زندگی مرگِ مسلسل ہے

زندگی مرگِ مسلسل ہے

 تحریر: عبدالباعث مومند
زندگی بیک وقت دکھ اور سکھ کی دھوپ چھاؤں ہے جہاں کوئی بھی موسم زیادہ دیر تک نہیں ٹھہرتا ہے اور ایک انسان ہونے کے ناطے ہم سب تبدیلی اور تبدیلی کے عمل پر جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ہر روز ہماری اداسیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دکھ درد کی گھڑی میں ہم اکثر زندگی سے بے زار ہو جاتے ہیں اور یوں اللہ تعالی کی دی ہوئی اس خوبصورت نعمت (زندگی) سے چھٹکارہ پانے کے لئے  طرح طرح کے طریقے سوچتے ہیں۔ خودکشی کے نئے  طریقے اور خیالات ہمارے ذہن میں سما جاتے ہیں۔ زندگی بہت خوبصورت ہے لیکن ہم اس خوبصورت زندگی کو خوبصورت طریقے سے جینے کے محرکات نہیں جانتے  اس لئے آئے روز خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ان میں سب سے زیادہ تعداد نوجوان نسل کی ہے جو زندگی سے تنگ آ کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق  سالانہ آٹھ لاکھ افراد خودکشی کر کے اپنی جان لیتے ہیں۔ یہ15  سے29  سال کے جوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ70  سے زائد عمرکے افراد کا اپنی جان لینے کا خطرہ  سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی خودکشی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سروے کے مطابق روزانہ15  سے 35 افراد اپنی جان لیتے ہیں۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ہر گھنٹے میں ایک شخص خودکشی کر رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سال2012  میں لگائے گئے تخمینے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کی شرح ایک لاکھ افراد میں7.5  فیصد تھی۔ آسان الفاظ میں اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اس برس تقریباً13  ہزار افراد نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔2016  میں یہ تخمینہ ایک لاکھ میں2.9  فیصد تھا، یعنی5  ہزار500  افراد نے اپنے ہاتھوں اپنی جان لی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خودکشی کرنے والے افراد اس سے کئی زیادہ ہیں لیکن سرکاری سطح پر اعداد و شمار مرتب نہ کرنے کی وجہ سے حقیقت سامنے نہیں آتی۔ خودکشی کی سب سے بڑی وجوہات معاشی تنگدستی، بے روزگاری اور بلاوجہ اداسی بتائی جا رہی ہیں۔ علم نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسانی جبلتوں اور جذبات کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ایک نئی تحقیق میں تفتیش کاروں نے دریافت کیا ہے کہ انسان کے خوشگوار اور ناخوشگوار جذبات میں سے اداسی کا دورانیہ سب سے طویل ہوتا ہے جو دیگر تمام جذبات کے مقابلے میں انسان کے اندر زیادہ دیر تک برقرار رہتا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ خوشی اور اداسی کے بیچ میں سے اپنے لئے متوازن راستہ نکال کر زندگی گزارنے کی طرف جائے۔ یقیناً زندگی بہت خوبصورت ہے اور اسی طرح زندگی میں ملنے والے کچھ انسان بھی بہت خوبصورت ہوتے ہیں جو ہماری زندگی بدل دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان ہی انسان کی دوا ہے، اگر کوئی دکھ دیتا ہے تو کوئی سکون بن جاتا ہے، کوئی نفرت کرتا ہے تو کوئی محبت دے کر حساب برابر کر دیتا ہے، کوئی رلاتا ہے تو کوئی مسکرانے کی وجہ بن جاتا ہے، کوئی ٹھوکر لگا کر گِرا دیتا ہے تو کوئی انتہائی محبت سے سہارا بن جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہمیں شرمندگی، حیرت، حسد و جلن، خوشی اور بوریت جیسے جذبات سے کہیں زیادہ اداسی زیادہ دیر تک تنگ کرتی ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے عارضی جذبات کی نسبت اداسی کا دورانیہ240  گنا زیادہ وقت تک کے لیے ہمارے اندر برقرار رہتا ہے۔ تو بہادر انسان وہ ہے جو اس دورانیہ میں واپس زندگی اور خوشی کی طرف آ جائے نہ کہ زندگی کا خاتمہ کر کے اپنی دنیا اور آخرت دونوں داؤ پر لگا دے۔ زندگی بہت کٹھن ہے مگر اسے بہادری سے جینا پڑے گا۔ تابش صاحب کیا خوب فرماتے ہیں کہ:
زندگی مرگِ مسلسل ہے مگر اے تابش 
ہائے وہ لوگ جو جینے کی دعا دیتے ہیں