ہوئے۔ اس طرح جب تمام ملک میں کرونا وباء پھیلی تھی تو ہم نے حفاظتی اقدامات سے آگاہی کے لئے مہم چلائی اور عوام میں ماسک اور سینی ٹائزر تقسیم کئے۔ جب رمضان کا مہینہ آیا تو ہم نے افطاری دینے کیلئے باچا خان دسترخوان تمام ماہ رمضان میں بچھایا اور عید آنے پر غریبوں، بیواؤں اور یتیموں میں عیدی تقسیم کی۔ جبکہ بہار کا مہینہ شروع ہوا تو ہم نے باچا خان کے ویژن کے مطابق اور عوام کو اچھا ماحول دینے کیلئے اور پرندوں کو اپنے گھونسلے بنانے کیلئے شجرکاری کی عوامی مہم چلائی اور عوام میں پھول دار پودے اور پھلدار درخت تقسیم کئے تاکہ وہ یہ پھلدار پودے اور درخت مسجدوں، حجروں کے صحنوں میں لگائیں، گلی محلوں اور سڑکوں کے کناروں پر درخت لگائیں تاکہ ایک انسان دوست فضا پیدا ہو سکے، اب ہم نے صفائی مہم بھی شروع کر دی ہے، ہم خود سڑکوں گلی محلوں میں صفائی کریں گے تاکہ عام لوگ ہم کو نالیوں کی صفائی اور سڑکوں پر جھاڑو دیتے دیکھ لیں تو ان میں خود بخود یہ صفائی کی عادت پڑ جائے گی، ہم کو ہر کام حکومت پر نہیں چھوڑنا چاہئے، صفائی تو نصف ایمان ہے اور اسلام تو صفائی پر بہت زور دیتا ہے، شخصی صفائی سے لے کر گھر گلی اور محلے کی صفائی صحت کیلئے بہت ضروری ہے۔ صفائی سے ماحول پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے اس لئے ہم ہر ضلع کی سطح پر صفائی مہم جاری رکھیں گے۔ چونکہ بابا امن باچا خان نے بھی تحریک خدائی خدمتگار کی شروعات بھی علاقے کی مسجدوں اور حجروں سے شروع کی تھی اور پھر خدائی خدمتگاروں کی ہر گلی و محلہ کو صاف رکھنے کیلئے مختلف ٹیمیں اور گروپ بنا کر مختلف علاقوں میں صفائی سے آگاہی مہم چلاتے تھے، اب انہی راستوں پر ہم کو بھی چلنا ہو گا۔