مولانا فضل الرحمان کے سمدھی حاجی غلام علی خیبر پختونخوکے گورنر بن گئے

 مولانا فضل الرحمان کے سمدھی حاجی غلام علی خیبر پختونخوکے گورنر بن گئے

 

 شمیم شاہد 

لگ بھگ چھ مہینوں کے بعد وفاق میں ایک درجن کے قریب مختلف سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحادی حکومت نے جمیعت العلما اسلام (ف) کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے سمدھی حاجی غلام علی کو خیبر پختونخوا کاگورنرتعینات کرنے کر دیا گیا ۔ ہر ایک کو اس فیصلے سے اختلاف اور اتفاق کا حق حاصل ہے مگر یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا ایک درجن اتحادی جماعتوں میں واحد غلام علی ہی اس اہم عہدے کے لئے موزوں امیدوار تھے، کیا  مولانا فضل الرحمان کی جماعت واقعی اتنی مقبولیت رکھتی ہے کہ وفاقی مخلوط حکومت میں زیادہ سے زیادہ افراد کو وزارتوں دی جائیں یا دیگر اہم سرکاری عہدوں پر تعینات کیا جائے اور کیا مولانا فضل الرحمان کو از خود اپنے بھائیوں یا قریبی رشتہ داروں اور معتقدین کے علاوہ کسی اور پر اعتماد نہیں کہ انہیں تعلیمی قابلیت کے بنیاد پر اس اہم عہدے پر تعینات کیا جاتا ۔

 


 مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمان کس طرح سول سیکریٹریٹ میں گریڈ انیس یا بیس تک پہنچے یہ ایک الگ لمبی داستان ہے مگر 2002کے عام انتخابات کے بعد متحدہ مجلس عمل کی حکومت بننے کے بعد جمیعت العلما اسلام (ف) اور جماعت اسلامی پاکستان نے خیبر پختونخوا کے سول سیکریٹریٹ اور دیگر سرکاری محکموں میں اپنے اپنے کارکنوں کو بھرتی کرنے میں کافی دلچسپی لی تھی اور ان خوش نصیبوں میں مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمان بھی شامل ہے 

 

 


 اس سے قبل کہ نامزد گورنر کون ہے اور اسکے کوائف کیا ہیں دیکھتے ہیں کہ موجودہ مخلوط وفاقی حکومت جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کہا جاتا ہے میں جمیعت العلما اسلام (ف) خیبر پختونخوا کا کتنا حصہ ہے ۔ اپریل 2022کے تیسرے ہفتے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے سربراہی میں برسر اقتدار آنے والی حکومت میں خیبر پختونخوا سے جمیعت کے مولانا اسعد محمود اور مولانا عبدالشکور کو اہم وزارتیں دی گئیں، جمیعت ہی کے زیاد اکرم درانی کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر منتخب کر دیا گیا ۔ وزارتوں کی تقسیم سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی کو وفاقی وزیر مواصلات کا عہدہ دینے کی پیشکش کی تھی اور انہوں نے پارٹی قیادت سے صلاح مشورہ کرکے جواب دینے کی یقین دہانی کی تھی مگر جب مولانا فضل الرحمان نے اپنے فرزند ارجمند اسعد محمود کے لئے وزارت مواصلات کا عہدہ مانگ لیا تو عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے خاموشی پر اکتفا کرتے ہوئے وفاقی کابینہ میں کسی قسم کا عہدہ لیے کے بغیر پی ڈی ایم کے اتحاد کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا حالانکہ اس دوران عوامی نیشنل پارٹی کو وزارت پٹرولیم دینے کی بھی پیشکش کی گئی تھی ۔


وفاقی وزارتوں اور دیگر عہدوں کی بندر بانٹ کے بعد ایک موقع پر سب سے پہلے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے گورنر کے عہدے کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کو موزوں قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایسا کرنے کا مشورہ کر دیا تھا


 وفاقی وزارتوں اور دیگر عہدوں کی بندر بانٹ کے بعد ایک موقع پر سب سے پہلے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کے گورنر کے عہدے کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین کو موزوں قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کو ایسا کرنے کا مشورہ کر دیا تھامگر پھر جب مولانا فضل الرحمان کو اپنا چھوٹا بھائی یاد آگیا جو خیبر پختونخوا کے سول سیکریٹریٹ میں افسر ہے۔ ضیا الرحمان کس طرح سول سیکریٹریٹ میں گریڈ انیس یا بیس تک پہنچ گیا یہ ایک الگ لمبی داستان ہے مگر 2002کے عام انتخابات کے بعد متحدہ مجلس عمل کی حکومت بننے کے بعد جمیعت العلما اسلام (ف) اور جماعت اسلامی پاکستان نے خیبر پختونخوا کے سول سیکریٹریٹ اور دیگر سرکاری محکموں میں اپنے اپنے کارکنوں کو بھرتی کرنے میں کافی دلچسپی لی تھی اور ان خوش نصیبوں میں مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمان بھی شامل ہے ۔ اب پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت میں مولانا فضل الرحمان کی جمیعت العلما اسلام ف کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اہم وزارتوں اور دیگر سیاسی عہدوں کے علاوہ پچھلے چھ مہینوں میں مولانا فضل الرحمان نے مختلف وفاقی محکموں اور اداروں میں اپنے دیگر قریبی رشتہ داروں، وفاداروں اور پارٹی کے سرکردہ رہنماووں کے عزیز و اقارب کو بھی کھپایاہے ۔ ویسے مولانا فضل الرحمان کا ایک بھائی مولانا عطا الرحمان پچھلے کئی برسوں سے ممبر سینیٹ آف پاکستان ، دوسرا بھائی مولانا لطف الرحمان ممبر صوبائی اسمبلی پچھلے دو ادوار سے منتخب ہو کر اٹھے ہیں۔ لطف الرحمان پچھلے ٹرم 2013سے 2018تک صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے تھے مگر زیادہ تر معاملات پر وہ خاموش رہنے پر اکتفا کرتے تھے اب جبکہ وہ 2018 سے پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ہیں اورکچھ اسی قسم کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیںجو انہوں نے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے دور میں اختیار کی تھی۔

 


 موجودہ مخلوط وفاقی حکومت جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت کہا جاتا ہے میں جمیعت العلما اسلام (ف) خیبر پختونخوا کا کتنا حصہ ہے ۔ اپریل 2022کے تیسرے ہفتے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کے سربراہی میں برسر اقتدار آنے والی حکومت میں خیبر پختونخوا سے جمیعت کے مولانا اسعد محمود اور مولانا عبدالشکور کو اہم وزارتیں دی گئیں، جمیعت ہی کے زیاد اکرم درانی کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر منتخب کر دیا گیا ۔ وزارتوں کی تقسیم سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی کو وفاقی وزیر مواصلات کا عہدہ دینے کی پیشکش کی تھی اور انہوں نے پارٹی قیادت سے صلاح مشورہ کرکے جواب دینے کی یقین دہانی کی تھی مگر جب مولانا فضل الرحمان نے اپنے فرزند ارجمند اسعد محمود کے لئے وزارت مواصلات کا عہدہ مانگ لیا تو عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین نے خاموشی پر اکتفا کرتے ہوئے وفاقی کابینہ میں کسی قسم کا عہدہ لیے کے بغیر پی ڈی ایم کے اتحاد کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا


 اس بات سے کوئی اختلاف کر سکتا ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ مئی 2018میں پارلیمان کے پانچ سال کی تکمیل پر مولانا لطف الرحمان نے حزب اختلاف میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنماووں کو اعتماد میں لئے بغیر سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے ساتھ نگران کابینہ کے لئے منظور آفریدی کے نام پر اتفاق کیا تھا مگر بعد میں ان دونوں کا یہ دیرینہ خواب پورا نہ ہوسکا ۔

 

پی ڈی ایم کی وفاقی حکومت میں مولانا فضل الرحمان کی جمیعت العلما اسلام ف کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اہم وزارتوں اور دیگر سیاسی عہدوں کے علاوہ پچھلے چھ مہینوں میں مولانا فضل الرحمان نے مختلف وفاقی محکموں اور اداروں میں اپنے دیگر قریبی رشتہ داروں، وفاداروں اور پارٹی کے سرکردہ رہنماووں کے عزیز و اقارب کو بھی کھپایاہے

 


 منظور آفریدی کے ایک اور بھائی مرزا آفریدی اس وقت سینیٹ کے ڈپٹی چیرمین ہیں اور انہوں نے 2021میں جمیعت العلما اسلام( ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کو شکست دی تھی مگر پی ڈی ایم کے برسر اقتدار آنے کے بعد اب وہ جمیعت العلما اسلام (ف) کے قریب ترین حلقوں میں سمجھے جاتے ہیں جبکہ منظور آفریدی تو جمیعت کے مرکزی قیادت میں شامل ہیں ۔ 

 

 2005کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت العلما اسلام( ف) کے درمیان انتخابی اتحاد کے نتیجے میں ضلع پشاور کے ناظم منتخب ہوئے تھے ، وہ ایک بار سینیٹ میں بھی پارٹی کی نمائندگی کرچکے ہیں


پشاورہی میں پلنے بڑھنے والے غلام علی کا تعلق باجوڑ سے نقل مکانی کرنے والے برادری سے ہے وہ 1979کی بلدیاتی انتخابات میں ڈرامائی طور پر پشاور میونسپل کارپوریشن کے کونسلر منتخب ہوگئے اور انہوں نے یہ نشست 1983اور 1987کے بلدیاتی انتخابات میں برقرار رکھی ۔وہ 1988کے انتخابات سے کچھ ہفتے قبل مولانا فضل الرحمان کی جمیعت العلما اسلام( ف) میں شامل ہوگئے بعد میں انکے اور مولانا فضل الرحمان کے خاندانوں کے درمیان سیاسی تعلقات رشتے داری میں تبدیل ہوگئے ۔ انہوں نے 1988سے لیکر اب تک ہونے والے زیادہ تر عام انتخابات میں حصہ لیا مگر کامیاب نہیں ہوسکے ۔ تاہم وہ 2005کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت العلما اسلام( ف) کے درمیان انتخابی اتحاد کے نتیجے میں ضلع پشاور کے ناظم منتخب ہوئے تھے ۔ وہ ایک بار سینیٹ میں بھی پارٹی کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ دسمبر 2021کے بلدیاتی انتخابات میں انکے بیٹے زبیر علی پشاور کے میئر کے طور پر منتخب ہوئے ہیں ۔ پشاور کی سطح پر بلدیاتی انتخابات میں جمیعت العلما اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان اتحادہوا تھا۔ کم تعلیم یافتہ اور کمزور سیاسی منظر کے باوجود حاجی غلام علی کا شمار انتہائی تیز بولڈ اور متحرک سیاسی رہنماووں میں ہوتا ہے 2005کے بلدیاتی انتخابات کے بعد بحیثیت ضلعی ناظم انہوں نے گورنر ہاوس پشاور کی دیوار کو مسمار کرکے سنہری مسجد روڈ کو توسیع کر دی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر کے حیثیت سے وہ وزیر اعلی محمود خان، پاکستان تحریک انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعلقات کس طرح رکھتے ہیں۔