''نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر

''نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر

تحریر: ہدایت ساغر 

باچاخان بابا چارسدہ اور صوابی کے بعد بونیر کو خصوصی اہمیت دیتے تھے اور یہی محبت اور چاہ  ولی بابا اور اسفندیار خان صاحب بھی دیا کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ پارٹی کا گراف بڑھتا جاتا تھا، کارکن پارٹی سے نہایت مخلص تھے، کٹنے مرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے تھے، کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرتے تھے مگر2008  کے الیکشن میں جب عوامی نیشنل پارٹی نے بونیر میں کلین سویپ کیا تو پارٹی ورکر بڑے خوش تھے، ہر طرف جشن کا سماں تھا مگر اقتدار میں آ کر اکثر بڑے بڑے نامور ایسے گم ہو جاتے ہیں کہ پھر پلٹ کر واپس نہیں مڑتے کہ پیچھے کون ہیں، یہی زیادتی پارٹی ورکرز کے ساتھ بھی ہوئی کہ دن رات اس نے پارٹی کو کامیاب کروانے کیلئے جہدوجہد کی مگر اس کے منتحب نمائندوں نے اسے مایوس کیا، نظریاتی ورکرز کو نظر انداز کر دیا گیا اور مفاد پرست ٹولے کو اہمیت دی گئی جس سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچا حالانکہ اتنی بھرپور قوت کا کم ازکم فائدہ اٹھانا چاہئے تھا مگر اٹھایا نہیں گیا، کاموں میں بھی عام ورکر نظر انداز ہوئے۔ ایسا نہیں تھا کہ کام نہیں ہوئے، کام ہوئے مگر انفرادیت کو ترجیح دی گئی تبھی ورکر مایوسی کا شکار ہو کر گھر بیٹھ گیا۔ اس موقع کا فائدہ سیاسی مخالفین نے اٹھایا اور ہمارے ناراض کارکنوں کے کان بھرے جس سے وہ اور بھی دلبرداشتہ ہو گئے اور جب2013  میں عام الیکشن ہوئے تو ماسوائے سردار بابک کے بونیر میں پوزیشن کمزور رہی اور ووٹ بھی پارٹی کو کم پڑے۔ یہ ایک طرح سے ورکر کا انتقام تھا جو وہ لے رہے تھے تاکہ ان کے امیدواروں کی اصلاح ہو سکے۔ آگے چل کر2018  کے الیکشن میں بھی کم وبیش یہی صورتحال رہی۔ ان آٹھ دس سالوں میں پارٹی اپنے بکھرے ورکرز کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہی۔ اس میں دوسرے سیاسی جماعتوں کا کوئی کردار نہ تھا بلکہ اپنوں کی ستم ظریفی شامل تھی۔ بقول شاعر، اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔۔ اس درمیانے عرصے میں  ملی مشر اسفندیار خان اور امیر حیدر خان ہوتی نے بونیر کے دورے بھی کئے اور بڑے بڑے اجتماعات منعقد کئے مگر پھر بھی ورکر مطمئن نہ ہوا۔ بونیر میں بلند پرواز بھرنے کیلئے پارٹی رہنماؤں کو باچا خان کا رویہ، ان کا انداز اپنانا ہو گا، ان کے جیسی روش اپنانا ہو گی، عام ورکروں میں گھل ملنا ہو گا، ان کے جیسا مثالی کردار ادا کرنا ہو گا۔ جب باچا خان بونیر کے دورے پر تھے تو کلیاڑی گاؤں تک جانے کیلئے خوڑ کو عبور کرنا تھا تو باچا خان بابا کے ساتھیوں میں ایک غریب ورکر جو سالار تھا جس کا نام نجو بٹھیار تھا اور جس کا تعلق صوابی سے تھا اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے، باچا خان نے اسکو جوتے اتارنے سے منع کیا اور اپنے کندھوں پر اس کو لاد کر خوڑ عبور کروایا۔ اگر اس طرح کا کردار ادا کرنے والا کوئی رہنماء آ جائے تو پارٹی کی مقبولیت کا گراف یک دم انتہا کو پہنچ جائے گا، اس کے لئے اپنے خول سے نکلنا ہو گا اور باچا خان بابا کی طرح ورکر کے دکھ درد کو کندھا دینا ہو گا۔ اگر ایسا کوئی پیدا ہوا تو پھر منزل ہماری مگر کہاں ڈھونڈیں باچا خان کو، وہ تو شہر خموشاں کے باسی بن گئے ہیں۔ اگر کوئی ایسا کردار پیدا نہ ہوا تو پھر پارٹی ساکت رہے گی اور ہماری آوازیں صدا بہ صحرا ثابت ہو گی اور یوں پارٹی قیادت سر دھنتی رہی گی۔ بقول ناصر کاظمی،
نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر 
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی