پختون قوم پرستوں کو طالبان سے جوڑنا وزیر اعظم کےسلیکٹڈ ہونے کا ثبوت ہے، حیدر ہوتی

پختون قوم پرستوں کو طالبان سے جوڑنا وزیر اعظم کےسلیکٹڈ ہونے کا ثبوت ہے، حیدر ہوتی

پشاور۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ پختون قوم پرستوں کو طالبان سے جوڑنا ثبوت ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم عقل سے عاری ہے۔ وزیر اعظم نے غیر ذمہ دارانہ بیان سے پختونوں کو دنیا کے سامنے دہشتگرد کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ غیر ذمہ دارانہ بیانات اور رویوں ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی سینیٹ میں پاکستان پر پابندیاں لگانے کا بل پیش کیا گیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پختون دہشتگردوں کے ہمدرد اور حمایتی نہیں ہیں۔  یہ باچا خان کے قافلے کے پختون ہی تھے جنہوں نے اپنے سروں کے بدلے دہشتگردی کا مقابلہ کیا۔ یہ اے این پی کے قائدین اور کارکنان ہی تھے جنہوں نے قیام امن کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ جعلی وزیر اعظم کو ملک پر مسلط کرنے والوں کوبتانا چاہتے ہیں کہ آپکا مہرہ ملک کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔

 

پی کے 72 پشاور میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ تین سال قبل عوامی نیشنل پارٹی کو ایک سازش کے تحت پارلیمان سے باہر رکھنے کی سازش کی گئی۔ پختونوں کے حقوق کی بات کرنے کی پاداش میں اے این پی کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا۔ اے این پی کیلئے پارلیمان صرف عوام کے حقوق کے حصول کیلئے ایک راستہ ہے۔اے این پی پارلیمان میں ہو یا پارلیمان سے باہر پختونوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہے گی۔

 

انہوں نے کہا کہ تبدیلی کے دعویدارخیبر پختونخوا میں تعلیمی اداروں کی نجکاری کررہے ہیں۔ فیسوں میں اضافے کئے جارہے ہیں جس کا بوجھ مہنگائی کی ماری غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ یہ عمل پختونوں کی آنے والی نسلوں کو تعلیم کی روشنی سے محروم رکھنے کی سازش ہے۔ اے این پی نے پانچ سال کے قلیل عرصے میں نا صرف صوبہ بھر میں نو نئی یونیورسٹیاں قائم کیں بلکہ ان کو اپنے پاؤں پر بھی کھڑا کیا۔ نئے تعلیمی اداروں کے قیام کے پیچھے اے این پی کا صرف ایک ہدف تھا کہ اپنے آنے والی نسلوں کو تعلیم کی روشنی سے منور کرے۔آج صورتحال یہ ہے کہ  یونیورسٹی اساتذہ اور طلباء سڑکوں پر اپنے حقوق کے لئے احتجاجوں پر مجبور ہیں۔ ناکام حکومت کی نااہلی کی وجہ سے زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ متاثر نہ ہوا ہو۔ …