محمود شام کی آپ بیتی، ایک جائزہ

محمود شام کی آپ بیتی، ایک جائزہ

تحریر: فاکہہ قمر

نام ہونا ایک بات ہے اور نامور ہونا اس سے بڑھ کر ہے۔ پاکستان کی صحافت کا ایک بڑا، معتبر اور جانا مانا نام محمود شام بلاشبہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ ان کی آپ بیتی پڑھتے ہوئے مجھے جس قدر حیرت کے جھٹکے لگے ہیں، یہ بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اس قدر مفصل اور جامع معلومات ان کے متعلق جان کر بے اختیار دل چاہا کہ اے کاش! ان سے ملنے کا شرف حاصل ہو، کچھ براہ راست سیکھنے کو ملے۔

 

بڑی حیران کن بات ہے کہ ایک شخص جس کا بچپن اور لڑکپن دو ملکوں کی تقسیم کی نذر ہو گیا ہو، اس کی نفسیات پر ہمیشہ کے لیے ایک منفی تاثر چھوڑ جاتا ہے، ساری زندگی وہ اسی ٹراما کے گرد گھومتا رہتا ہے لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ محمود شام کی آپ بیتی پڑھنے کے دوران مجھے کوئی منفی پہلو نظر نہیں آیا۔ زندگی کے ہر موڑ پر مثبت پہلو اور سوچ عیاں ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ عموماً بچوں سے بچپن میں پوچھا جاتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟ محمود شام صاحب کا ذہن، سوچ اور نظریہ بچپن سے ہی پختہ اور شفاف ہے، وہ اپنے مستقبل کے لیے پرعزم رہے اور انہوں نے یہ بات ثابت بھی کر دکھائی اپنی عملی زندگی میں۔
محمود شام کہتے ہیں: کسی انگریزی کتاب میں یہ جملہ پڑھا تھا کہ: پبلشر کو عام پڑھنے والوں سے پہلے پتہ چل جاتا ہے کہ کہانی کا انجام کیا ہے؟ اس بات نے گویا مجھ پر سحر طاری کر دیا کہ دوسروں سے پہلے جاننے  اور علم حاصل کرنے کا دوسروں سے آگے بڑھنے کا شوق تھا۔ پہلے خود جان کر دوسروں کو بھی اس کا حصہ دینا چاہتا ہوں، اپنی معلومات ان سے بانٹنا چاہتا ہوں۔

 

کیا ہی خوبصورت خیالات ہیں۔ آج کل کہاں لوگ دوسروں کے لیے سوچتے ہیں؟ ہر کوئی اپنی ذات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ ایسے میں یہ معلومات حاصل کرنے کے شیدائی  ہیں لیکن خود تک محیط رکھنے کے خواہش مند نہیں ہیں بلکہ سب کو اس سے فیض یاب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ واہ! کیا خوب انسان ہیں۔
محمود شام  صاحب تاریخی شہر جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جھنگ جس کی گلیاں ادب، ثقافت اور شعروسخن کا مرکز جانی جاتی ہیں۔ وہاں مختلف ادبی شخصیت کے زیر شفقت میں رہے۔ بے شمار ادبی لوگوں سے ان کے مراسم استوار ہوئے، سب سے سیکھتے چلے گئے اور اپنی صاحیتوں کا لوہا منواتے گئے۔ بچپن سے جس چیز میں دلچسپی لی اسی کو بطور پیشہ اپنایا۔ قلم کو ہتھیار بنایا اور ادب کے میدان میں فتوحات حاصل کرتے چلے گئے۔ بڑی چھوٹی سی عمر میں اللہ نے مطالعہ اور ادب کے شغف کی بنا پر بہت بڑی ذمہ داریوں اور عہدوں سے نوازا۔ ان کے سر سہرا ہے کہ انہوں نے ملک کے بڑے اور نامور جرائد کی کمان سنبھالی اور انہیں عروج پر پہنچا دیا۔ دوران تعلیم علامہ اقبال کی نسبت کی بنا پر فلسفہ جیسا خشک مضمون کا انتخاب کیا لیکن مزاج میں ذرا بھی خشک مزاجی نہیں تھی۔

 

بقول محمود شام: کچھ لوگ مجھ پر خشک مزاجی اور کسی قدر مغروریت کا الزام لگاتے ہیں حالانکہ میں تو عجزو انکساری کا دامن نہیں چھوڑتا، ہاں میرے اندر کسی حد تک غرور ہے لیکن اپنی انا کا غرور ہے، پندار کا ہے، خود داری کا ہے، صاحب اقتدار کے سامنے سر ضرور غرور سے بلند رکھتا ہوں لیکن اپنی کلاس کے لوگوں سے سر جھکا کر قدم ملا کر بات کرتا ہوں۔ اگر کسی کی میرے مزاج سے کوئی دل آزاری ہوئی ہے تو دلی معذرت چاہتا ہوں۔

 

کیا ہی خوبصورت انداز اور سوچ کا پیراہن ہے، یہ نظریہ کسی عام انسان کا نہیں ہو سکتا  ہے، یہ بہت خاص شخص کی شخصیت کو واضح کرتے الفاظ ہیں۔ کہاں ہیں آج کل ایسے لوگ؟ یہی تو ہمارے عظیم لوگ ہیں۔ انہوں نے صرف رسائل یا صحافت تک خود کو محدود نہیں رکھا، رسالے کی اشاعت کرنے پر آئے تو بے مثال کام کی بنیاد رکھ ڈالی۔ شاعری کی تو لوگوں کا دل موہ لیا، سفرنامے اور رپورٹ لکھنے پر آئے تو دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ غیر ملکی زبانوں میں شاعری مجموعوں کا ترجمہ کر کے سب کو حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔ کہانیوں کا ترجمہ کرنا آسان ہے لیکن شاعری کا ترجمہ، چھٹی کا دودھ یاد آ جاتا ہے۔ غرض کوئی ایسا کام نہیں جو انہوں نے نہ کیا ہو۔ محمو د شام صاحب ہر فن مولا کے مصداق اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔

 

اپنے پہلے رسالے ''گلستان'' کی اشاعت کے موقع پر محض پنسل اور کاربن پیپر کو کارآمد بنا کر دس کاپیاں تیار کیں۔ وسائل کی کمی کے باعث بھی کام اور جذبے میں کوئی کمی نہیں آنے پائی۔ ان کی آپ بیتی میں جگہ جگہ حیرتوں کے جھٹکے ہیں ہم جیسے لوگوں کے لیے، ایسا لگتا جیسے کوئی افسانوی کردار ہے جو بغیر کسی مفاد یا غرض کے کام کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہی حقیقت ہے۔ ابھی ایسے لوگ موجود ہیں جو بے غرض کام کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بہت انمول ہوتے ہیں کیونکہ ان کی زندگی بامقصد کاموں میں وقف ہو جاتی ہے اور شومئی قسمت خاص کام لکھے بھی ان کے ذمے جاتے ہیں جیسے نوشاد عادل ایک زندہ مثال ہیں، انوکھے اور اچھوتے آئیڈیاز کی بنا پر۔

 

انسان کی فطری خواہش ہے جب وہ کام کرے تو اس کو سراہا جائے، ایوارڈ کی بدولت لیکن یہ اللہ کا بندہ اس قدر بے نیاز ہے کہ جب ان کو ایوارڈ دیا گیا تو انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ: مجھے کسی قسم کا ایوارڈ نہیں چاہیے نہ میں خود کو اس کا مستحق سمجھتا ہوں۔ مجھے کسی بھی ایوارڈ سے وابستہ نہ کیا جائے اور بعد از مرگ بھی کوئی ایوارڈ میرے نام نہ کیا جائے۔ اس قدر بے نیاز اور سادہ دل جو کام کو جنون کی مانند کریں اور کرتے ہی چلے جائیں۔ بغیر کسی معاونت، غرض یا ایوارڈ کے، آج کے اس دور میں یہ بہت مشکل امر ہے۔ ایسے لوگ بہت بے لوث اور نایاب ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انسان کی کاوش کا اصل صلہ یہ ہے کہ اس پر عام عوام اپنی داد سے نوازیں۔

 

اس عظیم انسان نے 1965 کی جنگ آزادی کے موقع پر ملی نغمے لکھے، آرمی اور نیوی کے جوانوں کے حوصلے بلند کرنے کی خاطر، ان کو اس قدر پذیرائی ملی کہ ان کو باقاعدہ ریڈیو پر گایا گیا، عام لوگوں کی زبانوں پر وہ ملی نغمے عام تھے، ایک مدت تک ان کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ اسی کو محمود شام اپنی اصل کامیابی قرار دیتے ہیں۔ محمود شام صاحب کے حوالے سے کئی دل چسپ اورحیرت انگیز واقعات آپ بیتیاں کے مجموعے میں شامل ان کی آپ بیتی سے پڑھ سکتے ہیں اور میری مانند ان کے گرویدہ ہو سکتے ہیں کہ انہوں نے جو لکھا ہے دل سے لکھا ہے۔

 

یاد رہے کہ  تاریخ ساز کتاب آپ بیتیاں تیس نامور لکھاریوں اور مدیران کی حالات زندگی کے سچے اور حقیقت پر مبنی واقعات پر مبنی ہے جو ہر قسم کے جھوٹ اور ملاوٹ سے پاک ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ہم سب پر لازم ہے کیوں کہ یہ ہمارے اپنے ہی ادیبوں کی زندگی کے احوال پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو ہر گھر کی لائبریری کی زینت بننا چاہئے۔ تو دیر کس بات کی، ابھی گھر بیٹھے کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں۔
الہی پبلی کیشنز
واٹس ایپ: 0333.2172372
ای میل: melahi1963@yahoo.com