کسان اتحاد اور وفاق کے مذاکرات ناکام، رانا ثناءاللہ کو آخری وارننگ

کسان اتحاد اور وفاق کے مذاکرات ناکام، رانا ثناءاللہ کو آخری وارننگ

وفاقی حکومت اور کسان اتحاد کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایک بار پھر ناکام ہوگئے۔ کسان اتحاد نے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو آخری وارننگ دے دی ہے۔

 

کسان اتحاد یونین کے سربراہ اور وفاقی حکومت کے درمیان آج بھی اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے۔ چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ مختصر وفد کے ہمراہ مذاکرات کیلئے پہنچے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں خالد حسین نے دعوی کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور طارق چیمہ کی وجہ سے مذاکرات نہیں کر رہے ہیں، تاہم رانا ثنااللہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کی فی یونٹ ریٹ متعین کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات مان لیے گئے تو حکومت کا شکریہ ادا کرکے آج ہی واپس چلے جائیں گے۔

 

مذاکرات ناکام
دونوں جانب سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد خالد حسین جب باہر آئے تو انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ حکومت بھول جائے کہ آپ ڈرا دھمکا کر واپس کردیں گے، ہم رانا ثنااللہ کو اخری وارننگ دے رہے ہیں۔ آج کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔ ہم اپنے لوگوں سے بات کریں گے کہ ہم نے ریڈ زون جانا ہے یا نہیں۔ اگلا لائحہ عمل ہمارا ریڈ زون جانا ہے۔

 

خالد باٹھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ہمیں منگل تک وقت دیں، ہم آپ کے مطالبات پورے کریں گے، مگر حکومت سنجیدہ نہیں نظر آرہی، آج حکومت کا رویہ ٹھیک نہیں تھا، ہم کسان مرنے کے لئے تیار ہیں، واپسی کا کوئی آپشن نہیں، ہم تین گھنٹے بعد پورے پاکستان کے کسانوں کو احتجاج کی کال دیں گے، ہم مشاورت کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ رانا ثنااللہ نے پیر کی رات کا وعدہ کیا ہے مگر آج رانا ثنااللہ کے رویے میں تلخی تھی۔

 

وفاقی وزیر داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رانا ثنااللہ ہم آپ کے رویے سے ڈرنے والے نہیں، اب ہم پورے پاکستان کے کسانوں سے رابطہ کریں گے۔ ہمیں اپنے کسانوں سے مشاورت کے لئے دو تین گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ اگر میرے دوستوں نے کہا کہ منگل تک انتظار کرنا ہے تو ہم یہاں رکیں گے۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد بھی کسان اتحاد رہنماں سے مذاکرات کیلئے پہنچ گئے۔

 

کسان اتحاد دھرنا، ٹریفک پلان جاری
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسان اتحاد کے دھرنے کے تناظر میں ٹریفک پولیس کی جانب سے روٹ پلان جاری کردیا گیا ہے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کسان اتحادکے بینر تلے پنجاب کے 20 ہزار سے زائد کسان اپنے مطالبات کی تکمیل کے لیے دوبارہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں۔

 

اسلام آباد میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 144 نافذ تھی لیکن 21 ستمبر کے بعد سے کسان دو مرتبہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں، جب کہ خیبرپختونخوا کے اساتذہ بھی چار روز قبل اتوار سے دارالحکومت میں داخل اور بنی گالہ میں موجود ہیں۔

 

مظاہرین کے دارالحکومت کی سرحد پر پہنچنے پر ریڈ زون کے کچھ داخلی راستے کھول دیے گئے تھے، تاہم انہیں چند ہی گھنٹوں بعد بند کر دیا گیا۔ کسان اتحاد کے احتجاجی مظاہرین خیابان چوک میں موجود ہیں۔

 

اسلام آباد پولیس الرٹ
ترجمان پولیس کے مطابق مظاہرین کو کسی صورت ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ احتجاج میں شامل افراد کے پاس ڈنڈے اور دیگر ہتھیار ہو سکتے ہیں۔

 

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے مظاہرین سے گزشتہ رات مذاکرات کی کوشش کی۔ کسانوں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا۔ مظاہرین کی قیادت نے ایف نائن میں احتجاج کی یقینی دہانی کروائی تھی۔ اب طے شدہ مقام کی بجائے ڈی چوک پیش قدمی کرنے پر بضد ہیں۔

 

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پولیس اور انتظامیہ مذاکرات کیلئے اب بھی کوشش کرے گی۔ املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ آخری حل کے طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے اقدامات عمل میں لائیں گے۔

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی قدرے متاثر ہے،متبادل راستے مہیا کئے گئے ہیں۔ ریڈ زون میں داخلے کیلئے سرینا چوک اور مارگلہ روڈ کھلے ہیں۔ قیام امن کے لیے اسلام آباد پولیس سے تعاون کیجئے۔

 

راستے سیل
قبل ازیں دارالحکومت پولیس نے ریلی کی اطلاع ملنے پر سڑکوں پر کنٹینرز لگا کر ٹی کراس روات کو اور اسلام آباد ایکسپریس وے سے ملحقہ انٹر چینجز اور سڑکوں کو بھی کنٹینرز سے سیل کر دیا۔

 

منگل کی صبح صبح دارالحکومت کی پولیس نے ڈی چوک سمیت ریڈ زون کے داخلی راستے کو کھول دیا تھا اور ٹی کراس پر کسانوں سے مذاکرات کیے گئے تھے۔

 

بعد ازاں ڈھائی ہزار سے زائد کسان 40 بسوں، 29 کوسٹرز، چھ ویگنوں، 11 اسپورٹس یوٹیلیٹی گاڑیوں اور 18 کاروں پر سفر کرتے ہوئے جناح ایونیو پہنچے تھے۔ ادھر پولیس نے مارگلہ روڈ کے علاوہ ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں کو بھی فوری طور پر سیل کر دی جبکہ مارگلہ روڈ پر لوگوں کا داخلہ ممنوع اور زیر نگرانی کردیا گیا۔

 

جناح ایونیو انڈر پاس/انٹر چینج پر پہنچنے کے بعد مظاہرین نے وہاں دھرنا دیا، جس کے نتیجے میں فیصل ایونیو کو ایف 8 اور جی 8 کے درمیان عوام کے لیے بند کر دیا گیا۔