ناز نہیں، قوم شہداء کے خون کا حساب مانگتی ہے

ناز نہیں، قوم شہداء کے خون کا حساب مانگتی ہے

اس حقیقت سے اختلاف ممکن نہیں کہ آج اس بدنصیب ملک کے بدقسمت عوام کی ایک واضح اکثریت پرشان حالی اور ایک انجانے خوف کا شکار ہے، اور اس خوف کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور سب سے بڑھ کر عدم تحفظ کا احساس ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ، بدقسمتی سے، اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آج ملکِ عزیز کا ہر دوسرا تیسرا شہری سیاسی، معاشی، سماجی یہاں تک کہ ذہنی و جسمانی حوالے سے بھی خود کو غیرمحفوظ تصور کر رہا ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ملک کا ہر دوسرا شہری خوف زدہ و دہشت زدہ ہے تو بے جا نا ہو گا۔ اور ایسا کیوں نا ہو کہ ایک طرف کورونا وائرس کی عالمی وباء اور اس کی وجہ سے عائد طرح طرح کی پابندیوں نے شہریوں کو شدید قسم کے خطرات اور مشکلات سے دوچار کر دیا ہے؛ جنہیں کورونا ٹیسٹ، سرٹیفکیٹ اور نجانے کن کن ناموں پر دونوں ہاتھ سے لوٹا ہی نہیں جا رہا ہے بلکہ انہیں بری طرح سے ذلیل و خوار بھی کیا  جا رہا ہے، شہری ملک میں جاری کورونا ویکسینیشن کی مہم کے حوالے سے بھی خدشات و تحفظات ظاہر کر رہے ہیں اور انہیں یہ سوال تنگ کر رہا ہے کہ عوام کو بھوکوں مارنے پر تلی حکومت ان کی صحت کے غم میں کیوں پگھلے جا رہی ہے، مہنگائی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے قوم الگ پریشان ہے، تو دوسری جانب ملک میں بالعموم اور باالخصوص وزیرستان اور بلوچستان میں تیزی سے رونما ہوتے دہشت گردی کے واقعات نے بھی رہی سہی کسر پوری کر کے رکھ دی ہے جہاں سیکیورٹی فوسرز پر حملے روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں تو جنوبی و شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے واقعات میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن افسوس کہ حکومتی سطح پر ان واقعات کے سدباب یا روک  تھام کے لئے کسی بھی قسم کے ٹھوس اقدامات تو درکنار اس حوالے سے کوئی پالیسی  بیان بھی نہیں دیا جا رہا بلکہ اکثر و بیشتر مذمتی بیانات کے اجراء پر اکتفاء کر کے خود کو بری الذمہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سیکیورٹی معاملات سے تبدیلی سرکار نے خود کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر کے رکھا ہوا ہے بلکہ گمان اغلب یہی ہے کہ جن عناصر کو موجودہ حکومت افغانستان میں ہیرو بن کر پیش کر رہی ہے اور عالمی برادری پر انہیں تسلیم کرنے اور ان کی ہر طرح کی امداد کرنے پر زور دے رہی ہے، وہی عناصر نام یا لیبل بدل کر ملک عزیز میں افراتفری پھیلانے کے درپے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے باوجود یہ دہشت گرد کہاں سے آتے اور وار کر کے کہاں چلے جاتے ہیں؟ لیکن افسوس کہ حکومت یا دیگر متعلقہ ادارے اس سوال کا جواب دینے کی بجائے روایتی قسم کے بیانات جاری کر کے قوم کو اندھیرے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بدھ کو جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں سات جوانوں کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں لیکن اس صوبے کے اعلی ترین عہدیدار اس پر غم و غصے کے اظہار کے علاوہ اور کچھ کر سکے نا ہی کرنے کا ارادہ یا بہ الفاظ دیگر اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ اس اندوہناک موقع پر بھی اپنی روایتی چرب زبانی سے باز نہیں آتے، جن کے نزدیک وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے جوانوں پر پوری قوم کو ناز ہے۔ وزیر داخلہ کو خبر ہونی چاہیے کہ قوم اپنے شہداء کی قربانیوں پر فخر یا ناز سے زیادہ غم و غصے کا شکار ہے اور وہ اپنے شہداء کے خون کا حساب مانگتی ہے کہ زندہ قومیں وطن کی خاطر جان کی قربانی پیش کرنے والوں پر فخر یا ناز کریں، نا کریں لیکن ان کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب ضرور لیتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنے شہداء کے خون کا حساب لیں گے یا قربانیوں اور پھر ان قربانیوں پر نام نہاد 'ناز' و 'فخر' کا یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رکھا جائے گا؟