بیگم نسیم ولی خان: مور بی بی کو ہم سے بچھڑے اک سال بیت گیا

بیگم نسیم ولی خان: مور بی بی کو ہم سے بچھڑے اک سال بیت گیا

     تحریر: خالد مہمند

گزشتہ سال 15 مئی کو عالمی شہرت یافتہ پشتون سیاستدان خان عبدالولی خان کی بیوہ، عوامی نیشنل پارٹی کی سابق صدر اور مور بی بی کے نام سے مشہور بیگم نسیم ولی خان طویل علالت کے بعد85  سال کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں، مرحومہ اپنے آبائی گاؤں ضلع چارسدہ کے ولی باغ میں اپنے شوہر ولی خان کے پہلو میں آسودہخاک ہوئیں۔ ان کی نماز جنازہ میں خیبر پختونخواہ کی سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات، سول سوسائٹی اور صحافیوں سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی تھی۔ قوم پرست سیاست میں ایک اہم رول ادا کرنے والی مرحومہ بیگم نسیم ولی خان  کچھ عرصہ سے عارضہ شوگر اور بلڈپریشر سمیت دیگر امراض میں مبتلا تھیں جس کے سبب وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ ان کی وفات پر عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور پارٹی کے ہر قسم سرگرمیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 

 

بیگم نسیم ولی خان کون تھیں؟

بیگم نسیم ولی خان عبدالغفار خان عرف باچا خان کی قریبی سیاسی ساتھی تھیں اور ان کی خدائی خدمتگار تحریک میں ایک فعال کردار ادا کر چکی ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے بانی صدر اور رہبرتحریک خان عبدالولی خان کی بیوہ بیگم نسیم ولی خان 24 جنوری1936  کو خدائی خدمتگار تحریک کے اہم رکن اور سابق وزیراعلی خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی کے دادا امیر محمد خان ہوتی کے ہاں مردان پار ہوتی میں پیدا ہوئیں۔ وہ خان عبدالولی خان کی دوسری اہلیہ تھیں، جب نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خان عبدالولی خان کی پہلی بیوی تاجو بی بی وفات پا گئیں تو مرحومہ نسیم کے والد امیر محمد خان ہوتی نے ولی خان کے بچوں کی کفالت کی خاطر ان کی شادی ولی خان سے کرا دی۔ دونوں1954  میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔
سیاست کے میدان میں کیسے آئیں؟

 

ابتدا میں تعلیم کی طرح سیاست میں بھی آنے پر ان کی مخالفت کی گئی۔ خاندان کے مردوں کی طرح کئی خواتین بھی ان کی سیاست میں آنے کی حامی نہ تھیں، مگر یہاں بھی انہوں نے اپنا لوہا منوایا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی ہمت اور بہادری کو دیکھتے ہوئے پشتون سٹوڈنٹ فیڈریشن نے انہیں مور بی بی کا خطاب دیا۔
بیگم نسیم ولی خان کی سیاسی زندگی اور جدوجہد پر بات کرتے ہوئے باچا خان ٹرسٹ کے کلچر ڈائریکٹر ڈاکٹر خادم حسین کا کہنا تھا کہ ان کی وفات نے قوم پرست سیاست میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے جس کا ازالہ شائد ہی ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ بیگم نسیم ولی خان عرف مور بی بی نے اس وقت سیاسی میدان میں قدم رکھا جب 1975 میں رہبرتحریک خان عبدالولی خان کو وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں جعلی مقدمات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا بلکہ ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی بھی لگا دی تھی۔ ''اس وقت بلوچستان کی حکومت کو زبردستی ختم کروایا گیا اور پشتونوں کی پوری سیاسی قیادت کو جیل بھیج دیا گیا۔ مرحومہ ایک طرف سخت ریاستی دباؤ اور دوسری طرف قدامت پسند معاشرے کا مقابلہ کر رہی تھیں اور اسی جدوجہد کے نتیجے میں قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے پشتون قیادت کو جیلوں سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں، مرحومہ برصغیر کی پہلی خاتون تھیں جو اپنی جدوجہد کے ذریعے براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر رکن قومی اسمبلی بنیں اور چار مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔''

 

باچا خان ٹرسٹ کے کلچر ڈائریکٹر نے بتایا، ''بیگم نسیم ولی خان نے اپنی سیاست سے احساسات اور شعوری پابندیوں کے بندھن کو توڑ ڈالا جس کے بعد کئی خواتین سیاست کے میدان میں آئیں جو آج سیاسی جماعتوں میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔'' انہیں خیبر  پختونخوا کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ  کا اعزاز  بھی حاصل ہے۔ پارلیمانی انتخابات میں پہلی بار انہوں نے 1977 میں حصہ لیا اور ایک کی بجائے قومی اسمبلی کے دو حلقوں پر باقاعدہ انتخاب لڑ کر منتخب ہوئیں لیکن مارشل لاء لگنے کے باعث وہ انتخابات ہی کالعدم قرار پائے۔ اس کے بعد 1988 میں چارسدہ پی ایف13  سے حصہ لیا اور خیبر پختونخوا (اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے) اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں، اسی طرح اسی حلقے سے 1990 اور 1993 میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئیں۔ پھر دوبارہ1997  میں پی ایف15  چارسدہ سے صوبے کی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ وہ چار مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی پارلیمانی لیڈر بھی رہی ہیں۔ بیگم نسیم ولی خان 1990 اور 1997 کے دوران صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی رہی ہیں۔ علاوہ ازیں وہ دو بار پارٹی کی صوبائی صدر بھی رہ چکی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بیگم نسیم ولی خان نے سیاسی اختلافات کی بنیاد پر عوامی نیشنل پارٹی ولی کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی لیکن پھر جرگوں کے ذریعے اس پارٹی کو ختم کر دیا گیا۔

 

کارکردگی اور خدمات

''مور بی بی'' نے ایک ایسے وقت  میں پارٹی کا کنٹرول سنبھالا جب ذوالفقارعلی بھٹو کے بنائے ہوئے حیدرآباد ٹریبونل کیس نیشنل عوامی پارٹی کی پہلی اور دوسری صف کی قیادت جیل میں تھی اور سیاست کی خالی گدی سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے سیاسی گدی بھی سنبھالی اور اس نام نہاد کیس کا نہ صرف مقابلہ کیا بلکہ سیاسی قیادت کا خلا بھی پر کیا۔ بیگم نسیم ولی خان کی کوششوں ہی کی وجہ سے حیدرآباد سازش کیس ختم کیا گیا اور کامیاب پیروی پر اس کیس میں نامزد تمام ملزمان کو باعزت بری کر دیا گیا۔ حیدرآباد سازش کیس کے نازک موڑ پر سیاست میں قدم رکھنے والی بیگم نسیم ولی خان نے ان تمام مفروضوں کو غلط ثابت کیا کہ پشتون معاشرے میں صرف مرد ہی پاکستانی سیاست میں قیادت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اسی دوران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی جس کیلئے اس وقت کے قید رہنماؤں خان عبدالولی خان اور سردار شیرباز مزاری سے بھی مشاورت کی گئی۔ اسی تحریک کی وجہ سے نیشنل عوامی پارٹی کے اسیر رہنماؤں کو رہائی ملی اور ملک بھر میں کارکنان کو منظم کیا گیا۔ 

 

سال1993  میں جب حکومت بننے جا رہی تھی تو اے این پی کی صوبائی اسمبلی کے تیئس ممبران تھے، اور مسلم لیگ کے 15 ممبران کامیاب ہوئے تھے۔ جس پر نواز شریف نے انہیں دعوت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے ابھی تک کسی خاتون کو وزیراعلی نہیں دیکھا ہے، ہم نے خاتون وزیراعظم تو دیکھ لیں اب خاتون وزیراعلی بھی ہونی چاہئیں۔ اس موقع پر نواز شریف نے بیگم نسیم ولی خان کو مخاطب کیا اور کہا کہ آپ ہی ہماری وزیراعلی ہوں گی، جس پر بیگم نسیم ولی نے کہا کہ میری سیاست کرسی کیلئے نہیں ہے، عوام کی خدمت کیلئے ہے، وزارت اعلی کا عہدہ آپ کو مبارک ہو۔ جس کے بعد پیر صابر شاہ کو وزیراعلی بنایا گیا۔ ان کی یہی سیاسی جدوجہد، خدمات اور مضبوط اعصاب تھے کہ انہیں آئرن لیڈی کا خطاب ملا۔ وہ ایک ایسے وقت میں سیاست میں نکلیں کہ کوئی دوسری خاتون ان کے خاندان سے سیاست میں نہیں آئی تھی۔ باقی دیگر پارٹی رکن اور رشتے دار اس وقت حیدر آباد جیل میں قید میں تھے۔

 

ان کے بارے میں اکثر اس وقت کے وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کہ کاش میں نے ولی خان صاحب کی جگہ بیگم نسیم ولی خان کو گرفتار کیا ہوتا۔ اس دور میں عوامی جہدوجہد اور سیاسی تحریک کو عروج تک پہنچانے میں بیگم نسیم ولی کا کردار سب سے نمایاں ہے جو کبھی فراموش نہیں ہو گا۔ وہ فیصلے کرنے میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھیں۔ جب کوئی سیاسی معاملہ ہوتا تھا تو منٹوں میں اس کا حل تلاش کر لیا کرتی تھیں، فیصلہ کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتی تھیں۔ انہیں جھوٹ اور منافقت سے شدید چڑ تھی۔ جو لوگ جھوٹ بولتے تھے یا کچھ غلط کرتے تھے وہ انہیں طریقے سے سمجھاتی تھیں اور بار بار نصحت کرتی تھیں، نہ ایسے لوگوں کو پسند کرتی تھیں اور نہ ان کی حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ وہ لوگوں کو سچ اور حق بات کہنے کی جانب راغب کرتی تھیں۔

 

خیبر پختونخوا کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ  کا اعزاز

انہیں خیبر پختونخوا کی پہلی منتخب رکن پارلیمنٹ  کا اعزاز بھی حاصل ہے۔1977  میں پشاور اور مردان کے قومی اسمبلی (این اے4  اور این اے 8) کے حلقوں پر بیک وقت رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تاہم انہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف نہیں اٹھایا کیونکہ اس وقت این ڈی پی کی تحریک زوروں پر تھی اور مارشل لا نافذ کیا گیا تھا۔ 1986 میں اے این پی کی بنیاد رکھی گئی تو خان عبدالولی خان مرکزی صدر جبکہ افضل خان لالا صوبائی صدر منتخب ہوئے۔ 1994 میں وہ پہلی بار عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کی صدر منتخب ہوئیں۔ 1998 میں ایک بار پھر صوبائی صدر منتخب کر دی گئیں۔

پاکستانی سیاست میں شروع ہی سے مردوں کا غلبہ رہا ہے، یا یوں کہیں کہ اسے مردوں سے زیادہ اور خواتین سے کم منسوب کیا گیا، تاہم مرحومہ بیگم نسیم ولی خان ایک ایسی شخصت تھیں جنہوں نے ایک ایسے وقت میں سیاست میں قدم رکھا جب خواتین کیلئے تعلیم بھی مکمل کرنا ایک کھٹن مرحلہ ہوتا تھا۔

 

شفیق شخصیت

بیگم نسیم ولی خان نے اپنی ہمت اور جدوجہد سے اپنا ایک الگ مقام بنایا، جو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کی سیاست بے شک ایک صوبے تک محدود رہی تاہم انہوں نے خواتین کے سیاست میں آنے کیلئے ایک نئی راہ متعین کی۔ سیاسی معاملات سے ہٹ کر بات کی جائے تو وہ بہت شفیق، انتہائی پیار کرنے والی ماں تھیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی یاد رکھتی تھیں۔ اگر آپ ان کا خیال رکھتے تو وہ آپ کا ڈبل خیال رکھتی تھیں۔
ابتدائی دور

 

انہوں نے مخلوط تعلیمی نظام سے اپنا سلسلہ شروع کیا اور بعد ازاں مردان کے سیکنڈر اسکول میں داخلہ لیا، تاہم8 ویں جماعت کے بعد ان کے گھر والے ان کے تعلیمی سلسلے کو آگے بڑھانے کے حامی نہ تھے، جس کی کئی وجوہات تھیں۔ امیر محمد خان باچا خان کے سچے پیروکار تھے اور وہ ان کی تعلیم کے حامی تھے۔
گھر والوں کی مخالفت کے باوجود بیگم نسیم نے سب سے چھپ کے تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اس کے میٹرک کے امتحان کا علم گھر والوں کو اخبار میں نتیجے آنے پر ہوا۔ میٹرک کے امتحان کی ان کو اس لئے اجازت نہیں ملی کیوں کہ امتحان بوائز اسکول میں دینا تھا۔ ولی خان سے شادی کے بعد انہوں نے پشاور یونی ورسٹی کے ہوم اکنامکس کالج میں داخلہ لیا۔

 

گھریلو زندگی

سیاسی سرگرمیوں کے باوجود وہ گھر کو بھی مکمل وقت دیا کرتی تھیں۔ کھانے پینے کی چیزوں میں وہ سادہ کھانا زیادہ کھاتی تھیں جیسے ساگ، سبزی، سالن، وہ مٹن کی بھی شوقین تھیں مگر زیادہ تر اپنے گھر کی کیٹر کی سبزیاں کھاتی تھیں۔ گھر میں ان کے سب سے قریب ان کی ایک بیٹی گلالئی تھی مگر سنگین ولی خان سے انہیں زیادہ لگاؤ تھا۔ سنگین ولی خان کے 2008 میں انتقال نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا اور وہ بیمار رہنے لگیں۔ سیاست سے تو وہ3  سال قبل ہی دور ہو گئی تھیں، تاہم بیٹے کی جدائی نے انہیں غم لگا دیا اور دن بدن ان کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ انہیں گھومنے پھرنے کا بھی بہت شوق تھا اور وہ مرحوم ولی خان کے ہمراہ یورپ، کابل، لندن وغیرہ بھی گئیں جب کہ سوات کے علاقے مدین میں بھی ان کا گھر ہے جہاں وہ اکثر قیام کیا کرتی تھیں۔

 

بیٹے کی جدائی

شوہر کی جدائی اور انتقال کے بعد ان کی مصروفیات کافی عرصے محدود رہیں۔ شوہر کی جدائی نے انہیں بس گھر تک محدود کر دیا تھا جہاں وہ اخبار پڑھتیں یا ٹی وی پر حالات حاضرہ کے پروگرامز دیکھتی تھیں۔ مرحومہ بیگم نسیم ولی پہلے کی سیاست اور اب کی سیاست میں بہت فرق رکھتی تھیں۔ ان کے نزدیک پہلے کی سیاست اور سیاست کرنے والے نظریاتی اور مخلص لوگ ہوا کرتے تھے۔

 

سیاست یا کاروبار

موجودہ سیاست پر مرحومہ کا ماننا تھا کہ آج کل کی سیاست کاروبار سے زیادہ نہیں، آج کل کے سیاست دانوں نے اسے کاروبار سے باندھا ہوا ہے جہاں سب کو اپنی پڑی ہے۔ آج کل نظریاتی لوگ کم نہیں بلکہ ختم ہو گئے ہیں تاہم سوشل میڈیا پر لوگوں کے اظہار خیال کو پسند کرتی تھیں، ان کا ماننا تھا کہ سوشل میڈیا ایسے لوگوں کی جگہ ہے جو اپنی آواز یا اپنے مسائل میڈیا اور دنیا کے سامنے لانا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے لوگوں کیلئے بہترین ذریعہ ہے جس سے انہیں میڈیا تک رسائی مل سکتی ہے۔ وہ ایسی شخصیت تھیں کہ دورِ حاضر اور ماضی قریب میں پاکستان کیا دنیا بھر میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔

 

تین روزہ سوگ کا اعلان

سابق صوبائی صدر بیگم نسیم ولی خان کی وفات پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے صوبہ بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، صوبہ بھر میں پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں معطل اور پارٹی پرچم سرنگوں رہا۔ پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ مور بی بی بیگم نسیم ولی خان سیاست میں مزاحمت کا استعارہ تھیں، خواتین کی سیاست میں شمولیت کے لئے ان کا کردار تاریخ کا ایک روشن باب ہے، جن مشکل حالات میں انہوں نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی تھی اس کی نظیر نہیں ملتی، ان کی وفات سے پاکستان کی سیاست میں پیدا ہونے والا خلا بمشکل پورا ہو گا۔