اندھیروں میں گھری قوم اور بجلی کا بم 

اندھیروں میں گھری قوم اور بجلی کا بم 

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے نومبر 2021 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 30 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی کر دی، نیپرا نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، اضافی وصولی جنوری2022  کے بلوں میں کی جائے گی اور بلوں میں اس اضافے کو الگ ظاہر کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ سے بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر اضافہ کیا جا رہا ہے باوجود اس کے کہ ملک بھر میں بالخصوص خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں بجلی عملاً غائب ہو کر رہ گئی ہے۔ صوبائی دارالحکومت پشاور خصوصاً اس کے مضافات میں بیس بیس، بائیس بائیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے دیگر ضروریات تو ایک طرف لوگ پینے کے صاف پانی اور وضو یا دیگر استعمال کے لئے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ لیکن لوڈشیڈنگ ہی بڑا یا بنیادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طرف اگر بجلی بیس بیس، بلکہ بعض اوقات چوبیس چوبیس گھنٹے غائب رہتی ہے تو دوسری طرف عام اور اوسط درجے کے صارفین کو بھی وہ بل موصول ہوتے ہیں جوان کی بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ گذشتہ روز کے اخبارات میں شائع رپورٹس کے مطابق سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نومبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 4 روپے 33 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی جس پر سماعت کے بعد نیپرا نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب جاری کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ماہ کے لیے بجلی4  روپے74  پیسے فی یونٹ مہنگی کی تھی، نیپرا کے اکیس افسران نے نشاندہی کی تھی کہ ایل این جی کی قلت کی وجہ سے ایک ارب69  کروڑ روپے اور معاشی میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی پر ایک ارب 77 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔ سی پی پی اے کے نمائندے نے وضاحت کی تھی کہ بجلی کی کمپنیوں نے اکتوبر کے لیے 70 کروڑ مربع فٹ یومیہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن مجموعی طور ہر 606 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی گئی۔ نیپرا عہدیداروں کے مطابق اکتوبر کے لیے حوالہ جاتی قیمت میں فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار0.2  فیصد رہنے کا تخمینہ تھا لیکن وہ 11 فیصد رہی اور کوئلے سے بجلی کی پیداوار 25 فیصد رہنے کا تخمینہ تھا جو کوئلے سے چلنے والے کچھ بجلی گھروں بشمول حب پاور کی 6 ماہ سے زائد تک بندش کی وجہ سے 15 فیصد رہی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک طرف بجلی صارفین کے لئے برائے نام دستیاب ہوتی ہے تو دوسری جانب اس کی قیمتوں میں اضافے کا سوال کہاں سے پیدا ہوتا ہے؟ دوسرا اور اس سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ ملک کو قائم ہوئے سات دہائیوں سے زائد کا عرص ہو گیا ہے لیکن بدقسمتی سے آج تلک کوئی ایک بھی حکومت اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نہیں نکال سکی تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری کوئی بھی حکومت یا ذمہ دار اس مسئلے کو سرے سے حل ہی نہں کرنا چاہتا کہ جب یہ مسئلہ حل ہو گا تو وہ سیاست کس چیز پر کریں گے؟ بہرکیف اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ ترقی یافتہ معاشرے توانائی کے شعبہ میں خودکفالت اور مفت فراہمی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں سیاست اور حکومتی اخراجات کے لئے دیگر ذرائع کے ساتھ ساتھ بجلی بھی ایک اہم وسیلہ ہے اور جب تک یہ صورتحال رہے گی ان حالات میں کسی قسم کی بہتری کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔