وزارت داخلہ کا صوبوں کو انتباہ 

 وزارت داخلہ کا صوبوں کو انتباہ 

وفاقی وزارت داخلہ نے ایک خط کے ذریعے چاروں صوبوں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتظامی عہدیداروں کو سرحد پار افغانستان میں روپوش طالبان شدت پسندوں کے ملک کے مختلف علاقوں میں پرتشدد کارروائیوں کے منصوبہ بندی کے اطلاعات موصول کے بعد امن و امان قائم رکھنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ھدایت کی ھے ۔ وفاقی وزارت داخلہ کے خط کے مطابق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوں کے ساتھ اہم کمانڈروں نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں صلاح مشورے کے بعد پر تشدد کاروائیوں کے لئے وفود تشکیل کرکے روانہ کردئیے ہیں۔ جبکہ ایک روز قبل کالعدم تنظیم نے ترجمان کے جاری کردہ  بیان میں حکومت پاکستان پر مئی کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی اور مستقل مصالحت کے لئے جاری مذاکرات میں کئے گئے وعدوں اوریقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ملک بھر میں سیکورٹی فورسز' سرکاری املاک اور افراد پر حملوں کی دھمکی دی ھے ۔ در اصل افغانستان میں اگست 2021 کے وسط میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد افغانستان ہی کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی وساطت سے مذاکرات شروع ہوئے ۔ پہلے مرحلے کے مذاکرات کے نتیجے میں طالبان نے ایک مہینے کے لئے یکم نومبر 2021 سے جنگ بندی کرکے نو دسمبر کو اسکے توڑنے کا اعلان کر دیا ۔ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد طالبان نے ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں پر تشدد کاروائیاں شروع کردیں جس میں سینکڑوں بے گناہ افراد کو لقمہ اجل بنا دیا گیا جبکہ اربوں روپے مالیت کے املاک کو بھی تباہ کر دیا گیا ۔ اس دوران ریاستی اداروں نے روایتی جرگوں کے ذریعے مفاہمت کے لئے کافی کوششیں کی ۔ تاہم اپریل 2022 کے اواخر میں یہ کوششیں بار اور ثابت ہوئی جس پر ملک بھر کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس دوران ریاستی اداروں نے سرحد پار افغانستان میں روپوش کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماووں کے ساتھ افغانستان کے حکمران طالبان کے دھڑے حقانی نیٹ ورک کے ذریعے مذاکرات جاری رکھے اور ان مذاکرات کو آگے لے جانے اور طالبان کے مطالبات جاننے اور اس پر مذاکرات کرنے کے لئے ایک پچاس رکنی وفد جون کے اوائل میں کابل چلا گیا تھا۔ جبکہ اس وفد سے قبل پشاور کے سابق کور کمانڈر نے بھی اعلی عہدیداروں کے ہمراہ کابل جاکر طالبان کمانڈروں سے دو دن تک مذاکرات کیے تھے ۔ اس مذاکراتی عمل سے سیاسی قیادت تو باخبر تھی مگر اسکے خدوخال سے مکمل طور پر لاعلم ۔ تاہم جون کے تیسرے ہفتے میں پارلیمنٹ کی اعلی سطحی قومی سلامتی کمیٹی نے متعلقہ عہدیداروں کو بلاکر واضح الفاظ میں تمام تر مذاکرات اور مفاہمت کو آئین کے دائرہ کار کے مطابق یقینی بنانے پر زور دیا اور طالبان نے بظاہر خاموشی اختیار کرکے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا مگر پھر بھی اس سلسلے کو جاری رکھاگیا ۔ بہر حال یکم اگست کو کابل میں ہونے والے مبینہ امریکی ڈرون حملے اور اگست کے دوسرے ھفتے کے اوائل میں وادی سوات کے تحصیل مٹہ میں عسکریت پسندوں کے منظر عام پر آنے کے باعث مذاکرات کا سلسلہ معطل ہوگیا ۔ دونوں جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کے برقرار رھنے کے باوجود دہشت گردی اور تشدد کے واقعات نے عام لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے ۔ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں عسکریت پسندی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ مگر اس دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں بالخصوص خیبر پختونخوا حکومت کی خاموشی انتہائی معنی خیز ھے ۔ پولیس حکام کا کہنا ھے کہ انہیں طالبان کی سرگرمیوں پر آنکھیں بند کرنے کے احکامات ملے ہیں جبکہ مقتدر اداروں ذمہ داران نے بھی خاموشی پر اکتفا کیا ہے۔ ان حالات میں ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی خصوصی قومی سلامتی کمیٹی کے ممبران پر عائد ہوتی ھے کہ وہ سامنے آئیں اور اس اہم اور نازک موڑ پرعوام کی رہنمائی فرمائے ۔