بلدیاتی انتخابات اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیا ں ؟

بلدیاتی انتخابات اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیا ں ؟

تحریر: محمد ریاض بوکی خیل

بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تیاریاں اور سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں زور وشور سے جاری ہیں۔ ہر جماعت کی یہ کوشش ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات میں تحصیل، نیبرہوڈ اور ویلج کونسل کے لیول پر زیادہ کامیابی حاصل کرے۔ زیادہ تر جماعتوں کی توجہ تحصیل میئر اور چیئرمین پر لکھی ہوئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مردان میں بھی تیاریاں زور و شور جاری ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق مردان تحصیل کے میئر اور ضلع مردان کی چار تحصیلوں کی چیئرمین شپ کے لیے 12 آزاد امیدواروں سمیت کم از کم 40 امیدوار  الیکشن لڑیں گے۔ متعلقہ ریٹرننگ افسران نے امیدواروں کو  نشانات بھی الاٹ کر دیئے ہیں۔ زیادہ تر جماعتوں کی نظریں مردان تحصیل کے میئرشپ پر لگی ہوئی ہیں۔ ہر جماعت کی حواہش ہے کہ وہ مردان کی میئرشپ پر کامیابی حاصل کرے۔ اعداد وشمار کے مطابق مردان تحصیل صوبائی اسمبلی کے تقریباً ڈھائی حلقوں اور 34 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز آئندہ انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال کریں گے۔ مردان تحصیل کے میئر کے لیے کل گیارہ امیدوار میدان میں ہیں جن میں اے این پی کے حمایت اللہ مایار، پی ٹی آئی کے لخکر خان، جے یو آئی ف کے مولانا امانت شاہ، پیپلز پارٹی کے اسد علی کشمیری، جے آئی سے مشتاق سیماب، مسلم لیگ (ن) کے سید عنایت شاہ باچا شامل ہیں۔ اس کے ساتھ پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہشمند امیدوار کلیم اللہ طورو جو کہ پی ٹی آئی سپورٹس اینڈ کلچرل ونگ مردان دیہی کے صدر ہیں، سابق صدر مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایم سی سی آئی) ظاہر شاہ، سابق ایم این اے اور جے یو آئی ف کے سابق صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا شجاع الملک کے بھائی جلیل الملک، انور شاہ اور آصف خان آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ تخت بھائی تحصیل چیئرمین کے لیے ایک آزاد امیدوار سمیت سات امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ سابق ایم پی اے بہادر خان کے بیٹے ناصر خان اے این پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے، سابق صوبائی وزیر افتخار مہمند کے بیٹے محمد خاور خان پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے، پی پی پی سے اورنگزیب خان، جے یو آئی (ف) کے محمد سعید، مسلم لیگ (ن) سے ممتاز خان، جماعت اسلامی کی طرف سے معاد اللہ خان اور آزاد امیدوار ایاز علی خان قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ کاٹلنگ تحصیل چیئرمین کے لیے 2 آزاد امیدواروں سمیت 9 امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ جے یو آئی (ف) سے عماد اللہ یوسفزئی، اے این پی سے فضل الرحمان، پی پی پی سے محمد عزیز، پی ٹی آئی کی جانب سے زرشاد خان، ن لیگ کی جانب سے ثمر خان، کیو ڈبلیو پی سے سعید کمال، جماعت اسلامی سے علی عباس خان اور  لائق نواز اور سرتاج خان آزاد امیدواروں کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گھڑی کپورہ تحصیل چیئرمین کے لیے 3 آزاد امیدواروں سمیت 7 امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ اے این پی کی جانب سے بختاور خان، پی ٹی آئی کی جانب سے شاہ فیصل خان، جے یو آئی (ف) سے محمد ایاز، جے آئی سے اسد جمال، اختر علی، محمد ارشد اور محمد نعیم آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑیں گے۔ تحصیل رستم کے چیئرمین کے لیے چھ امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ مظفر شاہ تحریک انصاف، اسحاق خان اے این پی، اختر نواز خان مسلم لیگ ن، ایوب خان پیپلز پارٹی، سجاد سعید، جے یو آئی (ف) سے مبارک احمد الیکشن لڑیں گے۔ اب اگر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے حکمران جماعت تحریک انصاف کی بات کی جائے تو حکمران جماعت میں اس وقت شدید اختلافات اور گروپ بندی ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کی رائے ہے کہ مردان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر محمد عاطف خان نے صوبائی اسمبلی کے ممبران اور دیگر منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدیداروں کی مشاورت کے بغیر ٹکٹ جاری کئے۔ اس کے ساتھ ساتھ عاطف خان کے پارٹی کی مقامی تنظیموں سے بھی اختلافات ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کے ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی اکثریت ٹکٹوں کی تقسیم پر خوش نہیں ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ عاطف خان نے ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اور عہدیداروں کو نظر انداز کیا۔ گزشتہ روز مردان پریس کلب میں اک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی  ٹی آئی کے ٹکٹ کے خواہشمند امیدوار کلیم اللہ طور صدر پی ٹی آئی سپورٹس اینڈ کلچرل ونگ مردان دیہی نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے۔ پریس کانفرنس کے دوران کارکنوں نے کہا کہ عاطف خان مردان میں تنظیم سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عاطف خان پارٹی کو اپنے حجرے سے باہر نکالنا نہیں چاہتے۔ اب اگر تنظیم سازی کے حوالے سے بات کی جائے تو تنظیم سازی کے حوالے سے پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف، مسلم لیگ ن بھی کافی کمزور نظر آ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی تنظیم سازی کے حوالے سے کافی مضبوط ہے مگر اس کے پاس افرادی قوت نہیں ہے۔ اگر عوامی نیشنل پارٹی کی بات کی جائے تو وہ تنظیم سازی اور افرادی قوت کے لحاظ سے کافی مضبوط نظر آرہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اے این پی کے مرکزی نائب صدر امیر حیدر ہوتی نے پارٹی عہدیداران کے ہمراہ اپنے امیدواروں کے لئے ایک موثر مہم شروع کر رکھی ہے۔ ضلع مردان میں اے این پی کی تنظیم مضبوط ہے اور ٹکٹ کے معاملے پر اے این پی کے امیدواروں میں کوئی اختلاف نہیں۔ موجودہ حالات میں اے این پی کے امیدوار حمایت اللہ مایار میئر کے عہدے کے مضبوط امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دیگر تحصیلوں میں بھی اے این پی کی پوزیشن مضبوط نظر آ رہی ہے۔ اس کی سب بڑی وجہ یہ ہے کہ اے این پی اپنے امیدواروں کے لئے ایک منظم مہم چلا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اے این پی نے نیبرہوڈ اور ویلج کونسل کے لیول پر بھی اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں جو کہ لالٹین کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار نیبرہوڈ اور ویلج کونسل کے لیول پر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔