ایم کیو ایم کا سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

ایم کیو ایم کا سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان

 کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کے خلاف سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کردیا۔


کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالدمقبول صدیقی نے سندھ کے نئے بلدیاتی نظام کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت سے پہلے کراچی ایسا تباہ حال نہ تھا، غیرمعینہ مدت کیلئے ایڈمنسٹریٹر لگاکر تماشہ لگایاہواہے، اب ہمارےپاس سڑکوں آنے کےعلاوہ کوئی راستہ نہیں۔

 

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی نظام میں اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے ترقی کے لیے فراہم کیے جانے والے فنڈ الیکشن خریدنے میں لگائے جارہے ہیں، چیف جسٹس اس پر نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

 

خالد مقبول صدیقی کاکہنا تھا کہ سندھ کے شہری علاقوں میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن صوبے کے تمام اختیارات انہیں دے دیئے گئے ہیں،اس حوالے ہم عدالتوں میں بھی گئے لیکن عدالتیں کراچی کی عمارتیں مسمار کر نے میں مصروف ہے۔

 

خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی کے حالات پر11دسمبرکوآل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے، پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی نظام میں اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے، ترقیاتی فنڈز الیکشن مہم پر لگائے جارہے ہیں، سندھ کے شہری علاقوں میں پی پی پی کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے لیکن صوبے کے تمام اختیارات انہیں دے دیئے گئے ہیں، آئین کے آرٹیکل 140 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سندھ میں بلدیاتی نظام بنایا گیا ہے، چیف جسٹس سندھ حکومت کے زبردستی بنائے گئے بلدیاتی نظام پر ازخود نوٹس کب لیں گے۔

 

خالد مقبو ل صدیقی نے مزید کہا کہ مردم شماری اور ووٹ شماری میں بھی سندھ سے امتیازی سلوک روا رکھا گیا ، سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے۔