خیبر پختونخوا کا بجٹ

خیبر پختونخوا کا بجٹ

تحریر: وصال محمدخان 

صوبائی حکومت نے 1کھرب 118 ارب 30 کروڑ روپے کا متوازن اور ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا ہے۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے سال 2021-22 کا بجٹ پیش کیا۔ مجوزہ بجٹ میں ترقیاتی بجٹ کا حجم 371 ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں 100.3 ارب روپے ضم شدہ قبائلی اضلاع جبکہ 270.7 ارب روپے بندوبستی اضلاع کیلئے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 37 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس میں 10% ایڈہاک ریلیف، 20 فیصد پے سکیل اور 7 فیصد ہاؤس رینٹ کی مد میں اضافہ شامل ہے۔ صوبے کے 20 ہزار آئمہ کرام کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی مد میں 2.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، پنشن میں 10 فیصد جبکہ بیواؤں کی پنشن میں 100% اضافہ کیا گیا ہے۔ بیواؤں کو اب 75 کی بجائے 100 فیصد پنشن ملے گی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 55 سال اور لازمی سروس کی حد 25 سال کر دی گئی ہے۔ مزدورکی کم از کم ماہانہ اجرت 21 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ تعلیم کے شعبے میں 20 ہزار اساتذہ اور دیگرسٹاف کی بھرتیاں کی جائیں گی۔ ابتدائی وثانوی تعلیم کیلئے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں، 2 ہزار 1 سو نئے سکول تعمیر کئے جائیں گے جبکہ 10 ہزار ماڈل کلاس رومز بنائے جائیں گے۔ اقلیتوں، خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے نادار طبقوں کی معاشی بہتری کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے 27.56 ارب روپے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 13 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاحت اور کھیلوں کیلئے 20.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ زراعت کی ترقی کیلئے 20.5 ارب روپے جبکہ آبپاشی کیلئے 19.9 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئے مالی سال میں 3 ہزار کنال بنجر اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔ گندم پر سبسڈی کیلئے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ فنانس ڈپارٹمنٹ کیلئے 41 ارب، محکمہ اطلاعات کیلئے 1.7ارب، صنعت کیلئے 5.01 ارب، محکمہ داخلہ اور پولیس کیلئے 91.7 ارب، انرجی اور پاورکیلئے 17.25 ارب، بلدیاتی اداروں کیلئے 37 ارب، بلدیاتی انتخابات کیلئے 1 ارب، ایکسائز کیلئے 1.9 ارب جبکہ صحت کے شعبے کیلئے 142 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ نئے مالی سال میں صوبے کے 4 کروڑ افراد کو صحت انشورنس کی سہولت دی جائے گی جبکہ جگر اور گردے کی پیوندکاری سمیت او پی ڈی کو بھی صحت سہولت کارڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 4 ہسپتال بنائے جائیں گے۔ صوبہ تنخواہوں کی مد میں 374 ارب جبکہ پنشن کی مد میں 92 ارب روپے ادا کرے گا۔ صوبے کی آمدن کا بڑا حصہ وفاق سے رائلٹی، این ایف سی اورگرانٹس کی صورت ملنے کی توقع ہے اور بجٹ کا بڑا حصہ اسی رقم کی توقع پر بنایا گیا ہے۔ پن بجلی رائلٹی کی صورت میں صوبے کو 74.7 ارب، تیل وگیس رائلٹی کی مد میں 26.5 ارب، وفاق سے دہشت گردی سے ہونے والے نقصانات کی مد میں مجموعی قومی آمدن کے 1 فیصد کے حساب سے 57 ارب روپے ملیں گے جبکہ صوبے کی مجموعی ٹیکس آمدنی 50 ارب روپے سے زائد کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی مالیاتی اداروں سے گرانٹس، امداد اور قرضے کی صورت میں 89 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ صوبائی حکومت نے حالیہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا بلکہ پہلے سے موجود کئی ٹیکسز میں کمی کی گئی ہے۔ موٹر وہیکل رجسٹریشن کی مد میں ایکسائز ڈیوٹی کم کی گئی ہے جس سے دیگر صوبوں کے مقابلے میں یہاں گاڑی کا ٹوکن ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ بجٹ اجلاس شورشرابے، ہاتھاپائی اور دھینگامشتی کے بغیر خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا جو دیگرصوبوں اور وفاق کیلئے مثال قرار دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی نگہت اورکزئی اور اے این پی کی ثمربلورکا کہنا تھا کہ ابھی تو بجٹ پیش ہوا ہے اس پر جب بحث کرائی جائے گی تو اس کے منفی پہلو سامنے لائیں گے اور اس پر کھل کر اظہار خیال کیا جائے گا۔ ثمر بلور کا کہنا تھا کہ عوام کو خوردنی اشیاء کی مد میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، گندم پر محض 10 ارب روپے کی سبسڈی کی تجویز دی گئی ہے جس کی کوئی تفصیل سامنے نہ آ سکی کہ آیا یہ سبسڈی صارفین کو دی جائے گی یا کسان کو اس سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا، زراعت کیلئے 25.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں مگر گنے کے کاشتکاروں کیلئے کسی قسم کی مراعات کا اعلان سامنے نہیں آیا، چند برس پہلے تک صوبہ گنے اور چینی کی پیداوار میں نا صرف خودکفیل تھا بلکہ دیگر صوبوں کی ضروریات کیلئے بھی کافی چینی بچ جاتی تھی، اب صورتحال یہ ہے کہ صوبے کے اکثر شوگر ملز بند پڑی ہیں جن میں ایشیاء کا سب سے بڑا مردان شوگر ملز، تخت بھائی، چارسدہ اور خزانہ کی شوگر ملز شامل ہیں، اب یہاں گنے کے کاشتکار گنا شوگر ملز کو دینے کی بجائے گڑ بنانے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں نقد دام مل جاتے ہیں، چینی کی قیمت صوبے میں ایک سو دس روپے فی کلوگرام ہے۔ عام لوگوں اور تاجروں کی جانب سے بجٹ پر ملاجلا ردعمل سامنے آیا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں انہیں کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی گئی حالانکہ انہیں توقع تھی کہ کرونا سے کاروبار کو ہونے والے نقصان کے پیش نظر تاجروں کیلئے مراعات کا اعلان سامنے آئے گا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا لہٰذا تاجر اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ دوسری جانب عام لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام کیلئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے، دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ یوٹیلٹی بلز ادا کرنے اور آٹے کی خریداری کیلئے خوار ہو رہا ہے۔ صوبے میں آٹے کے 20 کلوگرام کا تھیلا 1300 روپے میں دستیاب ہے۔ حکومت نے رمضان سے پہلے ہی آٹے پر دی جانے والی سبسڈی کا بھی خاتمہ کر دیا جس کے تحت غریب کو تیسرے درجے کے گندم اور چوکر ملے آٹے کا تھیلا 860 روپے میں دستیاب تھا۔ اس کے علاوہ تیسرے درجے کا گھی 300 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں کسی رعایت کی ضرورت محسوس نہیں کی جبکہ تنخواہ دار طبقہ بھی تنخواہوں میں اضافے کو اگر مگر سے جوڑنے پر ناراض دکھائی دے رہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے تین سال تک تنخواہوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، اب چوتھے بجٹ میں جو اضافہ سامنے آیا ہے وہ موجودہ مہنگائی کے لحاظ سے کافی کم ہے۔ کامرس اینڈ انڈسٹریز کے اعلیٰ عہدیداروں نے بجٹ کو صنعت کیلئے زہرقاتل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بجٹ میں صنعتکاروں کو کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں صوبائی صنعت حالت نزع میں ہے۔ جبکہ اسے بہترین بجٹ قرار دینے والے معاشی ماہرین کی بھی کمی نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہئے کہ اعدادوشمار کے گورکھ دھندے سے قطع نظر بجٹ پر عملدرآمد اور ترقیاتی بجٹ کا استعمال یقینی بنائے اور صنعتوں کو بلاتعطل اور سستی بجلی فراہم کی جائے۔ سی پیک سے مستفید ہونے کیلئے صنعت پر بھرپور توجہ دی جائے۔ عام آدمی کیلئے خیبر پختونخوا کا بجٹ ایک روایتی بجٹ ہے جس سے ان کی زندگی میں کسی قسم کے انقلاب کی توقع عبث ہو گی۔