مجذوب: ایک قادرالکلام شاعر

مجذوب: ایک قادرالکلام شاعر

تحریر: ماخام خٹک

چند دنوں سے یہ خبر چلی ہے کہ عبدالرحیم مجذوب صاحب، صاحب فراش ہیں۔ لکھنے کو تو ان کی شخصیت پر کتابیں ناکافی ہیں لیکن پھر مجھ جیسے فہم نااشنا آدمی کے لئے مشکل ہو جاتی ہے کہ ان پر اگر لکھیں 'تو بات کہاں سے اور کیسے شروع کی جائے' کے مخمصے سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ چونکہ میں اس تجربے سے مجذوب صاحب کے حوالے سے گزر چکا ہوں تو اس لئے ان پر مزید یا نئے سرے سے لکھنے کے بجائے اس مقالے پر اکتفا کئے دیتا ہوں جو میں نے سال دو ہزار انیس میں ضلع ٹانک پریس کلب میں ان پر منعقدہ شعور ادبی جرگے کی طرف سے ایک سیمینار میں پڑھا تھا۔ اس سیمینار کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں شعور ادبی جرگے کے فعال ساتھیوں کے ساتھ ساتھ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں میں سلیم راز، ثناء اللہ شمیم، جاوید احساس، نادر خان علیل اور عظیم وزیر صاحبان  بھی تشریف فرما تھے۔ 
میں نے اپنے مقالے کی شروعات کچھ اس طرح سے کی کہ مجذوب ایک قادرالکلام شاعر ہیں۔ قادرالکلام اسے کہتے ہیں کہ محسوسات کو الفاظ یا نگارشات کے نرم و نازک پیراہن میں بلا تکلف ملبوس ہونے کے مراحل سے گزارے اور جس موضوع پر جو اور جب چاہے بڑی آسانی سے رقم طراز کریں اور یہ کمال مجذوب میں بدرجہ اتم موجود ہے اور یہی ان کی قادرالکلامی کا بین ثبوت بھی ہے۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ یہ تحریری طور پر عبدالرحیم مجذوب صاحب کی کتاب ''زیڑ گلونہ'' (گل زرد) کے پیش لفظ میں عظیم فن کار کے عنوان تلے چودہ جنوری سن انیس سو پچہتر کو جناب طاہر کلاچوی فرما رہے ہیں۔ میں تو یہ جرات نہیں کر سکتا کہ طاہر کلاچوی جیسے بلند قامت شاعر یا لکھاری سے اختلاف کر سکوں البتہ مجذوب صاحب کے بارے میں قادرالکلامی کے حوالے سے جو بین ثبوت وہ سامنے لائے ہیں وہ ادبی عدالت میں اختیار سماعت  کے لئے پیش کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ایک ایسا سپیکنگ فیصلہ ان پر حاصل کروں جو ادب کی عدالت عالیہ کے قاضی القضا بھی اس کو ''اپ ہیلڈ'' کریں اور ادب کی تمام کچہریوں کے ادبی وکیلوں کے لئے ایک نظیر بن جائے۔ لیکن سب سے پہلے جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا اور اگر جھوٹ بولوں تو مجھ پر قہر اور عذاب نہ نازل ہو کیونکہ مبالغہ اور غلو ادب میں روا اور جائز ہے۔  
شعور نے اپنی آنکھیں شاعری کی دامن میں کھولی ہیں، جب فلسفے اور عقل و دانش کی فعل ابجد بھی ابھی فتح نہیں ہوئے تھے تو شاعری کے قلعے کے دروازوں کے تالے کھلے تھے اور انسانی احساسات، جذبات اشعار کی زبان سے اپنا اظھار کیا کرتے تھے۔   ہم جب شاعری کے ماضی بعید پر اپنی نظر دوڑاتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ یہ پربتوں کے سلسلے، یہ صحراؤں اور دشتوں کے پھیلے ہوئے سینے۔ غاروں کی مٹی میں یہ پراسرار تنہائیوں کی رفاقت، دوستی بھی اس شاعری نے نبھائی ہوئی ہو گی جو جذبات کی طرح تخیل کے طوفان میں بادبانی کشتی کی مانند ابھرتے اور لہروں کی طرح پھر پھیل جاتے تھے۔ شاعری تو ایک آئینہ ہے جس میں انسانی افکار اور احساسات نظر آتے ہیں۔ بات چونکہ شاعری کی ہو رہی ہے تو میں سیدھا سیدھا شاعری کی طرف آتا ہوں اور جب شاعری کو اس آئینے میں دیکھتا ہوں تو اس میں مجذوب صاحب کی شاعری وقت سے پہلے واصل بہ معراج ہوئی نظر آتی ہے اور آج تک اس کی یہ سطح برقرار ہے۔ ان کی شاعری میں بہت دھیمی شدت ہے اور بہت خاموش چیخ و پکار ہے۔ ان کے ہاں روایت سے بغاوت کا جذبہ ہے جو ان کو جدت کی پگڈنڈیوں پر گامزن کر کے آگے رومانویت کے راستے حقیقت پسندی تک پہنچاتا ہے لیکن وہاں یہ رکتے نہیں، اطمینان کی سانس نہیں لیتے اور بڑے ہنر، کمال اور استاکاری سے نہ صرف اپنے اس مقام کی تعریف اور تعارف کرواتے ہیں بلکہ اس میں مزید اضافے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مجذوب ان لکھاریوں میں شامل ہیں جو ایک بار نام اور مقام حاصل کر چکے پھر اس کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا بلکہ اوروں نے ان کے ہاتھ پر ادبی بیعت کی ہے۔  مجذوب صاحب کو یہ گنجینہ بھی اسی خاک، ویرانوں، پہاڑوں، ریگزاروں، کھیتوں کلیانوں، پنگھٹوں، پگڈنڈیوں اور رہگزروں اور اس وطن کے نچلے طبقے کی خاک در خاک اور بے ترتیب زیست اور الگ الگ اوقات کی بے رحم گردشوں سے ہاتھ لگا ہے جیسا کہ اس نظم میں نمایاں ہے: 
زیڑ حسن (زرد حسن)  زیڑ تصویر (زرد تصویر)
یہ تصویر کیوں بنائی ہے تو نے  
یہ اتنی زرد کیوں بنائی ہے تو نے  
ظلم تو مصور تو نے کیا ہے  
کتنی پیاری آنکھیں تو نے اس کی بنائی ہیں
پھر بھی لاچارگی اس سے ٹپکتی ہے
حالت مفلسی اس میں نمایاں ہے
دیکھ رہا ہے پر فریادی ہے ان آنکھوں میں
محو خواست ہے ان آنکھوں میں اپنی مراد کے لئے
تو نے کیسے منہ اس سے پھیرا ہے  اتنا پیلا رنگ کیوں دیا ہے اس کو
ظلم تم سے ہوا ہے مصور ظلم
دیکھو کتنا خوب صورت ناک نقشہ ہے اس کا
چپ ہے پر شکایت جیسے کرتا ہو
سن لو کچھ اپنی غربت کے بارے میں کہہ رہا ہے
نہ پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے
نہ تن ڈھاپنے کے لئے کچھ ہے اس کے پاس
کیا ہوا اگر تو نے خوبصورت بنایا ہے
اتنا زرد کیوں بنایا ہے اس کو
ظلم تم سے مصور ہوا ہے
کیا ہوا اگر گوشت پوست کا بنا ہوا ہے
زیست سے خالی خولی یہ تصویر ہے
نہ کسی کی خوشی اور غمی میں ہے
اپنے جوان جذبات کو دبایا ہے  اپنے دوشیزگی کے پروں کو جلایا ہے
مصیبتوں کو لب سل کے برداشت کیا ہے
یہ تصویر تو نے کیوں بنائی
اتنی زرد رنگت کیوں بنائی اس کی
بہرحال تم سے ظلم ہوا ہے
لغت نویسی کے دائرے سے بالا بالا مجذوب نے ایک وسیع ادبی دنیا بنا رکھی ہے۔ ان کی شاعری میں استعاروں کے معنی تخلیقی استعمال سے منتخب اور متعین ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں الفاظ کے تخلیقی دروبست کی وجہ سے بے شمار جہات رونما ہوئے یہی وجہ ہے کہ عام لفظوں سے بھی ترتیب شدہ اشعار اپنے معنی کے تہداری کے سبب بھلے، واضح اور روشن ہیں جیسے کہ بانوگے نظم میں وہ کہتے ہیں:  
جب وہ خندا زن ہو کر اور بھرے گلوں سے اپنا دامن بھرتا ہے
نیلگوں رنگ ان کے چہرے پر لکیریں بن کر ٹھہرتے ہیں
کتنی بے صبری سے اس کی ٹھوڑی سے اس کے زلف لپیٹا کھاتے ہیں
کالے سفید سے وارے جاتے ہیں اور سفید کالوں سے قربان ہوتے جاتے ہیں
چاند کی مانند اس کے چہرے سے جنتی جلوے ٹپکتے ہیں
اس کی نشہ آور (خمارآلود) آنکھوں سے شراب کے نشے ٹپکتے ہیں
چار سالہ (چار دانتوں والی) موئی تازہ گھوڑی کی مانند جب ٹیڑھی چال چلتی ہے  
تو انھیں بولنا سدھر جائے بانو کی نقل نہ اتارا کریں
ہرن کے بچوں کی طرح ریت پر مزے سے چھلانگیں مارنا
لیکن اگر چال بانوگئی کی طرح چلنا چاہیں، تو نہ سیکھا ہو گا اور نہ سیکھ  پائیں گے
مجذوب کے کلام کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ وہ مختلف نفسیاتی اور جذباتی کیفیات میں ایک نئی چکاچوند، چمک دمک کے ساتھ زمانی، تاریخی اور جغرافیائی سرحدوں سے نکلنے کے باوجود اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئی ہے اور اسی خوبی نے مجذوب کو افاقیت کی چوکی پر براجمان کیا ہے۔
ویت نام تہ مے سلام (ویت نام کو میرا سلام)
ایک چلو بھر مٹی کا آسمان سے مقابلہ ہے
ہمت دیکھ چیونٹی کہ سلیمان سے مقابلہ ہے
ویت نام میں خداؤں کا انسان سے مقابلہ ہے
نہ دار پہ نہ دینار پہ، نہ نار پہ اور نہ نیپام پہ
ویت نام کو میرا سلام
ویت نام چمکتا تارہ ہے قربان نگاہ ظلمت پر
پشتونولی ہے، قربانی ہے، جرات کا پختہ عزم ہے
ویت نام میں ہمارے لئے بڑی مثال شجاعت کی ہے
ایک پکار حمیت کی ہے اور خودی کا حسین پیغام ہے
ویت نام کو میرا سلام ہے
مجذوب نئی تراکیب اور تشبیہات لانے کے بجائے بالعموم روایتی، مروجہ تراکیب، تشبیہات اور علامتیں اپنی شاعری میں لاتے ہیں۔ اس میں زیادہ تر وہ تراکیب اور تشبیہات وہ ہیں جو تکرار در تکرار کی یکسانیت کے باعث اپنا کیف، اثر اور اہمیت کھو چکے  تھے لیکن مجذوب نے یہ تمام الفاظ، تراکیب، تشبیہات اور علامات کو ایک ایسے منظرنامے میں تبدیل کیا کہ الفاظ تو وہی رہے لیکن ایک نئے معنوں اور تازہ مفہوم کی حیثیت کو اپنا کر ان کی شناخت بنتے گئے۔
لال پیزوان (نتھ)
لال جمکے اور لال لباس میں
لال شعلے ہیں جو تیرے سراپا سے اٹھ رہے ہیں
تیرے گورے گالوں اور شیرین لبوں پر جوانی کے بال نمایاں ہوئے
یا یہ مکھیاں ہیں جو شہد کے چھتے کے اوپر جمع ہیں
سرو قد کے گورے گالوں کو تو ذرہ دیکھ
کتنے پورب پر یہ آب چڑھ گیا

یا پھر خکلا (حسن) کے نظم کے یہ مصرعے ملاحظہ کریں:
تم نے گوشت دیکھا ہو گا  تم نے گوشت کھایا بھی ہو گا
گوشت نرم ہوتا ہے نازک ہوتا ہے جب اس کا تناسب موزوں ہو
تو مزیدار اور دلکش ہوتا ہے
لیکن گوشت کا بھی اپنا وقت اور اپنی میعاد ہوتی ہے
آخر چھیچھڑے ہی رہ جاتے ہیں
اور جب سکڑ جائے مردار ہو جائے  یا سڑ جائے 
تو پھر مٹی میں گھل جاتا ہے
اگر گوشت کا یہ انجام ہے تو پھر حسن اور خوبصورتی کس بلا کا نام ہے
مجذوب کے ہاں نازک رشتوں اور احساسات کا ایک وسیع اظہار پایا جاتا ہے جو اس ارض میں اولیت سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک پاکیزہ تصور پیش کیا اور اپنے جذبات کی صداقت عشق کی پاکیزگی میں دیکھتے ہیں۔ مجذوب جمالیاتی تخیل کے ایک زبردست محرک ہیں، مجذوب کی عظمت، بلند قامتی کا تعارف اور مقبولیت کا کرشمہ بھی پشتو اور پشتونوں اور پسے ہوئے طبقے کا درد ہے جو ان کی شاعری میں زمزمہ ہو چکا ہے:
 ہجر کی شب مجھ پر سرد گزری یا گرم
تمھیں اس سے کیا جو مجھ پہ گزری

ترجمہ:
سن لو سن لو اے لکی (لکی مروت) کے خداؤں سنو
خدا تمھیں اور لمبے کانوں اور دم والے (جانور) بنائے
یا پھر یہ کہ
ترجمہ:
تیرا وہ حسن کہاں گیا
وہ شائستگی جو ظالموں سے مظلوم بنائے
وہ شائستگی جو حاکموں سے محکوم بنائے
خوار و غریبوں کے لئے غربت میں مصیبت بنائے
جان پہ آفت بنائے
امیروں کے شبستانوں میں عشرت کدہ بنائے

یا پھر یہ
 ترجمہ:
میری پشتو میری میٹھی پشتو
تیرے دکھ نے میرا خون  چوس لیا
حیف کہ تمھیں کوئی چاہے
وہ زمانے کا دشمن بن جاتا ہے
تیرے عاشق کے خلاف بہانے ڈھونڈتے ہیں
کوئی انھیں دار تو کوئی رسن ڈھونڈتے ہیں
ایک شاعر جہاں اپنی اندرونی حقیقت اور اپنے باطنی اضطراب کا ترجمان ہوتا ہے وہاں وہ معاشرے میں الگ الگ رویوں کی عکاسی بھی اپنے کلام کے وسیلے سے کرتا ہے کیونکہ ایک سچے اور پختہ کار شاعر کا ہاتھ سماج کے نبض پر بھی ہوتا ہے اور حقیقت میں وہ لوگوں کا فکری طبیب بھی ہوتا ہے۔ ایک شاعر معاشرے کی  ترقی میں ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ ایک شاعر کا فن اس کی فکری سچائی کی وجہ سے دلکش اور روح پرور ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ مجذوب کا کلام دلوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا ہے اور ذہنوں میں سرایت کرتا ہے اور شاید یہی  وجہ ہو کہ ہر دور میں بڑے اور دانشمند شخصیات نے اپنی فکر عوام تک پہنچانے کے لئے شاعری کا مقبول عام وسیلہ اپنایا ہے۔ انہی شخصیات میں ایک نابغہ روزگار اور جینئس شخصیت عبدالرحیم مجذوب بھی شامل ہیں اور شامل رہیں گے۔
مجذوب کو زبان پر دسترس حاصل ہے اس لئے ان کی شاعری میں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کا ذائقہ اور لذت زیادہ ہے۔ ان کے اشعار سہل اور آسان ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی یا ابہام نہیں اور سامع یا قاری کسی بھی قسم کی دقت یا دشواری محسوس نہیں کرتا۔ وہ اس بات سے بھی غافل نہیں رہے ہیں کہ شعر زبان اور محاورے کے خلاف نہ ہو اس لئے تو مجذوب ایک عہد ساز شاعر بھی ہیں۔  
ترجمہ:
 لال ہیں، غصیلی ہیں، غضبناک ہیں آنکھیں ان کی نہیں پر بھڑ مکھیاں ہیں
میرا دل کا پپولہ پھوٹنا چاہتا ہے تیرے غضبناک پلکوں کا کانٹا چاہتا ہے  
تم کہتے ہو کس پر میں فدا ہوں  تم کہو مجذوب تمھیں کیا کہے گا
مجذوب کا نام پشتو ادب اور زبان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے لئے نااشنا اور اجنبی نہیں رہا اور ایسا کوئی موضوع ہی نہیں ہو گا جو انھوں نے اپنے نظموں میں خصوصاً اور غزلوں میں عموماً اپنے محسوسات کے وسیلے سے نظم کیا نہ ہو، اپنے مشاہدے اور جذبات کی بٹی میں فن کی تپش پر گرم یا پکایا نہ ہو۔ مجذوب کی غزل ہو یا نظم، اس میں ایک ایسا لہجہ اپنایا گیا ہے جس کی تقلید ہمارے بہت سارے شاعروں نے کی ہے۔ ان کی رومان اور حقیقت نگاری کی جو فضا ہے وہ امر ہو چکی ہے۔ ان کی غزل میں جو رچاؤ اور محبت کی چاشنی ہے وہ منفرد اور لازوال ہے۔ جمالیاتی شاعری کے لئے انہوں نے زبان کو بھی رومانوی پیکر میں ڈالا ہے بلکہ اپنایا ہے بلکہ بہتر یہ ہو گا کہ یہ کہیں کہ زبان کو دیہاتی، علاقائی اور مقامی بنا دیا ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہو گا کہ ادبی ثالث کی اس ثالثی پر امنا و صدقنا بولیں کہ مجذوب ایک قادرالکلام شاعر ہیں۔ 
ترجمہ:
میں مجزوب حباب کی مانند منہ بند اچھا ہوں  
کیا حالت نزاع میں میرا ہنسنا ہو گا
تمھارے حسن کے درویزہ گر دکھتے ہیں
مجذوب جب بیٹھا ہوا تیرے در پر دیکھتا ہوں
قلندر کہتے ہیں اب غزل کہاں رہا
ٹھیک کہتا ہے مجذوب کی حد تک رہتا ہے