مانکیال چوٹی سر کر کے سوات کے مقامی کوہ پیماؤں نے ریکارڈ بنا دیا

مانکیال چوٹی سر کر کے سوات کے مقامی کوہ پیماؤں نے ریکارڈ بنا دیا

تحریر: عصمت علی اخون

سوات کے ایک مقامی ہائکر گروپ نے اٹھارہ ہزار پانچ سو فٹ بلند بڑے بڑے گلیشئرز پر مشتمل مانکیال چوٹی سر کر کے ریکارڈ بنا دیا۔ یہ پہلا مقامی اور پاکستانی گروپ ہے جس نے پانچ دنوں میں چوٹی سر کر لی اور بحفاظت واپس اپنے کیمپ اور پھر گھر لوٹ آیا۔ اس گروپ میں شامل ان جاں باز نوجوانوں سید علی شاہ، محمد رحیم اور فرمان خان سے ہائیکنگ کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ گھنے جنگلوں اور اونچے پہاڑوں میں گھومنا اور نئے نئے علاقوں کو جانا ہمارا شوق ہے، ہم کافی عرصہ سے پہاڑوں میں گھومتے ہیں، سوات کی بہت ساری جھیلوں اور جنگل سمیت بہت سی چوٹیوں کو سر کیا ہے لیکن یہ ایک ارمان تھا کہ اس چوٹی کو سر کیا جائے اور یوں ہم تینوں نے پروگرام بنایا اور مانکیال کی طرف روانہ ہوئے۔

 

انہوں نے بتایا کہ مانکیال بیس کیمپ تک سفر اتنا کٹھن نہیں ہے، وہاں جا کر ہم نے رات گزاری اور صبح سویرے چوٹی کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر انتہائی کٹھن تھا کیونکہ انتہائی خطرناک پہاڑی سلسلہ پر اوپر چڑھنا تھا،، رستے میں بڑے بڑے پتھروں پر سے گزرنا تھا جس کی وجہ سے ہماری تھکان میں اضافہ ہوتا گیا، شام ہوتے ہوتے ہم نے آدھا رستہ طے کر لیا تھا، اس آدھے رستے میں ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، اپنا ٹینٹ لگا کر وہاں رات گزاری۔ اس رات کافی ٹھنڈ تھی اور موسم بھی ابر آلود تھا۔ ہم گبھرا گئے کہ شاید وہاں نہ جا سکیں کیونکہ آگے رستہ اس سے بھی زیادہ خطرناک اور گلیشئرز سے گزرنا تھا جو خراب موسم میں طے کرنا مشکل تھا۔ دوسرا ہمارے پاس سازو سامان بھی کمزور تھا۔ چھڑی عام سی تھی، شوز بھی پروفیشنل ہائیکرز والے نہیں تھے اور رسیاں بھی وہ نہ تھیں جو ایسے علاقوں میں استعمال ہوتی ہیں لیکن بس ایک جنون سر پر سوار تھا کہ بس چوٹی پر چڑھنا ہے۔ 

 

''خیر رات وہاں گزاری جب اٹھ گئے تو موسم ٹھیک تھا، موسم کو دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی اور ناشتہ جو ہمارے پاس تیار تھا کر کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ راستہ پچھلے راستے سے زیادہ خطرناک تھا کیونکہ منزل تک پہنچنے کے لئے گلیشیئرز اور پتھریلے چٹانوں پر سے گزرنا تھا، مسلسل سفر سے ہم عصر کو اپنی منزل کے قریب پہنچ گئے۔ منزل سامنے تھی کہ برفانی آندھی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے تھوڑا فاصلہ ہم نے کافی وقت میں سر کیا اور شام ہوتے ہوتے ہم اٹھارہ ہزار پانچ سو فٹ برفیلی چوٹی پر پہنچ گئے۔

 

ہماری خوشی کی انتہا نہ تھی لیکن پریشانی کا عالم یہ تھا کہ برفانی آندھی میں واپس آنا مشکل تھا، اللہ اللہ کر کے وہاں بے سرو سامانی کی حالت میں رک گئے۔ ٹھنڈ اتنی زیادہ تھی کہ جسم ساکت سا ہوگیا تھا پھر ٹیم لیڈر نے کہا کہ جا نہیں سکتے، رات یہاں گزاریں گے۔ اب رات یہاں کیسے گزاریں گے، ٹینٹ لگانے کی جگہ بھی نہیں پھر ہمت سے کام لیا اور اس ٹھنڈ سے بچنے کیلئے ساری رات ہاتھ پاؤں مارنا شروع کئے تاکہ جسم گرم رہے اور دس گیارہ گھنٹے کٹھن رات گزارنے کے بعد جب صبح ہوئی تو واپسی کا راستہ لیا اور اترنا شروع کر دیا۔'' 
انہوں نے بتایا کہ چڑھنے سے زیادہ پتھریلے اور برف سے ڈھکے پہاڑوں پر سے اترنا انتہائی مشکل ہوتا ہے، ہم تھکے ہوئے بھی تھے، رات بھی جاگ کر گزاری تھی اور اب اترنا تھا تو کافی کوششوں سے ہم گلیشیئرز سے نیچے آ گئے اور وہاں پڑاؤ ڈالا کیونکہ رات جاگ کر گزاری تھی اور چلنا کافی دشوار تھا، وہاں رات گزاری۔ اگلی صبح مانکیال بیس کیمپ کیلئے روانہ ہوئے، وہاں بھی رات گزاری اور صبح سویرے نکل کر گھروں کیلئے روانہ ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ سفر دلچسپ بھی تھا اور یادگار بھی، کافی خطرے تھے لیکن پانچ دنوں کی مسافت پر وہ خطرناک چوٹی سر کی جہاں نہ مقامی اور نہ ہی پاکستانی کوہ پیما جا چکا ہے لہذا ریکارڈ بھی ہے اور ہمارے لئے اعزاز بھی کہ حفاظتی سامان نہ ہونے کے باوجود ہم نے مانکیال چوٹی سر کی اور اپنے اس خواب کو عملی جامہ پہنایا۔