چھوٹی سبز شاخ  نے زندگی بدل دی

چھوٹی سبز شاخ نے زندگی بدل دی

تحریر: ڈاکٹر جمشید نظر

روس کا مشہور مصنف، ناول نگار، ڈرامہ نگار، مضمون نگار اور فلسفی ''لیو ٹالسٹائی'' (LEO TALSTOY) 28 اگست 1828 میں ایک جاگیر دارکے گھر پیدا ہوا۔ بدقسمتی سے وہ نو برس کی عمر میں یتیم ہو گیا تھا پھر رشتہ داروں کے ہاں پرورش پانے لگا اور اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔ سولہ برس کی عمر میں ٹالسٹائی نے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے کازان یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ اپنے اساتذہ کی نظر میں وہ ایک نالائق طالب علم تھا، ساتھی طلباء کا رویہ بھی اس کے ساتھ منفی تھا جس کے باعث ٹالسٹائی نے ڈگری حاصل کئے بغیر اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دی اور واپس اپنے آبائی قصبہ ''یسانا'' میں لوٹ آیا۔ وہ اپنی زبان اور قلم سے لوگوں کو جمہوریت، مساوات اور اخوت کی تلقین کرنے لگا۔ ٹالسٹائی کے انقلابی خیالات روس سے باہر دنیا میں مقبول ہونے لگے، سب سے زیادہ شہرت اسے اس وقت ملی جب اس نے جنگ کی ہولناکیوں کے بارے میں کہانیاں لکھنا شروع کیں کیونکہ 1851ء میں وہ فوج میں شامل ہو کر جنگ لڑ کر جان چکا تھا کہ جنگ سے صرف تباہی اور بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ادب کا لوگوں پر بہت گہرا اثر تھا۔ روس کی حکومت کو کبھی بھی اس کی تحریروں کی مخالفت کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔ ٹالسٹائی نے ہمیشہ انسانی محبت، سکون، اطمینان قلب اور عدم تشدد کو اپنا مسلک قرار دیا۔ ٹالسٹائی کا کہنا تھا کہ اس کے ادب پر ایک چھوٹی سبز شاخ نے گہرا اثر ڈالا تھا۔ ابتداء میںکسی کو بھی معلوم نہ ہو سکا کہ وہ چھوٹی سبز شاخ جسے ٹالسٹائی بچپن میں جادوئی شاخ بھی کہتا تھا وہ ہے کیا اور اس چھوٹی سبز شاخ نے اس کے ادب پر کیسے اثر ڈالاہے؟ یہ راز لوگ تب جان پائے جب ٹالسٹائی نے اپنی وفات سے قبل ایک عجیب سی وصیت کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے دفن کرتے ہوئے کسی قسم کی مذہبی رسومات ادا نہ کی جائیں، صرف لکڑی کا ایک تابوت ہو اور ہر اس شخص کو کاندھا دینے کی اجازت ہو جو کاندھا دینے کی خواہش رکھتا ہو اور پھر مجھے ''سٹاری ڈاکاز'' کے جنگل میں پہاڑی نالے کے قریب اس جگہ دفن کیا جائے جہاں چھوٹی سبز شاخ دفن ہے۔'' ٹالسٹائی نے اس چھوٹی سبز شاخ کے بارے میں بتایا کہ جب اس کا بھائی ''نکولائی'' بارہ برس کا تھا تو اس نے گھر والوں کو بتایا کہ اس کے پاس ایک راز ہے اور اگر اس راز کا انکشاف کر دیا جائے تو دنیا کے سارے غم ختم ہو جائیں گے اور کبھی جنگ نہ ہو۔ نکولائی نے ٹالسٹائی کو بتا رکھا تھا کہ وہ راز اس نے ایک چھوٹی سبز شاخ پر لکھ کر پہاڑی نالے کے قریب جنگل میں دبا دی ہے۔ ٹالسٹائی کو بچپن میں یقین تھا کہ یہ سب سچ ہے اور وہ اس چھوٹی سبز شاخ کو جادوئی شاخ سمجھتے ہوئے ''یاسنایا پولیانا'' کے گھنے جنگلوں میں تلاش کرتا رہتا تھا۔ وہ جادوئی شاخ تو اسے نہ ملی لیکن اس چھوٹی سبز شاخ کے فلسفے نے اس کے ادب پر اتنا گہرا اثر ڈالا کہ وہ زندگی بھر یہی کوشش کرتا رہا کہ دنیا میں غم نہ ہوں اور کبھی جنگ نہ ہو۔ ٹالسٹائی اپنے نظریات کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتا تھا لیکن خاندان کے افراد اس کے مخالف تھے۔ اسی دکھ میں آخر ایک روز اس نے اپنا گھر بار چھوڑ دیا اور اپنے حصے کی ساری جاگیر، دولت کسانوں اور مزدورں میں تقسیم کر دی۔ زندگی کے آخری وقت میں تن کے دو کپڑوں کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ کسمپرسی کی اس حالت میں20  نومبر 1910ء کو ایک اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر وہ وفات پا گیا۔ ٹالسٹائی کی وفات کے بعد اس کی وصیت کے مطابق اسے جنگل میں اسی جگہ دفن کیا گیا جہاں اس کے بھائی ''نکولائی'' سبز شاخ دفن کرنے کا بتا رکھا تھا۔ ٹالسٹائی کی خواہش کے مطابق اس کی قبر پر کوئی پختہ تعمیر نہ کی گئی اور اسے کچا رکھا گیا تاکہ موت کے بعد بھی وہ موسموں کو محسوس کر سکے۔ ٹالسٹائی کے نظریات کو آج بھی دنیا میں امن کے متلاشی قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔