بلدیاتی انتخابات کے نتائج خیبر پختونخوا کے سینئر صحافیوں کی نظر میں

بلدیاتی انتخابات کے نتائج خیبر پختونخوا کے سینئر صحافیوں کی نظر میں

    تحریر: ساجد ٹکر

19 دسمبر کو صوبہ کے17  اضلاع میں ہوئے بلدیاتی انتخابات میں جے یو آئی (ف) کو برتری حاصل ہوئی ہے جبکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نتائج کے ساتھ ہی صوبہ سمیت ملکی سطح پر بھی سیاسی ارتعاش پیدا ہوا ہے اور لوگ ہواؤں کے رخ کو بدلتا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔ عام آدمی اس ''تبدیلی'' کو مہنگائی سے تعبیر کر رہا ہے تو خود حکمران جماعت بھی اس امر کو ماننے پر مجبور ہے کہ ان کو شکست مہنگائی کی وجہ سے ہوئی ہے تاہم کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جن کا جواب بہت ضروری ہے کیونکہ مہنگائی ہی شائد ایک وجہ نہیں بلکہ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں کہ حکمرن جماعت کو شکست جبکہ دیگر جماعتیں زیادہ سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔


حکومتی مشینری اور صوبے میں9  سال مسلسل حکومت کے باوجود پاکستان تحریک انصاف نے64  تحصیلوں میں سے صرف 15 سیٹیں حاصل کی ہیں، وہاں بھی جیت کا مارجن بہت کم ہے۔ کون سے ایسے مسائل ہیں جن کی وجہ سے پی ٹی آئی کو منہ کی کھانا پڑی؛ نااہلی ہے، مہنگائی ہے، تنظیمی مسائل ہیں یا حکومت کی ناکامی۔ جمیعت علمائے اسلام کی جیت کیا ایسے ہی متوقع تھی، اے این پی کی پوزیشن کیا ہے اور ان بلدیاتی انتخابات کے نتائج کیا آنے والے صوبائی اور قومی اسمبلی انتخابات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، دولت کا کھلا استعمال کیونکر ہوا؟ پولنگ کی شرح اور انتظامات کیا ٹھیک تھے یا کہ مزید بہتر ہو سکتے تھے؟ اس حوالے سے ''شہباز'' نے صوبہ کے سینئر صحافیوں سے گفتگو کی ہے، ان بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ان کا تجزیہ اور تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔ 

 

ایک عجیب چال، پشتونوں اور اس خطہ کے لئے بہت خطرناک ہے۔ شمیم شاہد 

صوبہ کی سیاست اور صحافت پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی شمیم شاہد صاحب کہتے ہیں کہ ان بلدیاتی نتائج کے دو، تین قسم کے اثرات ہوں گے۔ اول یہ کہ یہاں یعنی اس صوبہ میں مذہبی جماعتوں کو موقع دینا ایک خطرناک عمل ہے۔ دوسرا یہ کہ لوکل باڈیز میں پیسے کا استعمال اور انوسٹمنٹ بھی ایک بہت ہی خطرناک بات ہے۔ اگر ہم دیکھیں تو ان انتخابات میں بہت سے وہ لوگ بھی کامیاب ہوئے ہیں جو دہشت گردی میں سہولت کاری کی وجہ سے شیڈول فور میں مطلوب تھے، ''بہت سے ایسے امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں جن کے خلاف ایف آئی آرز بھی تھیں اور ثبوت بھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ حکومت کی ایک عجیب چال ہے جو کہ پشتونوں اور اس خطہ کے لئے بہت خطرناک ہے۔ اسی طرح پیسوں کے استعمال اور بے دریغ انوسٹمنٹ کی وجہ سے سیاسی اور نظریاتی جماعتوں جیسے کہ عوامی نیشنل پارٹی، پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی وغیرہ کو بھی خطرہ ہے۔ آپ دیکھ لیں کہ جے یو آئی (ف) تو جیت گئی لیکن جماعت اسلامی تقریباً غائب ہو گئی ہے جو کہ ایک بہت ہی خطرناک امر ہے۔ میری رائے ہے کہ اب سیاسی جماعتیں جو خود کو نظریاتی کہتی ہیں وہ مل بیٹھیں اور اس بات کا سدباب کریں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو خدشہ ہے کہ یہ بات سیاست اور ان پارٹیوں کے لئے خطرناک ثابت ہو گی۔'' 

 

پی ٹی آئی کی کشتی ڈوب گئی ہے۔ مسرت عاصی

مردان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی، تجزیہ کار اور صحافیوں کے استاد مسرت عاصی صاحب کہتے ہیں کہ اگر ہم کہیں کہ ان بلدیاتی انتخابات میں عوامی غیظ و غضب کا شکار ہو کر پی ٹی آئی کی سیاسی کشتی ڈوب گئی ہے تو یہ بات غلط نہیں ہو گی، ''عام انتخابات سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی کی شکست متوقع نہیں۔ اس صوبہ میں پی ٹی آئی پچھلے آٹھ سالوں سے اقتدار میں ہے مگر وہ حالات کو صحیح طور پر جانچ نہیں سکے۔ گرچہ پارٹی قیادت اور عوام اس شکست کو مہنگائی کی وجہ قرار دیتے ہیں جو کہ کسی حد تک ٹھیک ہے لیکن مہنگائی کے علاوہ اس (شکست) کے اور بھی محرکات ہیں۔ ہم دیکھیں تو وزیراعظم پچھلے تین سالوں سے اپوزیشن کے خلاف کرپشن کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں لیکن جس طرح وہ پنجابی میں کہتے ہیں نا کہ ''اپنی منجھی تلے ڈانگ پھیرا'' نہیں کرتے۔ اگر مردان کے حوالہ سے میں اپنا مختصر سا تجزیہ پیش کروں تو یہ نتائج غیرمتوقع نہیں تھے۔ پی ٹی آئی کی شکست نوشتہ دیوار تھی لیکن جے یو آئی کی اتنی بڑی جیت بظاہر غیرمتوقع نظر آ رہی ہے۔ اگر اے این پی کی پوزیشن کی بات مردان کے حوالے سے کی جائے تو یہ قابل غور ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی شکست کی بات کی جائے تو یہ پارٹی سے زیادہ ایک ہجوم دکھائی دے رہی ہے کیونکہ تنظیمیں دکھائی نہیں دے رہیں اور تنظیمی طور پر پارٹی بدنظمی کا شکار ہے۔ ٹکٹوں کے فیصلے بھی افراتفری میں ہوئے۔ دوسری جانب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ٹی آئی کی عدم مقبولیت کا فائدہ اے این پی کو پہنچتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پھر خصوصی طور پر پشاور وادی، چارسدہ اور صوابی میں اے این پی کی پوزیشن قابل غور ہے اور پارٹی قیادت کو اس پر سوچنا چاہئے۔ 

 

مردان کی مزید بات کریں تو یہاں سابقہ وزیراعلی حیدر ہوتی کی شخصیت کا بھی عمل دخل ہے۔ وہ بہت متحرک رہے، ساتھ میں حمایت اللہ مایار کی بھی اپنی شخصیت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر کچھ لوگوں کے تحفظات بھی ہیں کہ کیونکر بار بار ایک ہی بندے کو ٹکٹ دیا جاتا ہے۔ مردان میں جیت قابل ستائش ہے لیکن ساتھ میں صوابی میں ایک چھوٹی تحصیل رزڑ کے علاوہ صوابی میں، چارسدہ میں اے این پی ہار چکی ہے تو اس ضمن میں پارٹی قیادت کو سوچنا ہو گا اور اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی یہاں بات کریں تو اور جگہوں پر تو لوگ کہہ رہے تھے کہ وزیروں اور ایم این ایز نے اپنے منظور نظر لوگوں کو ٹکٹ دیئے تھے لیکن یہاں ایسی کوئی بات نہیں تھی ہاں البتہ ٹکٹ تاخیر سے دیئے گئے تھے۔ یہاں اگرچہ رشتہ داروں کو نہیں دیئے گئے لیکن امیدوار زیادہ تگڑے نہیں تھے۔ اگر جے یو آئی کی بات کریں تو اب وہ صرف ایک مذہبی جماعت نہیں رہی بلکہ ایک روایتی سیاسی جماعت بن چکی ہے اور وہ تمام لوازمات جو ایک سیاسی روایتی جماعت انتخابات میں استعمال کرتی ہے، وہ ہمیں یہاں نظر آئے ہیں۔ یعنی آپ تخت بھائی جو کہ ایک بڑی تحصیل ہے وہاں ٹکٹ ضلعی امیر مولانا قاسم کے بھائی مولانا حافظ سعید کو دیا گیا جس کا اپنا ایک پس منظر ہے۔ اسی طرح کاٹلنگ میں مرکزی شوری کے رکن اور جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا امداداللہ صاحب کے صاحبزادے مفتی حماداللہ کو ٹکٹ دیا گیا جو کہ خود ایک مدرسہ چلاتے ہیں کاٹلنگ بابوزئی میں۔ اسی طرح رستم میں جو چیئرمین منتخب ہوا ہے مولانا مبارک احمد درانی وہ خود ایک عالم دین ہیں اور ان کا اپنا دارالعلوم ہے۔ اسی طرح مردان مئیرشپ کے لئے مولانا امانت شاہ حقانی کو ٹکٹ دیا گیا جو کہ سابقہ ایم پی اے اور ضلعی جنرل سیکرٹری بھی ہیں۔ یعنی جے یو آئی نے اپنے نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیئے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ جے یو آئی کی جیت دیگر جماعتوں کے لئے سوچنے کا باعث ہونا چاہئے۔ تو اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بلدیاتی انتخابات آنے والے عام انتخابات کا ایک ٹریلر ہیں اور باقی سیاسی جماعتوں کو اب بیٹھ کر اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنا ہو گا کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوا تو نتائج کچھ اور شکل اختیار کر سکتے ہیں۔'' 

 

سب کے لئے غیرمتوقع نتائج ہیں۔ کاشف الدین سید

سینئر صحافی، کالم نگار اور روزنامہ آئین کے ایڈیٹر کاشف الدین سید صاحب کہتے ہیں کہ ''جہاں تک بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا تعلق ہے تو میں یہ عرض کروں گا کہ جیسا کہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی انتظامیہ کی جانب سے کمی بیشیاں بھی ہوتی ہیں، سیکیورٹی کے معاملات بھی ہوتے ہیں، کہیں پر بلیٹ پیپرز بھی تاخیر سے پہنچتے ہیں، کہیں پر عملہ تاخیر سے پہنچتا ہے، یہ ہوتا رہتا ہے، کچھ علاقوں میں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوا یعنی پولنگ ڈے پر مختلف علاقوں میں مختلف واقعات میں پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح پولنگ سے ایک دن قبل ڈی آئی خان میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں اے این پی کے امیدوار کو شہید کیا گیا۔ اسی طرح بنوں، بکا خیل میں واقعہ پیش آیا جہاں کہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ حکومتی شخصیت کی جانب سے پولنگ سٹیشنز پر قبضہ کیا گیا اور عملہ یرغمال بنا دیا گیا جس کی اب تحقیقات جاری ہیں اور بنوں میں کچھ گرفتاریاں بھی ہو چکی ہیں۔ اسی طرح پشاور میں بھی کچھ پولنگ سٹیشنز پر ہنگامہ آرائی ہوئی ہے جس کی وجہ سے دوبارہ پولنگ ہو گی اور ریٹرننگ آفیسرز کی جانب سے نتائج روک دیئے گئے ہیں۔ 
نتائج کی بات کی جائے تو میرے خیال میں سب کے لئے غیرمتوقع نتائج ہیں۔17  اضلاع میں اب تک جے یو آئی21  تحصیلیں جیت کر ایک بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن میری ذاتی رائے ہے کہ یہ نتائج جے یو آئی کے لئے بھی غیرمتوقع ہیں۔ لیکن حکمران جماعت پی ٹی آئی ان نتائج سے پریشان ضرور ہے کیونکہ سارے ملک کے چوٹی کے تجزیہ کار ان نتائج کو اہمیت دے رہے ہیں اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا جہاں پر کہ تحریک انصاف کا دوسرا ٹرم ہے، صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت، اور قومی اسمبلی میں بھی یہاں سے اکثریتی ممبران اسمبلی، صوبہ اور وفاق دونوں میں حکومت، اگر2013  کے بعد پی ٹی آئی کو کوئی بڑی شکست ہوئی ہے تو وہ ان17  اضلاع کے بلدیاتی انتخابات میں ہوئی ہے جو کہ ان کے لئے پریشان کن ہے۔ کیوں ہوئی ہے تو اس حوالہ سے حکومتی نمائندوں نے بھی بات کی ہے اور ہماری بھی وزرا سے باتیں ہوئی ہیں تو دو وجوہات انہوں نے بتائی ہیں یعنی ایک مہنگائی اور دوسری اندرونی اختلافات۔20  دسمبر کو سینیٹ الیکشنز کے موقع پر وفاقی وزیر شبلی فراز نے گفگتو کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے علاوہ پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی سے تھا جو کہ اندرونی اختلافات کی طرف واضح اشارہ ہے۔ کچھ چیزیں تو بالکل کھلی طور پر سامنے آئی ہیں جس طرح کہ ڈپٹی سپیکر محمود جان نے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان، رکن صوبائی اسمبلی ارباب وسیم حیات کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اپنے بھائی کی شکست کے حوالے سے۔ 

 

اسی طرح ہم دیکھیں تو لکی مروت اور ڈی آئی خان میں تحریک انصاف کے اہم خاندان یعنی گنڈاپور اور سیف اللہ خاندان ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے۔ اسی طرح پشاور کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ پشاور میئر کا ٹکٹ رضوان بنگش کو گورنر شاہ فرمان نے جاری کیا تھا اور کسی پارٹی کے رکن کی رائے کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح صوابی میں ترکئی خاندان کو شکست ہوئی، مردان میں پی ٹی آئی کوئی نشست نہیں جیت سکی۔ اسی طرح پشاور میں جہاں کہ صوبائی اسمبلی کی14  نشتسوں میں سے 12 تحریک انصاف کے پاس ہیں اور جہاں سے5  ایم این ایز بھی تحریک انصاف ہی کے ہیں لیکن پشاور کی7  تحصیلوں میں پی ٹی آئی کی کارکردگی مایوس کن رہی جو کہ پارٹی کے اندر اختلافات کی غماز ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس میں پارٹی قیادت برابر کی ذمہ دار ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ تحریک انصاف کو ایک فین کلب بنا دیا گیا ہے اور سیاسی جماعت کے طور پر اسے پیش نہیں کیا گیا اور اسی لئے اگر آج خان صاحب کو ہٹا دیا جائے تو تحریک انصاف بکھر جائے گی۔ خان صاحب ہی اس کے ذمہ دار ہیں، کوئی نظم و ضبط قائم نہیں کیا گیا۔ جو انٹرا پارٹی الیکشنز ہوئے وہ بھی محض ڈرامہ ثابت ہوا، کوئی صوبائی تنظیم نہیں، کوئی ایسا فورم نہیں جہاں پر کارکن اپنی شکایت جمع کرا سکیں یا اپنے منتخب ممبران، وزرا کا محاسبہ کر سکیں۔ شخصیات کی اجارہ داری قائم ہے۔ گورنر کی اپنے حلقہ میں اجارہ داری، سوات میں وزیراعلی کی اجارہ داری، مردان میں عاطف خان جو چاہے وہ کریں گے، صوابی میں شہرام خان اور اسد قیصر کی من مانیاں جاری ہیں، ڈیرہ اسمعیل خان میں علی امین گنڈاپور کی چلتی ہے۔ اسی طرح کوہاٹ میں شہریار آفریدی اور ضیا اللہ بنگش من مانیاں کر رہے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں کارکن کو نظرانداز کیا جا رہا ہے اور اپنے چہیتوں کو نوازا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کا غیرموروثی سیاست کا بیانیہ ختم ہو چکا ہے اور اب یہ جماعت کھل کر موروثی سیاست کی ڈگر پر چل رہی ہے۔ 

 

پرویز خٹک اپنے بیٹوں اور دامادوں تک کو نواز چکے ہیں۔ ڈی آئی خان میں گنڈاپور خاندان کو ٹکٹ پر ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں۔ ان باتوں کی وجہ تحریکی کارکن مایوس ہوتا جا رہا ہے یہاں تک کہ جن ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کی رسائی وزیراعظم تک نہیں ہے وہ بھی مایوسی کا شکار ہیں بلکہ کئی وزرا کے حوالے سے ہمیں بتایا گیا کہ ان کے محکموں کے جو انتظامی سیکرٹریز ہیں وہ ان کے فون تک نہیں اٹھاتے اور وجہ یہ ہے کہ وہ انتطامی سیکرٹریز براہ راست خان صاحب کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں اور اپنے وزرا کو خاطر میں نہیں لاتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان تین سالوں میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ہو۔ یہ بہت اہم ہوتے ہیں اور ہم دیکھیں تو ایم ایم اے کے دور میں، اے این پی اور پی پی پی اور اس سے پہلے مسلم لیگ ن کے دور میں اسمبلی سیشن کے دوران پارلیمانی پارٹیوں کا اجلاس ہوتا تھا جس میں کہ ذمہ داریاں بھی تفویض ہوتی تھیں اور کارکردگی کو بھی جانچا جاتا تھا۔ لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں اور اس لئے ارکان اپنی شکایات درج نہیں کر سکتے۔ اور اسی لئے اپنے دل کا غبار پھر وہ ایسے موقعوں پر نکالتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعلی کے خلاف کچھ گروپس بھی سرگرم ہیں جن کی کوشش ہے کہ ان کو ہٹا کر خود وزیراعلی بن جائیں۔ ایسا پرویز خٹک کے دور میں ہوتا رہا لیکن ان کی انتظامی صلاحیتیں زیادہ تھیں تو وہ مقابلہ کرتے رہے لیکن  محمود خان کچھ زیادہ شرافت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ تو پارٹی میں نہ کوئی تنظیم سازی ہے اور نہ کوئی مناسب فورم، نہ کارکن اور تنظیموں کے پاس کوئی اختیارات ہیں، شخصیات جنہیں چاہیں ٹکٹ دے دیتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریک انصاف کی بہت بڑی کمزوری ہے۔ ساتھ میں مہنگائی بھی ایک فیکٹر ہے۔ تو جب آپ کا کارکن مایوس ہو گا تو پھر وہ پروپیگنڈے کا جواب نہیں دے سکتا کیونکہ کارکن ہی حکومت اور عوام کے درمیان ایک پل ہوتا ہے لیکن جب کارکن مایوس ہوتا ہے تو پھر اس قسم کے نتائج سامنے آتے ہیں۔''

 

پی ٹی آئی کی شکست نوشتہ دیوار تھی۔ محمد فہیم

سینئر صحافی، تجزیہ کار و اینکر پرسن صحافی محمد فہیم کہتے ہیں کہ ''میری نظر میں ان بلدیاتی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے دو تین باتیں بہت اہم ہیں۔ پہلی بات یہ کہ دو جماعتوں یعنی اے این پی اور جے یو آئی کا ریوائیول ہوا ہے۔ یہ دونوں جماعتیں مسلسل دبی ہوئی تھیں اور مسلسل کچھ عرصہ سے اپوزیشن میں آ رہی تھیں اور جب کوئی پارٹی اپوزیشن میں رہ جائے تو اس کو کارکن کی قدر معلوم پڑتی ہے۔ اے این پی اور جمعیت کی دوبارہ بیداری اور اوپر آنے کی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کارکن کو ٹکٹ دیئے۔ پشاور کی7  تحصیلوں کو بس صرف سات تحصیلوں کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔ ہم اگر دیکھیں تو اے این پی نے سٹی میں ایک ورکر کو ٹکٹ دیا، ٹھیک ہے پیسہ ہے لیکن وہ ایک ورکر ہیں، اسی طرح بڈھ بیر اور متھرا میں بھی ورکروں کو سامنے لایا گیا۔ کئی ایک جگہوں پر مضبوط لوگ بھی تھے لیکن زیادہ تر ورکر ہی ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ورکر کو ٹکٹ دینے سے اے این پی کا ریوائیول ہوا۔ 

 

جمعیت کو دیکھیں تو ان کے پاس بہت سی اے ٹی ایمز ہیں، وہ اکثر ورکر کو سائیڈ پر رکھ کر پیسے والوں کو ٹکٹ دیتے ہیں لیکن اس بار انہوں نے علما کو ٹکٹ دیا۔ وہ جانتے ہیں کہ اس طرح کام نہیں چلے گا اب۔ چارسدہ اور کوہاٹ میں جس طرح کے انہوں نے ووٹ لئے وہ قابل ذکر ہیں۔ کہیں پر موقع کی مناسبت سے یعنی متھرا اور پشتہ خرہ میں بھی الیکٹیبل کو سامنے لایا گیا۔ اسی طرح نئے منتخب شدہ میئر زبیر علی کو دیکھا جائے تو ان کی فیملی، حاجی غلام علی کی دولت، تو یہ سب معنی رکھتے ہیں۔ تو جمعیت نے دیکھا پرکھا ہے کہ کیا کچھ کہاں پر کام کر سکتا ہے۔ جہاں پر ان کو لگ رہا تھا کہ پیسوں کی ضرورت نہیں تو خالص ایک ورکر کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ 

 

دو مزید اہم باتیں میں یہاں کرنے کی کوشش کروں گا کہ ان دونوں  جماعتوں نے پی ٹی آئی کو شکست دینے کے لئے اتنی سرتوڑ کوشش کی کہ یہ دونوں جماعتیں اپنے گھر ہار بیٹھیں۔ یعنی اے این پی چارسدہ میں ہاری اور ساتھ ہی چیمپئن دکھائی دینے والی جماعت جمعیت ڈی آئی خان ہار گئی۔ پی ٹی آئی کی بات کی جائے تو اس کی شکست نوشتہ دیوار تھی اور کوئی بھی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ اور اس کی وجہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ ٹکٹوں کی تقسیم اور تنظیم کی کمزوری ہے۔ یعنی آپ دیکھیں کہ اس وقت تنظیمی طور پی ٹی آئی سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ ہر جگہ شخصیات ہی شخصیات ہیں۔ یہ لوگ پارٹی کو سی ایم ہاؤس، صدر اور وزیراعظم ہاؤس سے چلا رہے ہیں۔ بنیادی طور پر پارٹی اور حکومت کو الگ کر کے چلایا جاتا ہے ورنہ پارٹی کی بقا کو خطرہ رہتا ہے۔ اگر اس غلطی سے انہوں نے سبق نہیں سیکھا تو عام انتخابات میں بھی ان کی شکست یقینی ہے۔ پی ٹی آئی کا بڑا مسئلہ ٹکٹوں کے معاملے پر سامنے آیا ہے۔ عام انتخابات میں تحصیل کونسل تو نہیں لیکن ویلج اور نیبرہوڈ کونسلز بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں کیونکہ یہ گلی کوچے کے لوگ ہوتے ہیں جو کہ ووٹ نکال سکتے ہیں۔ تو دیکھا جائے تو مین سٹی، ویلج اور نیبرہوڈ سطح پر اے این پی نے سوئپ کیا ہے جس کا فائدہ اے این پی اور نقصان پی ٹی آئی کو ہو گا۔ جہاں تک اختیارات کی بات ہے تو یہ طے تھا کہ نہیں دیں گے اور اب تو حکمران جماعت ہار چکی ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اختیارات دیں۔ اور جو نظام انہوں نے بنایا ہے وہ اتنا مبہم اور گنجلک ہے کہ شائد دسمبر2022  تک بھی فعال نہ ہو سکے۔ خدا کرے میں غلط ہوں لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایک سال بعد بھی یہ لوگ روئیں گے کہ ہمیں دفاتر دیں۔'' 

 

یہ نتائج پی ٹی آئی کے لئے ایک صدمہ ہیں۔ عرفان خان 

سینئر صحافی اور تجزیہ کار عرفان خان کہتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ملک کے جو سیاسی اور معاشی حالات ہیں ان کے تناظر میں پی ٹی آئی حکومت صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے لئے بالکل بھی تیار نہیں تھی اور بھاگنے کی کوشش میں تھی تو اب یہ جو حکومت دعوی کرتی ہے کہ انتخابات منعقد کر لئے تو یہ قطعاً اس کا کریڈٹ نہیں بلکہ یہ دراصل ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے حکم پر ہوئے ہیں، ''اب جیت اور ہار کو دیکھا جائے تو یہ منفرد اعزاز صرف تحریک انصاف کو حاصل ہے کہ لگاتار ساڑھے آٹھ سال سے صوبہ میں حکومت میں ہے لیکن اس کے باوجود یہ نتائج پی ٹی آئی کے لئے ایک صدمہ ہیں اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس صدمہ سے پی ٹی آئی کی صوبائی اور مرکزی قیادت نہیں نکل رہی۔ نتائج پر اثرانداز ہونے والے عوامل میں ایک یہ ہے کہ پچھلے کئی سال سے اس صوبہ میں پی ٹی آئی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے۔ پارٹی تنظیمی بحران کا شکار ہے اور ہر بندہ لیڈر ہے۔ ٹکٹوں کی بات کی جائے تو پشاور میئر کا ٹکٹ گورنر شاہ فرمان کی پسند پر دیا گیا۔ متھرا والا ڈپٹی سپیکر کے کہنے پر ان کے بھائی کو دیا گیا۔ صوابی میں شہرام ترکئی کے چچا کو ٹکٹ دیا گیا۔ چارسدہ میں ایم این اے فضل محمد خان کی پسند پر ٹکٹ دیا گیا۔ منظور نظر اور چہیتوں کو ٹکٹ کے اجرا نے پارٹی کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ 

 

اسی طرح اے این پی کی بات کی جائے تو بھی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے، چارسدہ کو دیکھ لیں جہاں پارٹی ہار گئی، مردان میں اندازہ تھا کہ اے این پی کم از کم تین سیٹیں نکالے گی لیکن پانچ میں صرف دو سیٹیں ملیں۔ اے این پی کا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے لیکن اس طرح کی کارکردگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ پشاور میں سات تحصیلوں میں صرف ایک سیٹ۔ اے این پی کی تنظیم بہت مضبوط اور اوپر سے سیاسی سرگرمیاں بھی پچھلے ڈیڑھ دو سال سے کافی زیادہ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پارٹی ٹکٹ پر یہاں بھی نقصان اٹھانا پڑ گیا ہے۔ جہاں تک جے یو آئی کی بات ہے تو اب تک وہ21  یا22  سیٹیں جیت کر بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے لیکن ساتھ میں ڈی آئی خان میں ساری نشستیں ہار چکی ہے یعنی مولانا صاحب اپنا آبائی قلعہ مکمل طور پر ہار چکے ہیں لیکن صوبے میں جے یو آئی کی جیت نے ڈی آئی خان کی ناکامی پر پردہ ڈال دیا ہے۔'' 

 

مولانا کو مزاحمت کا صلہ ملا ہے۔ اسلام گل آفریدی

سینئر صحافی اسلام گل آفریدی کہتے ہیں کہ19  دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سارے پختونخوا کے لئے اہمیت کے حامل تھے لیکن خصوصی طور پر ان کی اہمیت قبائلی اضلاع کے لئے بہت زیادہ ہے، ''مہمند، باجوڑ اور خیبر میں بلدیاتی انتخاب ہوئے، یہ اہم اس لئے تھے کہ انضمام کے لئے بہت زیادہ کوششیں کی گئی تھیں جن کے نتیجے میں پہلی بار یہاں صوبائی اور اب بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ اس سے پہلے2003  میں سابق صدر پرویز مشرف نے ایک کونسل سسٹم متعارف کرایا تھا جس میں ایک وارڈ میں بندہ منتخب ہونا تھا اور وہ بھی ہاتھ اٹھانے کے ذریعے یعنی کوئی خفیہ رایہ شماری نہیں تھی لیکن اب یہ جمہوری طریقہ سے منعقد ہوئے۔ جہاں تک نتائج کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ یہاں نوجوان کافی متحرک نظر آئے اور ساتھ میں اقلیتی برادری کے کوئی30  نمائندے بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اسی طرح خواتین بھی کہیں بلامقابلہ منتخب ہوئی ہیں تو کہیں خواتین نشستیں بالکل خالی رہ گئی ہیں اور کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ خواتین کی رائے شماری بھی کم دیکھنے کو ملی۔ انتطامات بھی کچھ ٹھیک نہیں تھے۔ خواتین کا بہت زیادہ ووٹ بھی مسترد ہوا ہے۔ 

 

نتائج کی مزید بات کریں تو مذہبی جماعتوں کو بالادستی حاصل ہوگئی ہے۔ ایک وجہ تو افغانستان کے نئے حالات ہیں لیکن ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم میں صرف مولانا صاحب ہی تھے جنہوں نے تحریک انصاف کو کرارا جواب دیا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس مزاحمت کا ان کو صلہ ملا ہے۔ جہاں تک اختیارات کی بات ہے تو میئر کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں کہ اختیارات کم ہوں گے یا کم کئے جا رہے ہیں تو یہ بڑی تشویشناک بات ہے کیونکہ پھر تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اور اختیارات نچلی سطح تک نہیں آئے۔ ان تین اضلاع میں ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ یہاں حکمران جماعت تحریک انصاف بہت زیادہ انتشار کا شکار تھی۔ یعنی پہلے ہی سے یہاں ایک تاثر موجود تھا کہ پی ٹی آئی نہیں جیت سکتی پھر انتظامی سطح پر بھی اس کو نقصان پہنچا اور اس کے اپنے امیدواروں کے خلاف نمائندے کھڑے ہو گئے جس کا فائدہ دیگر جماعتوں کو ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان نتائج کے2023  کے انتخابات پر اثرات ہوں گے اور تحریک انصاف کی مشکلات ہمیں بڑھتی نظر آ رہی ہیں۔ اب عمران خان کہہ رہے ہیں کہ اگلے مرحلہ کی نگرانی وہ خود کریں گے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ ہو گا۔'' 

 

علی امین گنڈاپور کے حمایت یافتہ امیدوار بری طرح سے شکست کھا گئے۔ محمد فضل الرحمان

ڈی آئی خان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی فضل الرحمان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں اگرچہ سٹی میئر کے امیدوار عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر عمر خطاب شیرانی کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہادت کے واقعہ سے ڈیرہ اسماعیل خان سٹی میئر کا الیکشن ملتوی ہو گیا تھا تاہم ڈویژن کی دیگر تحصیلوں اور ضلع ٹانک میں انتخابی نتائج حیران کن اور برسر اقتدار جماعت کے بلند بانگ دعوے اور اپنے تئیں کامیاب میڈیا اور ووٹر منیجمنٹ کرنے والے اراکین اسمبلی کے لیئے پریشان کن ضرور قرار دیئے جا رہے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سٹی میئر کا الیکشن ملتوی ہونے کی وجہ سے نہ ہو سکا مگر ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسلز پر کامیاب ہونے والے امیدواروں کی جو فہرست تحریک انصاف کے مقامی راہنماؤں محمد نواز اور خان امجد خان کی جانب سے جاری کی گئی اس میں تحریک انصاف کے جیتنے والے وارڈ چیئرمین جو تحصیل کونسل کے ممبر ہوں گے، ان میں تحریک انصاف کو کافی برتری حاصل ہے، ''ڈیرہ اسماعیل خان میں وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور نے تحصیل پروا، تحصیل پہاڑ پور، تحصیل درابن اور تحصیل ٹانک میں اپنے امیدواروں کی کامیابی کا بڑا دعوی کیا تھا مگر ان کے حمایت یافتہ امیدوار بری طرح سے شکست کھا گئے۔ تحصیل پروا میں ان کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے جبکہ جے یو آئی کے امیدوار دوسرے نمبر پر آئے۔ یہاں آزاد امیدوار فخر اللہ خان کامیاب ہوئے، انہیں پیپلز پارٹی کی بھی حمایت حاصل تھی۔ ان کی کامیابی جے یو آئی کے لئے بھی پریشان کن ہے۔ 

 

تحصیل درابن پر جماعت اسلامی کے ٹکٹ ہولڈر جمعیت علمائے اسلام کی حمایت کے حامل سردار احسان اللہ خان میاں خیل کامیاب ہوئے، ان کو پی ٹی آئی کے امیدوار پر واضح برتری حاصل تھی۔ احسان اللہ میاں خیل کی کامیابی میں ان کی شخصیت کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ تحصیل پہاڑ پور پر پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر مخدوم زادہ سید الطاف حسین شاہ کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل آزاد امیدوار جمعیت علمائے اسلام کے حمایت یافتہ جہانزیب اکبر خان دوسرے اور وفاقی وزیر کے امیدوار تیسرے نمبر پر رہے۔ تحصیل ٹانک میں بھی جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار صدام حسین بیٹنی نے تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دے کر فتح حاصل کی۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کی جانب سے الیکشن سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ میرا بھائی صوبائی وزیر بلدیات ہے اور میرے مخالفین کو اگر کامیاب کرایا بھی گیا تو وہ لوگ بلدیات کے دفتر میں داخل تک نہیں ہو سکیں گے، ان کے اس بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے بھائی وزیر بلدیات اور وزیر اعلی محمود خان کی جانب سے بھی اس بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔''