لینڈ یوز پلان: بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے

لینڈ یوز پلان: بہت دیر کر دی مہرباں آتے آتے

اگرچہ بہت دیر کر دی، سانپ گزرگیا اور ہم لاٹھی ڈھونڈتے رہ گئے۔ حالیہ سیلاب نے حکومت کی نااہلی اور غفلت کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کی خودغرضی کے پول بھی کھول دیے۔ خیبر پختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 19 اضلاع شدید متاثر ہوئے، سوات کی ہوٹل انڈسٹری شدید متاثر ہوئی۔ ضلعی انتظامیہ سوات کے مطابق سوات میں مجموعی طور پر 61 ہوٹلوں کو شدید نقصان پہنچا اور اس کی سب سے بڑی وجہ محمکہ آبپاشی سوات کے مطابق بحرین، مدین اور کالام تجاوزات کر کے تعمیر کیے گئے بیش تر ہوٹل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ2010  کے سیلاب میں یہ ہوٹل تباہ ہوئے تھے انہیں دریا کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا گیا تھا اس کے باوجود یہ ہوٹل تعمیر کیے گئے، زیادہ تر عمارتیں پانچ سے دس فٹ آگے تجاوز کر کے قائم کی گئیں اور افسوس ناک بات ایسے لوگ ہوٹلوں کے مالک ہیں جن کے آگے ضلعی انتظامیہ بھی بے بس ہے۔ 2014 میں خیبر پختونخوا کے لیےRivers protection act  پاس ہوا جس کے تحت دریا کے کنارے 20 فٹ تک کسی قسم کی تعمیر پر پابندی ہو گی، کسی بھی دریا کے کنارے دونوں جانب کمرشل، نان کمرشل کسی قسم کی تعمیرات پر پابندی ہو گی، صوبائی وزیر ارشد ایوب نے کہا ہمارا کام نشاندہی کرنا ہے لیکن عمل درآمد کر ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور ایسی 99 عمارات کی نشاندہی کی جو دریا کے راستے میں رکاوٹ ہیں لیکن عمل درآمد نہیں کیا گیا، اثر رسوخ  اور ذاتی مفاد پرستی کے سامنے ملکی نقصان کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اب جب وزیر اعلی محمود خان سے بازپرس کی گئی تو وہ ساری ذمہ داری پچھلی حکومت پہ ڈال رہے ہیں۔ ایک دوسرے پہ ذمہ داریاں ڈالنے کا نتیجہ پاکستان کی بے بس عوام کو بھگتنا پڑتی ہے اور حالیہ سیلاب نے پاکستان کو دنیا بھر میں آفت زدہ ترین ملک قرار دے دیا۔ بیرون ملک سے پاکستان کی تباہ حالی کو دیکھنے بیرون ممالک کی اعلی شخصیات اور حکمران دورہ کر رہے ہیں مگر اگر کسی پہ اثر نہیں ہو رہا تو وہ ہمارے حکمران اور سیاستدان ہیں۔ اب خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی رپورٹ مانگتے پھر رہے ہیں کہ تمام دریاؤں سے متعلق رپورٹ دی جائے۔ حال ہی میں وزیر اعلی محمود خان کی صدارت میں پراونشل لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ کنٹرول کونسل  کے اجلاس میں صوبے کے 6 اضلاع پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ، صوابی اور ایبٹ آباد کے لیے ڈسٹرکٹ لینڈ یوز پلان کی اصولی منظوری دی گئی جس کا مقصد زمین کے استعمال کے سلسلے میں اصول و ضوابط کا تعین، مختلف مقاصد کے لیے زمین کی تخصیص اور منیجمنٹ کے علاوہ اضلاع کی سطح پر بندوبستی درجہ بندی اہم اور بنیادی ڈھانچہ کی منظم بڑھوتری اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے  شہری اور دیہی علاقوں کی مربوط دیرپا ترقی سے متعلق رہنما اصول اور ہدایات فراہم کرنا ہے۔ اب اتنی تباہی کے بعد اگر خیال آ ہی گیا تو ہم خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ زمین کے استعمال کوStream line  کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارا وطن اب زمین کی بے ہنگم تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مجوزہ پلان میں فزیکل لوکیشن جیسے آب و ہوا، ارضیاتی ترتیب، ہائیڈرولوجی اینڈ واٹر ریسورسز اور ڈیموگرافی کو مدنظر رکھا گیا، اس کے علاوہ تعلیم، صحت، ہاؤسنگ، صنعت اور مواصلاتی چیلنجز کو سامنے رکھا گیا۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر تجاویز بھی ہونی چاہئیں تاکہ دیہی آبادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے شہریوں کی طرف رخ نہ کرے اور اگر تمام کاروائیاں منظم انداز سے پوری کی گئیں تو دیہات سے شہر منتقل ہونے کے رجحان میں ممد و معاون ثابت ہوں گی۔ اب صرف مرحلہ یہ ہے کہ تمام تجاویز پر عملدرآمد کیا جائے، دوسرے صوبوں میں بھی ایسے ہی پلان بنائے جائیں تاکہ آئندہ کبھی بھی پاکستان کو اتنے سنگین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکمران و سیاستدان بھی اپنے اثر رسوخ کا غلط استعمال کر کے پاکستان اور اس کی  عوام کو تباہی کے دہانے تک نہ پہنچائیں، ان تمام پلانز کو جلد از جلد مکمل کرنا اب حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ صوبہ پنجاب میں بھی اسی طرح کی لینڈ میپنگ کرنے کا حکم دیا گیا، دس دن کے اندر سب اپنے تحفظات سے ضلعی حکومت کو آگاہ کریں، یہ ساری کاوشیں اگر بروقت کر لی جاتیں تو آج یہ صورتحال نہیں ہوتی۔ ابھی تک سیلاب زدگان بے آسرا ہیں  اور داد رسی سے محروم ہیں اور ان کو بحال ہونے میں ایک عرصہ لگے گا۔ اگر اب بھی ان تمام تجاویز پہ سختی سے عمل درآمد ہو جائے، حکمران ایک دوسرے پہ ذمہ داری ڈالنے کی بجائے خود احساس کریں اور اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھتے ہوئے ہوش کے ناخن لیں تو آنے والے وقتوں میں پاکستان اس قدر تباہی سے بچ سکتا ہے۔