میجر (ر) علی رضا خان اور ''سب سے پہلے صوابی''

 میجر (ر) علی رضا خان اور ''سب سے پہلے صوابی''

 سردار یوسفزئی

''سب سے پہلے صوابی'' کا نعرہ میجر (ر) علی رضا خان نے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے ''سب سے پہلے پاکستان'' والے نعرے  سے18  سال اور لیاقت ترکئی گروپ کے ''سب سے پہلے صوابی'' والے نعرے سے20  سال قبل اس وقت لگایا اور ساتھ ہی اسے عملی جامہ بھی پہنایا جب وہ فوج میں بھرتی ہوئے لیکن یہ نعرہ انہوں نے کسی سے ووٹ لینے یا ووٹ دلانے کے لئے نہیں لگایا تھا۔  

 

ان کا کہنا ھے کہ علاقے اور گاوں کے لوگوں کا ھم پر حق ھے اور ویسے بھی میں ضرورت مند لوگوں کی خدمت کر کے پرسکون رہتا ہوں۔ ترلاندی کی ''خان'' فیملی دوران خیل سے تعلق رکھنے والے میجر (ر) علی رضا خان کو حد درجے خاکساری اور غریب پروری جیسی صفات وراثت میں ملی ہیں۔ میجر (ر) علی رضا نے1983  میں پاک فوج جوائن کی اورPMA  سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد3  ایف ایف رجمنٹ  بھیج دیئے گئے۔ وہ2010  میں اپنی کلر سروس پوری کر کے ریٹائرڈ ھوئے۔ اب ریٹائرمنٹ کے بعد تو وہ گاؤں علاقے کی ہر غمی خوشی میں شریک ہو ہی جاتے ہیں لیکن دوران سروس بھی میجر صاحب کبھی اپنوں سے دور نہیں رہے۔ انہوں نے دوران سروس ترلاندی اور ملحقہ گاؤں دیہاتوں کے بے شمار غریب گھرانوں کے جوانوں کو فوج میں بھرتی کیا۔90  کے عشرے میں جب وہ کپتان تھے اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ سنٹر ایبٹ آباد میں ایڈجوٹنٹ کی ڈیوٹی کر رہے تھے تو گاؤں پیغام بھیجتے کہ فوج میں بھرتی کے خواھش مند جوانوں کو بھیج دیں اور اس طرح آس پاس گاؤں دیہاتوں کے بے روزگار جوانوں سے بھری گاڑی شیوہ اڈہ رزڑ سے ایبٹ آباد پہنچتی، گاڑی کو کرایہ بھی میجر علی رضا ہی ادا کرتے تھے۔ پھر ان سب جوانوں کو بھرتی کرنا اور دوران تربیت ان کا ھر قسم خیال رکھنا وہ اپنا فرض سمجھتے تھے۔

 

سال 1996/97/98 میں فرنٹیئر فورس رجمنٹ سنٹر ایبٹ آباد کا دورانیہ میجر علی رضا خان کا یادگار پیرڈ تھا۔ ھر چھاونی کی ایف ایف رجمنٹ میں اس وقت کے صوابی وال Capt Ali Raza کے چرچے تھے۔ اب میجر علی رضا ''سب سے پہلے صوابی'' کے نعرے کے تحت صوابی والوں کی ویلفیئر ترجیحی بنیادوں پر کر رھے تھے۔ فرنٹیئر فورس رجمنٹ کا ھر صوابی وال اپنی پسند کی چھاونی میںPosting  کرواتا یا چھٹیوں پر جاتا، کوئی رکاوٹ نہ تھی البتہ اس دوران کوئی صوابی وال تربیتی کورسز یا کوئی اور پیشہ ورانہ مقابلوں میں پیچھے رہتا تو نہایت سختی سے پیش آتے۔ دوران سروس وہ سب ماتحتوں سے نہایت نرمی کا سلوک کرتے لیکن فوجی اصطلاح کے مطابق حد درجہ کے ''گیرنج بندی'' کرتے نظر آتے۔ 



''سب سے پہلے صوابی'' کا نعرہ میجر (ر) علی رضا خان نے سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کے ''سب سے پہلے پاکستان'' والے نعرے  سے18  سال اور لیاقت ترکئی گروپ کے ''سب سے پہلے صوابی'' والے نعرے سے20  سال قبل اس وقت لگایا اور ساتھ ہی اسے عملی جامہ بھی پہنایا جب وہ فوج میں بھرتی ہوئے لیکن یہ نعرہ انہوں نے کسی سے ووٹ لینے یا ووٹ دلانے کے لئے نہیں لگایا تھا
 



میجر علی رضا پشتون کلچر اور خصوصاً پشتو موسیقی سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ھیں۔ فوج میں رہتے ھوئے ایک پشتون آفیسر کے لئے آفیسر میس یا آفیسرز کالونی میں اپنے بنگلے پر رباب اور طبلے کی محفل سجانا جتنا مشکل ہے اتنا ہی آسانی سے اور روزانہ کی بنیاد پر میجر علی رضا یہ شوق پورا کرتے تھے۔1996  کی بات ھے، شکردرہ کوھاٹ سے میرا ایک دوست پیر غالب شاہ چچازاد سمیت مجھے ملنے پنڈی آئے۔ پیر صاحب کے چچازاد سے جب گاؤں علاقے تک کا تعارف ہوا تو اس نے اٹھ کر سیلوٹ کیا اور کہا کہ یہ سیلوٹ علی رضا صاحب کے احترام میں آپ کو کر رھا ھوں، آج کل آپ کے گاؤں کاCapt Ali Raza  ایبٹ آباد ایف ایف سنٹر میں ایڈجوٹنٹ ہے، بہت خاکسار نڈر، ماتحتوں کے لئے لڑنے والے افسر اور سادہ مزاج پشتون ھے، رات کو ان کے بنگلے پر رباب اور ''ٹپے'' کا دور چلتا ھے۔ اس نے مذید کہا کہ بالا افسران نے کیپٹن علی رضا صاحب کو منع کیا تو وہ بولے کہ میں نوکری کروں گا تو پشتون کلچر سمیت اور اپنے مزاج کے مطابق، ورنہ نہیں۔ مذکورہ مہمان خود بھی علی رضا صاحب کی محفل اور ان کے ساتھ سگریٹ کے ''کشوں'' سے مسرور اور مستفید ہوتے تھے۔ 



فرنٹیئر فورس رجمنٹ کا ھر صوابی وال اپنی پسند کی چھاونی میںPosting  کرواتا یا چھٹیوں پر جاتا، کوئی رکاوٹ نہ تھی البتہ اس دوران کوئی صوابی وال تربیتی کورسز یا کوئی اور پیشہ ورانہ مقابلوں میں پیچھے رہتا تو نہایت سختی سے پیش آتے
 



میجر علی رضا اگر فوج کے قواعد ضوابط اور پشتون ولی کے درمیان توازن برقرار رکھتے تو آج جنرل کے عہدے پر ھوتے۔ میجر علی رضا کھیل کی دنیا کے بھی مانا ھوا شھسوار رہے ہیں۔ فٹ بال کے بہترین کھلاڑی اور کوچ رہے ہیں۔انہوں نے میٹرک اور FSC اسلامیہ کالجیٹ پشاور اورBA  اسلامیہ کالج پشاور سے کیا اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعدMBA_HRM  کی ڈگری حاصل کی۔ دوران تعلیم کالجیٹ سکول اور اسلامیہ کالج پشاور فٹبال ٹیم کے کیپٹن رھے اور انٹر ڈسٹرکٹس مقابلوں میں بحیثیت کپتان ٹرافی اسلامیہ کالج کے نام کی۔ وہ ترلاندی فٹ بال ٹیم کے کپتان اور صوابی کے مشہور فٹبالر رہے۔ وہ دوران ملازمت آرمی لیول پر نشان بازی سمیت فٹ بال کے بہترین کھلاڑی رہے۔ انہوں نے نشانہ بازی کے مقابلے اور فٹبال کے بے شمار ٹورنامنٹ اپنی یونٹ کے نام کیے۔ وہ شکار کھیلنے اور دوستوں کی محفلیں جمانے کے شوقین اور فخر افغان باچا خان کے سچے پیروکار ہیں۔ ولی خان کو پسندیدہ سیاستدان مانتے ہیں لیکن حالیہ ملکی سیاست سے سخت نالاں ہیں۔ وہ ایک بہترین سوشل ورکر ہیں اور اپنے زور بازو سے گاؤں علاقے کی خدمت سیاسی نظریات سے بالا تر ہو کر نمود نمائش کے بغیر کر رہے ہیں۔