بلدیاتی انتخابات: قوم پرست، جمہوریت پسند جماعتوں کو آگے آنا ہوگا

بلدیاتی انتخابات: قوم پرست، جمہوریت پسند جماعتوں کو آگے آنا ہوگا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیااتی انتخابات کے حوالے سے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا و دیگر فریقین کو عدالتی معاونت کا حکم دیتے ہوئے اگلی سماعت تیس نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ سماعت کے موقع پر بنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے، خوشدل خان ممبر صوبائی اسمبلی اور کامران مرتضیٰ سینیٹر ہیں، تمام فریقین عدالت کی معاونت کرتے ہوئے غیرجانبدار رہیں، فریقین کا مقصد صرف شفاف انتخابات ہی ہونا چاہیے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کا خیر مقدم کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی نے امید ظاہر کی ہے کہ (جس طرح) عدالتوں نے حکومت کے تمام تاخیری حربے ناکام بنائے (بالکل اسی طرح) اگلی سماعت پر باقی ابہام بھی دور ہو جائے گا۔ پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے سپریم کورٹ سے یہ اپیل بھی کی ہے کہ عدالت عظمیٰ حکومت کو بھی پابند بنائے کہ وہ جلدبازی اور سولو فلائٹ کے ذریعے قانون سازی سے گریز کرے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ آٹھ سال سے مسلط حکومت قانون سازی کے طریقہ کار کو سمجھ نہیں پائی (بلکہ) حکومت آئین کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں معاملہ زیر سماعت ہونے کی وجہ سے ہم عدالت عظمیٰ کے تقدس کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز ہی کریں گے۔ دوسرے اس معاملے کی قانونی و آئینی موشگافیوں سے احتراز کرتے ہوئے صرف اتنا ہی کہیں گے کہ اس معاملہ میں فریقین کی جانبداری یا غیرجانبداری کا سوال اس لئے بھی پیدا نہیں ہوتا کہ صوبائی حکومت ہو یا مرکز میں بیٹھی اس حکمران جماعت کی مرکزی قیادت، دونوں کسی بھی قیمت پر ان انتخابات کو موخر کرنا چاہتی ہیں کیونکہ موجودہ حالات میں انہیں اپنی شکست فاش ہی واضح نظر نہیں آ رہی بلکہ وہ انتخابی مہم کے سلسلے میں عوام کا سامنا کرنے سے بھی کنی کترا  رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کی وجوہات موجودہ حکمرانوں سے اور پھر صوبہ ہی نہیں ملک بھر کے عوام سے بہتر بھلا کون جان سکتا ہے۔ بہرکیف عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے موقع پر اور بعد میں اس کے تناظر میں جو صورتحال سامنے آئی ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ متذکرہ بالا معاملہ اس ضمن میں فیصلہ کن کردار اس لئے بھی ادا کرے گا کہ اگر انتخابات شیڈول کے مطابق وقت پر منعقد ہو پاتے ہیں تو اس سے یہ امر واضح ہو جائے گا کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس کانفرنس کے موقع پر جو سٹینڈ لیا ہے، یا جس طرح کا تاثر ان کی تقریر سے ابھرتا ہے وہ اس حقیقت کی شکل دھار لے گا کہ عدالت عظمیٰ کسی بھی غیرقانونی، غیرآئینی اور غیرجمہوری سیٹ کا حصہ نہیں اور نا آئندہ بنے گی۔ اور اگر خدانخواستہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ حکومتی توقعات کے عین مطابق نکلتا ہے اور انتخابات ملتوی ہوتے ہیں تو پھر علی احمد کرد کے ایک ایک لفظ پر قوم کو غور کرنے کی ضرورت ہو گی۔ صرف یہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں باالخصوص قوم پرست و جمہوریت پسند پارٹیوں کو سول سوسائٹی سمیت پوری قوم کو ساتھ لے کر چلنا ہو گا اور اس ملک میں آئین، قانون اور جمہوریت کی حقیقی حکمرانی کے لئے خلوص دل سے جدوجہد کرنا ہو گی، اس ضمن میں ابتدا تحریک یا جماعت کو سرمایہ دار کے چنگل سے مکمل طور پر نکالنے کے لئے کوئی سبیل نکالنا ہو گی۔ اس سلسلے میں امریکہ یا برطانیہ میں موجود نظام سے رہنمائی لی جا سکتی ہے جہاں عوام اور منتخب نمائندے مل کر اپنا نظام چلاتے ہیں۔