محسن پاکستان سے محسن پاکستان تک 

محسن پاکستان سے محسن پاکستان تک 

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما

اللہ بخشے ڈاکٹر عبدالقدیر خان یوسف زئی ثم بھوپالی۔ انہوں نے ہمیں یہ احساس اور بھرپور اعتماد کا سامان فراہم کیا کہ اگر ہمارے گھر کے درودیوار پر کوئی بری نظر ڈالے تو ہم اسے اس بدنیتی اور خبیث ارادے کا مزہ چھکا دیں۔ کیوں اور کیسے اس پر بھی بات ہو گی فی الحال ہم ان سے اپنی ایک نسبت بتانا چاہتے ہیں۔ ان کا تعلق بھوپال سے تھا جو سنٹرل انڈیا میں ایک پشتون اسلامی ریاست تھی اب مدھیہ پردیش میں واقع ہے۔ اور ہم بھی پورے نہیں تو نیم بھو پالی ضرور ہیں یہ الگ بات ہے کہ ہمارے دوست عبدالحمید زاہد نے ہمیں اپنی ایک تحریر میں بھوپال کا شہزادہ کہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی ایک گفتگو میں اعتراف کیا ہے ہم یوسفزئی پختون ہیں اور ان کے آباؤ اجداد کوئی تین سو سال پہلے اس علاقے (پختون خواہ) سے نقل مکانی کر کے بھوپال گئے اور پھر وہاں کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ہمارا بھی یہی قبیلہ ہے اور ہمارے نانا بیسویں صدی کے اوائل میں غزنی سے نقل مکانی کر کے اپنے چھ بھائیوں کے ساتھ بھوپال گئے اور وہاں بس گئے۔ بتاتے چلیں کہ بھوپال کے بانی دوست محمد خان اورکزئی تھے جو اٹھارہویں صدی میں اپنے علاقے تیراہ سے روزگار کی تلاش میں ہندوستان گئے اور اورنگزیب کے لشکر میں ایک سپاہی کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ اس کے بعد مختلف ریاستوں کی فوج میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور آخرکار ایک پشتون ریاست بھوپال کی بنیاد رکھی۔ یہ ریاست 1947 تک قائم رہی۔ اس نسبت سے ہماری اماں کا تعلق بھوپال سے تھا اور ہمارا بچپن بھوپال کی ٹھنڈی سڑک اور گھوڑا نخاس کی گلیوں میں بسر ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کا خاندان1949  میں پاکستان آیا اور ہم بھی ابا کی انگلی پکڑے اسی سال اپنے گاؤں بغدادا میں وارد ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان  نے اپنی گراں قدر خدمات کے عوض قوم سے محسن پاکستان کا خطاب پایا اور ہم ٹھن ٹھن گوپال بنے بھوپال کا شہزادہ کہلائے۔ لو جی نسبتیں ہو گئیں مشخص چار۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہالینڈ اور بلجئیم سے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر پاکستان آئے، نہایت ہی نامساعد حالات میں اور محدود وسائل کے باوجود مختصر عرصے میں ایٹم بم بنانے کی قوت حاصل کر لی۔ وہ ایک پرآسائش  ملازمت چھوڑ کر پاکستان آئے تھے اور یہاں کہوٹہ کے مقام پر ریسرچ انجینئرنگ لیبارٹری میں صرف تین ہزار روپے ماہانہ پر کام شروع کیا، پہلے چھ ماہ انہیں کوئی تنخواہ نہیں  ملی۔ جنرل ضیا الحق نے بعد میں اسے ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹری کا نام دیا۔ یہ محسن پاکستان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو جاری اور مستحکم رکھنے میں ذوالفقار علی بھٹو، ضیا الحق، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف تک سب نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور آخرکار انڈیا کے دھماکوں کے جواب میں پانچ دھماکے کر کے پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ ہمارے بعض دانشور کہتے ہیں کہ بھائی ہم تو ایٹمی دوڑ کے خلاف ہیں۔ وہ تو ہم بھی ہیں اور ہر امن پسند ملک اس قسم کی دوڑ کو ناپسند کرتا ہے، اب کیا کریں اگر ہم کو اپنی حفاظت کے لیے ایٹم بم بنانا پڑا تو یہ ہماری مجبوری تھی کسی عیاشی کا مظاہرہ نہ تھا مگر ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فوجی مقاصد کی تکمیل تھی۔ حضور! جب آپ کا ایٹمی قوت کے حامل ایک ایسے ہمسایہ سے پالا پڑا ہو جو سرے سے آپ کے وجود کو ہی برداشت نہ کرتا ہو تو پھر کیا ایسے ہمسایہ کو ان کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پھولوں کے گلدستے پیش کیے جائیں؟ یہ اصولاً ایک درست بات ہے کہ دنیا کی کسی قوم کو کو بھی ایٹمی دوڑ سے احتراز ضروری ہے مگر اس کا مشورہ صرف پاکستان کے لیے کیوں۔ دنیا کی دوسری بڑی قوتوں کو بھی یہ مشورہ دینا چاہیے کہ بقائے باہمی کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ایٹم بموں کو ضائع کر دو۔ ایٹمی دوڑ کے خیال ترک کر دو مگر صرف ہم پر ہی تو یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر ہمیں افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ شخصیت جسے قوم محسن پاکستان  سمجھتی ہے کم و بیش گزشتہ20  سال سے اسے شدید ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا گیا۔ سابقہ آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے اپنی یادداشتوں اقتدار کی مجبوریاں میں محسن پاکستان کی اذیت ناک زندگی کی نقل وحمل پر پابندی اور زباں بندی کو پرویز مشرف کی بزدلی قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مشیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے منصب پر فائز تھے کہ اچانک ایک بیرونی طاقت نے ان پر 2003 میں یورینیم دیگر ممالک کو فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے۔ پرویز مشرف نے ان پر دباؤ ڈالتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن پر ان سے معذرت کروائی۔ ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور انہیں گھر پر نظر بند کر دیا گیا۔ مشرف دور میں وہ تمام عرصہ گھر پر نظر بند رہے۔ اس کے بعد اگرچہ صورتحال تو بدل گئی تاہم وہ بدستور پابندیوں کا شکار رہے۔ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ملک ان کے لیے جیل خانہ بنا دیا گیا تھا، انہوں نے اس رواں سال سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا، دو سال قبل اپنی درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ میری نقل و حرکت محدود کر دی گی ہے۔ مجھے تعلیمی اداروں میں جانے اور وہاں لیکچر دینے کی اجازت دی جائے، انہوں نے اپنی درخواست میں یہ صراحت  بھی کی کہ جب میں نیوکلیئر پروگرام اور ایٹم بم بنانے میں مصروف تھا اس وقت نہ تو میرے ساتھ محافظ ہوتے تھے اور نہ بندوقیں۔ اب میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، چلنا پھرنا مشکل ہے۔ میں اپنے ملک میں ہی ہوں باہر جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ میں جان دے دوں گا کھبی ملک سے غداری نہیں کروں گا لیکن میں ایک عام پاکستانی کی طرح اپنی بقیہ زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں۔ لگتا ہے انہیں سیاسی اور سائنسی موضوعات پر گفتگو کی اجازت نہ تھی اور وہ صرف اپنی یادداشتوں اور دینی موضوعات پر کالموں میں اظہار خیال کرتے رہے۔ سچ بات ہے کہ ذہنی طور پر غلام قوموں کے حکمرانوں کی جانب سے اپنے محسنوں سے یہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ محسن پاکستان عبدالقدیر خان کی عظمت سے انکار نہیں اور انہوں نے پاکستان کو دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنا کر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا بلکہ تاقیامت وہ ایٹمی دنیا کے ایک عظیم ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے ۔