سرکاری دفاتر کی ٹانک سے وانا منتقلی کا مطالبہ

سرکاری دفاتر کی ٹانک سے وانا منتقلی کا مطالبہ

وانا(نمائندہ شہباز) جنوبی وزیرستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر وانا میں وزیر قبائل کا گرینڈ جرگہ منعقد ہواجس میں قبائلی عمائدین،مقامی سیاسی اتحاد کے علاوہ کثیرتعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

 

جرگہ سے قبائلی عمائدین،ملک شیرین جان،ملک غزنی خان،ملک عزیزاللہ،پیپلزپارٹی کے امان اللہ اور عمران مخلص نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا عرصے سے وزیر قبائل کیلئے الگ ضلع کا مطالبہ تھالیکن اب جب تک وزیر قبائل کے جغرافیائی حدود کا تعین نہیں کیا جاتا تب تک علیحدہ ضلع کا قیام بے سود ہوگا۔

 

ان کا کہنا تھاکہ الگ ضلع کیلئے ملکیت کی حدبندی ضروری ہے جب تک وزیر قبائل کے زمین کی حد بندی مثل کے مطابق انگریز دور حکومت اورلینڈ ریکارڈکے مطابق نہیں کی جاتی وزیر قبائل تب تک الگ ضلع کے قیام کے حق میں نہیں،ان کا دوسرا مطالبہ یہ تھاکہ قبائلی ایجنسیوں کو ضم کرنے کے کئی سال ہوگئے،لیکن اب تک ضلعی دفاتر ضلع ٹانک میں ہیںاور وزیرستان کو ٹانک سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جار رہا ہے جو کہ کسی صورت ہمیں قبول نہیں۔

 

انہوں نے وزیراعلی،وزیراعظم اور عسکری قیادت سے مطالبہ کیاکہ ضلع کے قیام سے قبل محسود اور وزیر کے مابین ملکیت حدبندی کی جائے اور تمام دفاتر کو وزیرستان منتقل کیا جائے تاکہ کسی بھی قوم کی حق تلفی نہ ہو۔ان کا کہنا تھاکہ ضلع کو صوبہ میں ضم ہونے کے بعد بھی وزیر،دوتانی اور سلیمان خیل قبائل کو ایک معمولی کام کے سلسلے میں ٹانک جانا پڑتا ہے،جو کہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی اور ان کے حقوق کی حق تلفی ہے۔

 

انہوں نے چیف جسٹس پشاور سے بھی مطالبہ کیاکہ اگر آپ یہاں کے باسیوں کو انصاف دلانا چاہتے ہیںتو ٹانک میں واقع وزیرستان کے تمام عدالتی دفاتر وانا وزیرستان منتقل کئے جائے۔وزیر قبائل کے عمائدین کا کہنا تھا،کہ ہم الگ ضلع کے قیام کے حق میں ہے،لیکن اس وقت تک الگ ضلع کے قیام سے لوگ مستفید نہیں ہوسکتے،جب تک وزیر اور محسود قبائل کے مابین ملکیت کی حد بندی نہیں کی جاتی۔